Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185566
Published : 8/2/2017 19:16

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

حضرت امام زین العابدین امام ملہم (یعنی صاحب الہام )اپنے جدامجد کے دین کے مجدد اور ان کی سنت کو زندہ کرنے والے ،ورع اور تقویٰ میں حضرت عیسیٰ بن مریم(ع) کے مشابہ اور مصیبتوں پر صبرکرنے میں حضرت ایوب(ع) کے مانند تھے ،آپ کی ہیبت آپ کے چہرے اور پیشانی سے ظاہر تھی ، انوار انبیاء (ع) کے اسرار اور اوصیاء کی ہیبت آپ(ع) کے چہرئہ مبارک سے عیاں تھی۔


ولایت پورٹل:
حضرت امام زین العابدین امام ملہم (یعنی صاحب الہام )اپنے جدامجد کے دین کے مجدد اور ان کی سنت کو زندہ کرنے والے ،ورع اور تقویٰ میں حضرت عیسیٰ بن مریم(ع) کے مشابہ اور مصیبتوں پر صبرکرنے میں حضرت ایوب(ع) کے مانند تھے ،آپ کی ہیبت آپ کے چہرے اور پیشانی سے ظاہر تھی ، انوار انبیاء (ع) کے اسرار اور اوصیاء کی ہیبت آپ(ع) کے چہرئہ مبارک سے عیاں تھی اور عرب کے عظیم الشان شاعر فرزدق نے امام (ع)کے اوصاف کو یوں نظم کیا ہے:    
                                            یَکَادُ یُمْسِکُہٗ عِرْفَانُ رَاحَتِہٖ           رُکْنُ الْحَطِیْمِ اِذَا مَاجَاءَ یَسْتلِمُ
                                     یُغْضِيْ حَیَاءً وَّیُغْضِی مِنْ مَہَابَتِہٖ           فَلَا یُکَلِّمُ اِلَّاحِیْنَ یَبْتَسِمُ

ترجمہ:امام سجاد(ع) جب رکن حطیم کو مس کرنے کے لئے آتے ہیں تو رکن حطیم آپ  کی ہتھیلی کو پہچان کر روک لیتا ہے۔
آپ حیا کی وجہ سے اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیتے ہیں اور آپ کی ہیبت کی بنا پر لوگوں کی نگاہیں نیچی ہو جا تی ہیں جس کی بنا پر آپ سے اسی وقت بات کی جا سکتی ہے جب آپ مسکرا رہے ہوں۔
شیخانی قادری کا کہنا ہے:دیکھنے والا ان کے چہرے کو دیکھنے سے سیرنہیں ہوتا تھا۔(۱) کیوں کہ آپ کی ہیبت آپ کے جد بزرگوار رسول اسلام کی ہیبت کی حکایت کرتی تھی ،ظالم مسلم بن عقبہ سفّاح مجرم کہ جس نے تمام اسلامی اقدار کی بہت زیادہ اہانت کی وہ بھی مبہوت ہو کر رہ گیا، اس نے جب امام زین العابدین کودیکھا تو کانپ کر رہ گیا، آپ کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا اور اپنے حاشیہ نشینوں سے کہا :بیشک امام زین العابدین(ع) انبیاء (ع) کے مانند ہیں۔
حوالہ:
۱۔الصراط السوی فی مناقب آل النبی(ص) ،ص ۱۹۲


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20