Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185656
Published : 13/2/2017 17:40

کن لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوگی؟

پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ:حرام کھانے والے شخص کی نماز کی مثال اس عمارت کی ہے جس کی بنیاد ریت پر استوار ہو۔


ولایت پورٹل:نماز کے قبول نہ ہونے کا کچھ تو سبب ہوگا،اگر انسان مکمل طور سے خدا کو اپنا مرکز بنا کر نماز ادا کرے اور تمام شرطوں کو مد نظر رکھے تو نماز کیوں نہیں قبول ہوگی،نماز کے قبول نہ ہونے کی کچھ وجہیں حدیثوں میں ملتی ہیں جسے قلم بند کیا جارہا ہے۔
نماز ان لوگوں کی قبول نہیں ہوتی:
۱۔جو حرام کھانے والے ہوتے ہیں، چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) فرماتے ہیں کہ:«حرام کھانے والے شخص کی نماز کی مثال اس عمارت کی ہے جس کی بنیاد ریت پر استوار ہو»۔
۲۔لا ابالی افراد، جو افراد پرہیزگار نہیں ہوتے یا اپنی نماز میں کما حقہ رکوع و سجود کو انجام نہیں دیتے ان کی نماز قبول نہیں ہوتی،خود پیغمبر اسلام (ص) نے مولا علی(ع) سے ریاکارکی تین شرطیں بتائی ہیں۔
الف)نماز میں رکوع و سجود پورا نہیں بجالائے گا یعنی کماحقہ ادا نہیں کرے گا۔
ب)لوگوں کے سامنے لمبی نماز پڑھے گا اور اگر کوئی نہ ہو تو نماز ہی نہیں پڑھے گا۔
ج)جلوت میں کثرت سے یاد خدا اور خلوت میں خدا کو بھلادے گا ایسے لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔
۳۔جو اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کرتے،رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ:
جو عورت اپنے شوہر کی کمائی کھاتی ہے لیکن اپنی شرعی ذمہ داری پوری نہیں کرتی اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اسی طرح مرد کے لئے جو شرعی ذمہ داری اس کے اوپر ہے اگر وہ نہ ادا کرے تو اس کی نمازبھی قبول نہیں ہوتی ہے۔
۴۔جو غریبوں اور ناداروں سے لاپروائی برتنے والے ہیں،حضرت امام جعفر صادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں:جو شخص معاشرے کے غریبوں اورنادار لوگوں کا خیال نہیں رکھتا اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے۔
۵۔جو زکات ادا نہیں کرتے، قرآن کے اکثر سوروں میں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر ہوا ہے یعنی نماز بھی پڑھو اور زکوٰۃ بھی ادا کرو،لہٰذا حدیثوں میں آیا ہے کہ جو شخص زکوٰۃ نہ نکالے اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18