Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185650
Published : 13/2/2017 16:34

عقیدہ ختم نبوت

نبوت کا سلسلہ حضرت آدم(ع) سے شروع ہو کرختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی (ص) پر ختم ہوا، آنحضرت (ص) کی نبوت اور آپ کا خاتم الانبیاء ہونا دین اسلام کی ضروریات میں سے ہے،اسی لئے یہ مسئلہ امت اسلامی کا اجتماعی مسئلہ ہے اور اگر کوئی اختلاف پایا بھی جاتا ہے تو وہ فرعی اورجزئی مسائل سے متعلق ہے.


ولایت پورٹل:
نبوت کا سلسلہ حضرت آدم(ع) سے شروع ہو کرختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی (ص) پر ختم ہوا، آنحضرت (ص) کی نبوت اور آپ کا خاتم الانبیاء ہونا دین اسلام کی ضروریات میں سے ہے،اسی لئے یہ مسئلہ امت اسلامی کا اجتماعی مسئلہ ہے اور اگر کوئی اختلاف پایا بھی جاتا ہے تو وہ فرعی اورجزئی مسائل سے متعلق ہے،پیغمبر اکرم (ص) کی نبوت پر عقلی دلیل یہ ہے کہ تاریخ کا قطعی اور حتمی بیان ہے کہ آپ نے دعوائے نبوت کیا اور اپنے دعوی کے ثبوت کے لئے معجزات پیش کئے،معجزات کے ساتھ آپ (ص) نے تحدی بھی فرمائی،تحدی کے ساتھ معجزہ اثبات نبوت کی قطعی دلیل ہے،قرآن کریم پیغمبر اسلام(ص) کا اہم ترین معجزہ ہے،پیغمبر اکرم(ص) نے قرآن کے ذریعہ مختلف صورتوں میں چیلنج کیا ہے،کبھی اس کا مثل لانے کا مطالبہ کیا۔(۱)کبھی اس کے مانند دس سورے لانے کو کہا۔(۲)اور کبھی ایک سورہ لانے کا چیلنج کیا۔(۳)نہ صرف یہ کہ عرب کے فصحاء وبلغاء قرآن کا جواب لانے سے عاجز رہے بلکہ ان میں سے بعض نے یہ اعتراف بھی کیا کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہے بلکہ ما فوق البشر کلام ہے،لیکن چونکہ جہل اور تعصب میں مبتلا تھے لہٰذا آپ(ص)  کی نبوت پر ایمان لانے کے بجائے آپ(ص) کے کلام کو «ساحرانہ کلام»کہنے لگے تاکہ لوگ آپ(ص) کا کلام سن کر ایمان نہ لائیں۔
قرآن کریم کے علاوہ بھی پیغمبر(ص) کے بہت سے معجزات تھے ان میں سے اگر چہ ہر ایک معجزہ تواتر سے ثابت نہیں ہے لیکن مجموعی طور پرمعجزات کا وجود تواتر سے بھی بڑھ کر ہے یعنی آنحضرت(ص) کا دعوائے نبوت کے لئے معجزات پیش کرکے تحدی وچیلنج کرنا تاریخ کے مسلمات وقطعیات میں سے ہے۔
پیغمبر اکرم(ص)کے ذریعہ ختم نبوت کا اعلان قرآن کریم اور احادیث میں واضح طور پر موجود ہے،قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (ص) کا تعارف «خاتم النبیین»کہہ کر کرایا ہے:«مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ الله وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ»(۴)
اسی طرح متواتر حدیث «حدیث منزلت»میں پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) کو اپنے سے وہی نسبت دی ہے،جو موسیٰ کو ہارون سے تھی اس فرق کے ساتھ کہ ہارون نبی تھے لیکن علی(ع)نبی نہیں ہیں کیونکہ آنحضرت(ص) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا«انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی»۔
نبوت اور رسالت کے درمیان نسبت کے سلسلہ میں دو اہم نظریات پائے جاتے ہیں،بعض حضرات نبوت کو رسالت سے عام مانتے ہیں اور بعض نبوت کو رسالت کا لازمہ قرار دیتے ہیں،بہر صورت ختم نبوت کا لازمہ ختم رسالت بھی ہوگا اس لئے کہ جس طرح لازم وملزوم میں ایک کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جاتی ہے اسی طرح عام کے ختم ہونے سے خاص بھی ختم ہو جاتا ہے،لہٰذاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خاتمیت کی دلیلیں«ختم نبوت» سے متعلق ہیں نہ کہ ختم رسالت سے اور ان دلیلوں سے نئے رسول کی آمد کا انکار نہیں ہوسکتا یہ صرف ایک خیال ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
 ....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ اسراء:آیت۸۸، سورہ طور:آیت ۳۴۔
سورہ ہود:آیت۱۳۔
۳۔سورہ بقرہ:آیت۲۳،سورہ یونس:آیت۳۸۔
سورہ احزاب:آیت۴۰۔
 
 






آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21