Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185437
Published : 2/2/2017 18:12

کیا نبی پر سہو و نسیان طاری ہوسکتا ہے؟(۱)

ایک جانب ان روایات کی کثرت اور دوسری جانب سہو النبی کو ثابت کرنے والی روایات کا اہل سنت کی احادیث کے موافق ہونا اس بات کا موجب ہے کہ سہو النبی کی روایات کو نادرست اورسہو النبی کا انکار کرنے والی روایات کو صحیح تسلیم کیا جائے،اس طرح نبی کے قول یا فعل میں سہو کے امکان کا عقیدہ صحیح نہیں ہے اور اس پر کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:
گذشتہ مطالب سے واضح ہوجاتا ہے کہ انبیاء الٰہی کے بارے میں سہو و نسیان کا تصور بے بنیاد اور غلط ہے خواہ سہو و نسیان گفتار میں ہو یا اعمال میں ،شرعی امور میں ہو یا روز مرہ کے معمولات زندگی میں،اس لئے کہ ان میں سے بعض چیزوں کے بارے میں سہو ونسیان پائے جانے سے پیغام الٰہی کی تبلیغ کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور بعض امور میں سہو و نسیان پائے جانے سے نبوت پرسے اطمینان اور بھروسہ ہی ختم ہو جائے گا جو نبوت کے لئے لازم وضروری ہے فاضل مقداد اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
«ولا یجوز علی النبی السہو مطلقاً ای فی الشرع وغیرہ اما فی الشرع فلجواز ان لا یودی جمیع ما امر به فلا یحصل المقصود من البعثة واما فی غیرہ فانه ینفر عنه»۔(۱)
ترجمہ:نبی کے لئے شریعت اور دیگر امور میں سہو جائز نہیں ہے اس لئے کہ شریعت میں سہو کا مطلب ہوگا کہ ممکن ہے کہ نبی مکمل پیغام الٰہی لوگوں تک نہ پہنچائے اور نتیجہ میں نبوت کا مقصد حاصل نہ ہو سکے گا اور دیگر امور میں سہو نفرت کا سبب ہوگا(اور لوگوں کی نگاہ میں نبی پر اعتماد و اطمینان مخدوش ہو جائے گا)۔
مذکورہ عقیدہ علماء شیعہ کے نزدیک تقریباً متفق علیہ ہے لیکن علماء اہل سنت اور بعض علماء شیعہ نبی کے لئے سہو ونسیان کو جائز قرار دیتے ہیں۔
اس اختلاف کے باعث عقائد کے باب میں ایک مسئلہ «سہو النبی» کے نام سے پایا جا تا ہے،سہو النبی کے طرفدار شیعہ علماء میں معروف ترین نام شیخ صدوق  (رح) کا ہے،شیخ صدوق اس عقیدہ کے اتنی شدت سے قائل ہیں کہ اس کے انکار کو «غلو» سے تعبیر کرتے ہیں،ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جو نماز ظہر کی رکعتوں یا نماز صبح کے قضا ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص)کے سہو سے متعلق ہیں۔(۲)
اگر چہ ان میں بعض روایات سند کے اعتبار سے معتبر اور صحیح ہیں لیکن اکثر شیعہ علماء نے ان پر عمل نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اولا ً تو انبیاء الٰہی کے حق میں سہو و نسیان کا باطل اور غلط ہونا حکم عقل کے  مطابق ہے اورمذکورہ روایات خبر واحد او دلیل ظنی ہیں،دلیل عقلی کے مقابلہ میں ظنی دلیل قابل قبول نہیں ہوتی خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ سہو النبی کا تذکرہ جن روایات میں پایا جاتا ہے وہ روایات اگر چہ فروع دین سے تعلق رکھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ نبی کے اوصاف سے تعلق رکھتا ہے اور نبی کے اوصاف کامسئلہ عقائد کاحصہ ہیں اور عقائد میں دلیل ظنی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اس لئے شہید اول اپنی کتاب«ذکریٰ» میں «ذوالیدین»۔(۳) کی روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں«وھو متروک بین الامامیة لقیام الدلیل العقلی علیٰ عصمة النبی عن السهو»۔(۴)
دوسرے یہ کہ سہو النبی سے متعلق روایات ان کثیر روایات سے متعارض ہیں جن میں سہو النبی کا انکار کیا گیا ہے۔
معروف شیعہ محدث شیخ حر عاملی(رح) نے اس موضوع سے متعلق اپنی مولفہ کتاب میں ان روایات کو جمع کیا ہے۔ (۵)
ایک جانب ان روایات کی کثرت اور دوسری جانب سہو النبی کو ثابت کرنے والی روایات کا اہل سنت کی احادیث کے موافق ہونا اس بات کا موجب ہے کہ سہو النبی کی روایات کو نادرست اورسہو النبی کا انکار کرنے والی روایات کو صحیح تسلیم کیا جائے۔
اس طرح نبی کے قول یا فعل میں سہو کے امکان کا عقیدہ صحیح نہیں ہے اور اس پر کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔
........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ارشاد الطالبین، ص۳۰۵۔
۲۔من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱ ،ص۳۶۰، الکافی، ج۳،ص۳۵۵ ،باب من تکلم فی الصلوۃ حدیث۱۔
۳۔ذوالیدن اس شخص کا لقب ہے جس نے مذکورہ روایات کے مطابق پیغمبر(ص) کو آپ کی نماز کے سہو کی جانب متوجہ کیا،غالباً اس کے ہاتھ تو بہت زیادہ لمبے تھے اس لئے اس نام سے مشہور ہوا۔
۴۔ذکریٰ،ص۱۳۴۔
۵۔التنبیه بالمعلوم من البرھان علی تنزیهه المعصوم عن السهو النسیان۔
جاری ہے




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21