Saturday - 2018 June 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185578
Published : 9/2/2017 16:41

حضرت امام علی ابن الحسین(ع) کے مشہور القاب(۱)

حضرت امام علی ابن الحسین(ع)کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک «سید العا بدین» ہے ،چونکہ آپ اطاعت پروردگار کے مظہر اتم تھے، آپ کے جد امیرالمومنین(ع) کے علاوہ کسی نے بھی آپ کے مثل عبادت نہیں کی۔


ولایت پورٹل:حضرت امام زین العابدین(ع) کے القاب اچھائیوں کی حکایت کرتے ہیں،آپ اچھے صفات ،مکارم اخلاق ،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپ کے بعض القاب یہ ہیں:
۱۔زین العابدین
یہ لقب آپ کو آپ کے جد امجد رسول اللہ(ص) نے دیا تھا، کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو اس لقب سے نوازا گیا۔(۱) آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ  کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے۔
۲۔سید العابدین
آپ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک «سید العا بدین» ہے ،چونکہ آپ اطاعت پروردگار کے مظہر اتم تھے، آپ کے جد امیرالمومنین(ع) کے علاوہ کسی نے بھی آپ کے مثل عبادت نہیں کی۔
۳۔ذو الثفنات
آپ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ کے اعضاء سجدہ پر اونٹ کے گھٹوں۔(۲) کی طرح گھٹےپڑجاتے تھے،ابو جعفر امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں:میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے جو ایک سال میں دو مرتبہ کاٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے ، اسی لئے آپ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا۔(۳)
ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے تمام گھٹوں کو ایک تھیلی میں جمع کر رکھا تھا اور آپ نے اُن کو اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔
۴۔سجاد
آپ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب «سجاد» ہے یہ لقب آپ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ،آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے۔(۴) حضرت امام محمد باقر(ع) نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایاہے:«بےشک علی بن الحسین(ع) جب بھی خود پرخدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے،آپ قرآن کریم کی ہرسجدہ والی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرتے  جب بھی خداوندعالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ خوفزدہ ہوتے تھے توسجدہ کرتے، آپ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے یاد کیا گیا۔(۵)
ابن حماد نے امام(ع) کے کثرت سجود اور آپ(ع) کی عبادت کو ان رقیق اشعار میں یوں نظم کیا ہے:
                                                                  وَرَاھِبُ اَھْلِ الْبَیْتِ کَانَ وَلَمْ یَزَلْ         یُلَقَّبُ بِالسَّجَّادِ حِیْنَ تَعَبُّدِہٖ
                                                                 یَقْضِی بِطُولِ الصَّوْمِ طُولَ نَہارِہٖ        مُنِیْباً وَیَقْضِي لَیْلَہٗ بِتَھَجُّدِہٖ
                                                                        فَاَیْنَ بِہٖ مِنْ عِلْمِہٖ وَوَفَائِہٖ          وَاَیْنَ بِہٖ مِنْ نُسُکِہٖ وَتَعَبُّدِہٖ۔(۶)
ترجمہ:امام سجاد(ع) پہلے بھی اہل بیت(ع) میں عبادت گذار تھے اور اب بھی ہیں عبادت ہی کی بنا پر آپ کو سجاد کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے۔
آپ روزہ رکھ کر دن گذار تے ہیں، آپ توبہ کرتے رہتے ہیں اور رات نماز و تہجد میں بسر کرتے ہیں۔
تو بھلا علم و وفا داری اور عبادات میں آپ کا مقابلہ کو ن کر سکتا ہے؟۔

.................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔تہذیب التہذیب،ج۷ ،ص۳۰۶ ،شذرات الذھب،ج۱،ص ۱۰۴،اور اسی کتاب میں بیان ہوا ہے کہ آپ کو زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے یہ لقب دیا گیا۔
۲۔صبح الاعشی ،ج۱،ص۴۵۲ ،بحر الانساب،ورقہ ۵۲،تحفۃ الراغب ،ص۱۳،اضداد فی کلام العرب،ج۱،ص۱۲۹ ،ثمار القلوب،ص ۲۹۱ ،اور اس میں بیان ہوا ہے: علی ابن الحسین(ع)اور علی بن عبداللہ بن عباس کے لئے کہا جاتا ہے کہ:زیادہ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اعضاء سجدہ پر سجدوں کی وجہ سے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے۔
۳۔علل الشرائع،ص ۸۸،بحار الانوار،ج۴۶،ص۶ ،وسائل الشیعہ،ج۴ ،ص۹۷۷ ۔
۴۔علل الشرائع،ص۸۸ ۔
۵۔وسائل الشیعہ،ج۴،ص ۹۷۷ ،علل الشرائع،ص۸۸ ۔
۶۔المناقب ،ج۴ ،ص ۱۶۴ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 June 23