Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185414
Published : 1/2/2017 19:26

حضرت زینب(س) کی عظمت رہبر انقلاب کی نظر میں:

زینب(س) وہ بہن ہیں جنھوں نے بھائی کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردیا:رہبر انقلاب

ایسی بہن جس نے بھائی کی محبت میں شوہر سے جدائی اختیار کرلی، اپنے خاندان کو چھوڑ دیا اور امام حسین(ع) کے ساتھ چلی گئیں اور تنہا نہیں گئیں بلکہ اپنے بیٹوں، عون و محمد کو ساتھ لے گئیں، اس لئے کہ اگر جان قربان کرنے کی نوبت آئے تو یہ بھی جان قربان کردیں۔


ولایت پورٹل: رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای مدظلہ نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حالات رقم کرتے ہوئے تحریرفرمایا کہ شہزادی نے امام حسین علیہ السلام کی شروع کردہ تحریک کو حسین(ع) بن کر آگے بڑھایا بلکہ لوگوں کو لباس زینب(س) میں حسین(ع) نظر آتے ہیں اور آج کی تحریر اس امر کے متعلق ہے کہ بعد حسین(ع) کبھی شہزادی کے چہرے پر کسی نے اداسی نہیں دیکھی،لہذا اس بیان کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
کربلا کے بعد زینب(س) نے حسین(ع) بن کر تحریک کو آگے بڑھایا:رہبر انقلاب
یہ کوفہ کے سرشناس اور نامی گرامی لوگ تھے یہ امام حسین(ع) کی طرف سے شہید ہوئے، زمین پر گرے مگر امام(ع) کی ویسی حالت نہیں ہوئی جیسی اس غلام کے زمین پر گرنے پر ہوئی،حضرت(ع) نے مسلم بن عوسجہ سے فرمایا:انشاء اللہ خدا سے اجر پاؤگے لیکن اس سیاہ فام غلام( کہ جس کا کوئی نہیں ہے،نہ بیٹا ہے اور نہ خاندان ہے غرض کہ اس پر رونے والا کوئی نہیں ہے) کے پاس آتے ہیں اور ویسے ہی پیش آتے ہیں جیسے اپنے بیٹے علی اکبر(ع) کے ساتھ پیش آئے تھے، ان کے سرہانے بیٹھ گئے، اور ان کے خون بھرے سر کو اپنے زانو پر رکھ لیا،لیکن امام(ع)کو آرام نہیں ملا،پھر سب نے دیکھا کہ حضرت(ع) جھکے اور اپنا رخسار جون کے رخسار پر رکھ دیا،(اللہ اکبر) یہ ایسی انسانی عطوفت ومحبت کا چشمۂ جوشاں ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی،لہٰذا زینب(س) پُرجوش جذبات کی مالک خاتون ہیں، احساسات رکھتی ہیں اس صورت میں آپ ایک معمولی خاتون نہیں ہیں، امام حسین(ع) کی بہن ہیں، ایسی بہن جو امام حسین(ع) کو والہانہ طور پر چاہتی ہیں۔
ایسی بہن جس نے بھائی کی محبت میں شوہر سے جدائی اختیار کرلی، اپنے خاندان کو چھوڑ دیا اور امام حسین(ع) کے ساتھ چلی گئیں اور تنہا نہیں گئیں بلکہ اپنے بیٹوں، عون و محمد کو ساتھ لے گئیں، اس لئے کہ اگر جان قربان کرنے کی نوبت آئے تو یہ بھی جان قربان کردیں، درجہ شہادت پر فائز ہوجائیں،اب آپ غور کیجئے کہ درمیانِ راہ ایک منزل پر زینب(س) نے خطرہ محسوس کیا، امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچیں اور عرض کیا: بھائی! مجھے خطرہ محسوس ہورہا ہے، میں خطرناک حالات دیکھ رہی ہوں بی بی(س) جانتی ہیں کہ شہادت و اسارت (اسیری) کا مسئلہ ہے لیکن بپھرے ہوئے حوادث آپ کو مجبورکردیتے ہیں کہ آپ امام حسین(ع)کی طرف رجوع کرتی ہیں، یہاں امام حسین(ع) آپ سے زیادہ گفتگو نہیں کرتے ہیں،فرماتے ہیں:کوئی بات نہیں ہے،وہی ہوگا جو خدا چاہے گا اس مضمون سے قریب جملہ کہا:« مَا شَاَء اللّٰهُ کَانَ»۔ یعنی جو خدا چاہے گا وہ ہوگا۔ (اصول کافی،ج۲،ص ۵۳۰)۔
اس کے علاوہ ہمیں کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو زینب(س) نے امام حسین(ع) سے کہی ہو یا آپ سے کوئی سوال کیا ہو، اپنے اندر کسی قسم کی گھٹن محسوس کی ہو اور اس کے بارے میں امام حسین(ع) سے کچھ کہا ہو لیکن شب عاشور،اول شب عاشور، اس وقت بھی شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت بھی جناب زینب(س) شدت غم سے بیتاب ہوئی ہیں (اس قصہ کے راوی امام زین العابدین(ع) ہیں، آپ اس وقت بیمار تھے)۔
جاری ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21