Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185653
Published : 13/2/2017 17:15

امام زین العابدین(ع) اور فقراء کی کفالت

امام زین العابدین(ع) کے جود و کرم کا یہ عالم تھا کہ آپ مدینہ میں مخفی طور پر،سو گھروں کی پرورش کرتے تھے اور ہر گھر میں لوگوں،کی کافی تعداد ہوا کرتی تھی،بیشک سخاوت بخل سے پاکیزگیٔ نفس پر دلالت کرتی ہے ،لوگوں پر رحم کر نے کے شعور اور اللہ کی عطا پر اس کا شکر اداکرنے پر دلالت کر تی ہے۔



ولایت پورٹل:
امام زین العابدین علیہ السلام  کی جود و سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ مدینہ میں ظہر کے وقت ہر دن لوگوں کو عمومی طورپر کھانا کھلاتے تھے۔(۱)
سینکڑوں گھروں کی پرورش
امام زین العابدین(ع) کے جود و کرم کا یہ عالم تھا کہ آپ مدینہ میں مخفی طور پر۔(۲)سو گھروں کی پرورش کرتے تھے اور ہر گھر میں لوگوں۔(۳)کی کافی تعداد ہوا کرتی تھی،بیشک سخاوت بخل سے پاکیزگیٔ نفس پر دلالت کرتی ہے ،لوگوں پر رحم کر نے کے شعور اور اللہ کی عطا پر اس کا شکر اداکرنے پر دلالت کر تی ہے۔
فقیروں پر رحم و کرم
آپ کے ذاتی صفات میں سے ایک صفت یہ تھی کہ آپ فقیروں ،محروموں اورمایوس ہوجانے والوں پر احسان فرماتے تھے،ہم ذیل میں اس سلسلہ میں بعض واقعات نقل کرتے ہیں:
۱۔ فقیروں کی عزت کرنا
امام  زین العابدین(ع) فقیروں کے لئے افسوس کرتے ،ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ،جب کسی سائل کو کچھ دیتے تو اس سے معانقہ کرتے تاکہ اس سے ذلت اور حاجت۔(۴) کااثر جاتا رہے، جب سائل کسی سوال کا قصد کرتا تو آپ مرحبا کہتے اور فرماتے:
«مَرْحَباً بِمَنْ یَحْمِلُ زَادِيْ اِلیٰ دَارِ الْآخِرَۃِ»۔(۵)
مرحبا اس شخص پر جو میرے زاد راہ کو دار آخرت کی طرف لے جا رہا ہے۔
بے شک فقیر کے محبت اور عطوفت کے ساتھ اس طرح اکرام کرنے سے معاشرہ میں اتحاد اور بھائی چارگی پیدا ہوتی ہے اور ان کی اولاد کے درمیان محبت قائم ہو تی ہے۔
۲۔ فقیروں پر مہربانی
آپ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ نہایت ہی عطوفت و مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے ،آپ(ع) کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ ایسے فقراء ،مساکین اور بیمار افراد کو دستر خوان پر بلائیں جن کا کوئی آسرا نہ ہو آپ ان کو اپنے ہاتھ سے کھانا دیتے۔(۶) اسی طرح آپ اپنی پشت پر ان کے لئے کھانا اور لکڑیاں لاد کر ان کے دروازے پرپہنچاتے تھے۔(۷) فقراء اور مساکین کے سلسلہ میں آپ کے رحم و کرم کایہ عالم تھا کہ آپ رات کی تاریکی میں خرمے توڑنے کو منع کرتے تھے کہ اس طرح فقراء آپ کی عطا سے محروم رہ جائیں گے،امام(ع) نے اپنے غلام سے فرمایا(جو رات کے آخری حصہ میں آپ کے لئے خرمے توڑ کرلایاتھا ):ایسا نہ کرو ،کیا تم کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ(ص) نے رات میں فصل کاٹنے اور بوجھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے ؟اور آپ فرماتے :جس دن فصل کاٹی جائے اسی دن سائلین کو عطا کیا جائے اس لئے کہ فصل کاٹنے کے دن یہ اُن کا حق ہوتا ہے۔(۸)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔تاریخ یعقوبی،ج۳ ،ص ۶ ۔
۲۔تہذیب اللغات و الاسماء،ص ۳۴۳ ۔
۳۔بحار الانوار،ج۴۶،ص۸۸ ۔
۴۔حلیہ ،ج۳،ص۱۳۷ ۔
۵۔صفوۃ الصفوۃ،ج۲ ،س ۳۵۳ ۔
۶۔بحار الانوار،ج۴۶،ص۶۲ ۔
۷۔سابق حوالہ،اور اسی سے ملتی جلتی روایت دائرۃ المعارف بستانی،ج۹ ،ص ۳۵۵ پر مرقوم ہے۔
۸۔وسائل الشیعہ،ج۶،ص ۱۳۸۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21