Saturday - 2018 June 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185627
Published : 12/2/2017 16:32

حضرت امام علی ابن الحسین(ع) کے مشہور القاب(۲)

امام زین العابدین(ع)کے القاب میں سے ایک معروف لقب «امین»ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ کا فرمان ہے:اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتا تو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا۔

ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ مضمون میں امام زین العابدین علیہ السلام کے کچھ مشہور القاب کا تذکرہ کیا تھا آج اسی سلسلہ کی آخری کڑی قارئین کرام! کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں لہذا اس سے پہلے مضمون کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
حضرت امام علی ابن الحسین(ع) کے مشہور القاب(۱)
۵۔زکی
امام سجاد (ع)کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ(ع) کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ(ع) کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھاجو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
۶۔امین
آپ کے القاب میں سے ایک معروف لقب «امین»۔(۱)ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ کا فرمان ہے:
اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتا  تو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا۔
۷ ۔ابن الخیرتین
آپ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب «الخیرتین» ہے، آپ  کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی، آپ فرماتے ہیں:«انا ابن الخیرتین»اس جملہ کے ذریعہ آپ اپنے جدنامدار رسول اسلام (ص)کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے:
لِلِّٰه تَعَالیٰ مِنْ عِبَادِہٖ خِیَرَتَانِ فَخِیَرَتُه مِنَ الْعَرَبِ ھَاشِمٌ،وَمِنَ الْعَجَمِ فَارَسٌ۔(۲)
شبراوی نے آپ کو مندرجہ ذیل ابیات کے ذریعہ اس لقب سے یوں یاد کیا ہے:
                                               خِیَرَۃُ اللہِ مِنَ الْخَلْقِ اَبِي              بَعْدَ جَدِّيْ وَاَنَا ابْنُ الْخِیَرَتَیْنِ
                                           فِضَّةٌ صِیْغَتْ بِمَاءِ الذَّھَبَیْنَ                 فَاَنَا الْفِضَّةُ وَابْنُ الذَّھَبَیْنِ
                                          مَنْ لَهٗ جَدٌّ کَجَدِّيْ فِی الْوَرَیٰ                اَوْکَأَ بِي وَاَنَا ابْنُ الْقَمَرَیْنِ
                                          فَاطِمَةُ الزَّھْرَاءِ اُمِّيْ وَاَبِيْ                 قَاصِمُ الْکُفْرِ بِبَدْرٍ وَّ حُنَیْنِ
                                            وَلَهٗ فِيْ یَوْمِ اُحُدٍ وَقْعَةٌ                  شَفَۃَ الْغِلِّ بِبَعْضِ الْعَسْکَرَیْنِ۔(۳)
امام سجاد (ع)فرماتے ہیں:میرے جد کے بعد میرے والد بزرگوار بہترین مخلوق ہیں جس کی بنا پر میں بہترین افراد کا فرزند ہوں ۔
میں وہ چا ندی ہوں جس کو دو سونے کے پانی سے ڈھالا گیا ہے جس کی بنا پر میں چا ندی ہوں اور دو سونے کا فرزند ہوں ۔
دنیا میں میرے جدکی طرح کس کے جد ہیں یا میرے بابا کی طرح کس کے بابا ہیں اور میں دو چاند کا فرزند ہوں ۔
جناب فاطمہ زہراء(س) میری والدہ ہیں اور میرے پدر بزرگوار نے بدر و حنین میں کفر کو نابود کیا۔
جنگ اُحد میں میرے دادا نے بے مثال جنگ کی جس کی بنا پر لشکریانِ کفر کے دلوں میں آپ(ع) کا کینہ بیٹھ گیا۔
زیادہ احتمال یہ ہے کہ یہ اشعار امام زین العابدین(ع) کے سلسلہ میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ آپ کی ذات بابرکت میں پائے جانے والے بلندصفات و کمالات کو بیان کرنے سے قاصرہیں۔
.................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن صباغ مالکی ،الفصول المھمۃ،ص ۱۸۷ ،بحر الانساب،روقہ:۵۲ ،نور الابصار،ص ۱۳۷ ۔
۲۔الکامل فی التاریخ،ج۱،ص۲۲۲ ،وفیات الاعیان،ج۲،ص ۴۲۹ ۔
۳۔الاتحاف بحب الاشراف،ص ۴۹ ۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 June 23