Wed - 2019 January 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185491
Published : 5/2/2017 15:5

ایران سفر کرنے کے جرم میں ناروے کے سابق وزیر اعظم کو واشنگٹن ائیرپورٹ پرکافی دیر روکا گیا

ایران کی دشمنی میں امریکہ اس قدر آگے نکل گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ناروے کے سابق وزیراعظم کو صرف اس لئے روک لیا گیا کہ انہوں نے 3 سال قبل ایران کا دورہ کیا تھا۔

ولایت پورٹل:
رپورٹ کے مطابق، امریکی ایئرپورٹ حکام نے دو بار ناروے کے وزیر اعظم رہنے والے جیل مونو بونووک کو صرف اس بات پر ایک گھنٹہ تک ایئر پورٹ پر روکے رکھا کہ انہوں نے تین سال پہلے ایران کا دورہ کیا تھا۔
ان سے نہ صرف 20 منٹ تک پوچھ گچھ کی گئی بلکہ انہیں ایک گھنٹے تک ایئرپورٹ سے جانے بھی نہیں دیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے نارویجن ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایئر پورٹ حکام نے صرف اس وجہ سے ان سے تفتیش کی کیونکہ انہوں نے تین سال پہلے ایران کا دورہ کیا تھا اور ان کے پاسپورٹ پر ایران کی مہر لگی ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ ناروے کے سابق وزیر اعظم جیل مونو بونووک امریکی صدر کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کرنے کے لئے امریکہ پہنچے تھے، اس تقریب میں دنیا بھر سے لیڈرز اور مذہبی رہنما شریک ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں ایک قاعدہ ہے کہ بدترین دشمن ملک کے رہنما کو بھی اپنے ملک میں پورے احترام سے خوش آمدید کہا جاتا ہے، جس کو سفارتی آداب کہا جاتا ہے۔
امریکہ نے کسی دشمن ملک کے رہنما کا احترام تو کیا کرنا تھا، ناروے میں 2 مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے سابق وزیر اعظم جیل مونو بونووک کو روک کر صرف اس لئے پوچھ گچھ کی گئی کیونکہ انہوں نے 3 سال قبل ایران کا دورہ کیا تھا۔
لیکن 5 سال کے بچے کو ایرانی ہونے کی پاداش میں کئی گھنٹے ہتھکڑیاں لگانے والی انتظامیہ سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔
تسنیم





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 23