Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185625
Published : 12/2/2017 16:11

2016 میں جرمنی کی 91 مسجدیں چڑھیں نسل پرستی کی بھینٹ

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ 2016ء کے دوران ملک بھر میں 91 مساجد پر حملے کیے گئے۔


ولایت پورٹل:ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ سال2016 کے دوران جرمنی میں 91 مساجد پر معمولی اور خطرناک نوعیت  کےحملے کئے گئے،جرمن وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حملے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں کیے گئے،حکام کے مطابق اس صوبے میں کل  21 حملے ہوئے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں مسلمان تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہے،وفاقی وزارت داخلہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جرمن پولیس 12 واقعات میں ملزمان کی شناخت کر چکی ہے اور اب تک ایک شخص گرفتار بھی کیا جا چکا ہے،سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ مغربی ممالک میں اسلام دشمن جذبات میں داعش، القاعدہ اور طالبان جیسے درندہ صفت دہشت گردوں کی وجہ سے روز بروز اضافہ ہورہا ہے،2015ءمیں 9 لاکھ کے قریب نئے مہاجرین اور تارکین وطن کی جرمن  آمد کے بعد سے جرمنی میں مساجد اور مسلمان تارکین وطن پر حملوں میں تیزی آئی ہے ان تارکین وطن میں ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان اور شام سے بتایا جاتا ہے،یاد رہے کہ جرمن حکام نے افغان تارکین وطن کو واپس ملک بدر کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
 تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22