Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185658
Published : 13/2/2017 18:8

امام زین العابدین(ع) کو بیمار نہ کہو بلکہ

امام سجاد(ع) کشتی کربلا کو سخت طوفانوں سے بچاکر لائے ہیں:رہبر انقلاب

بعض لوگ آپ کو بیمار کے لقب سے یاد کرتے ہیں حالانکہ آپ واقعہ عاشورہ کے موقع پر چند روز تک بیمار تھے اس کے بعد صحت یاب ہوگئے تھے،ہر شخص اپنی زندگی میں ایک مدت تک بیمار ہوتا ہے،پھر امام زین العابدین(ع) کی بیماری خدا کی مصلحت کی بنا پر تھی تاکہ اس زمانہ میں آپ پر راہِ خدا میں جہاد کا فریضہ عائد نہ ہو کیونکہ آئندہ آپ(ع) کو امامت و امانت کا سنگین بار اٹھانا ہے اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد چونتیس یا پینتیس سال تک زندہ رہنا ہے اور شیعوں کی امامت کا سخت ترین زمانہ گزارنا ہے۔


ولایت پورٹل:
امام زین العابدین(ع) کے بارے میں کچھ کہنا اور آپ کی سیرت لکھنا ایک دشوار کام ہے کیونکہ اس امام ہمام (ع)سے متعارف و روشناس ہونے کے حالات لوگوں کے لئے نہایت ہی ناسازگار تھے اکثر سیرت نویسوں اور تجزیہ نگاروں کے ذہن میں اس طرح آیا ہے کہ آپ ایک گوشۂ تنہائی میں بیٹھے عبادت کیا کرتے تھے سیاست سے آپ کو کوئی واسطہ نہیں تھا،بعض مؤرخین اور سیرت نگاروں نے اس مسئلہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور جن لوگوں نے اس مسئلہ کو اس طرح صراحت کے ساتھ نہیں لکھا ہے وہ بھی امام زین العابدین(ع) کی زندگی کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں،اس بات کو امام(ع)کو دئیے جانے والے القاب اور آپ(ع) کے بارے میں استعمال ہونے والی تعبیروں سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔
بعض لوگ آپ کو بیمار کے لقب سے یاد کرتے ہیں حالانکہ آپ واقعہ عاشورہ کے موقع پر چند روز تک بیمار تھے اس کے بعد صحت یاب ہوگئے تھے،ہر شخص اپنی زندگی میں ایک مدت تک بیمار ہوتا ہے،پھر امام زین العابدین(ع) کی بیماری خدا کی مصلحت کی بنا پر تھی تاکہ اس زمانہ میں آپ پر راہِ خدا میں جہاد کا فریضہ عائد نہ ہو کیونکہ آئندہ آپ(ع) کو امامت و امانت کا سنگین بار اٹھانا ہے اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد چونتیس یا پینتیس سال تک زندہ رہنا ہے اور شیعوں کی امامت کا سخت ترین زمانہ گزارنا ہے۔
جب آپ امام زین العابدین(ع) کی زندگی کے حالات ملاحظہ فرمائیں گے تو آپ ہمارے دوسرے ائمہ(ع) کی مانند امام زین العابدین(ع)کی حیات میں کچھ عجیب اور متنوع حوادث دیکھیں گے لیکن اگر آپ ان سب کو یکجا کریںگے تو امام(ع) کی سیرت کا پتہ نہیں لگا سکیں گے، کسی بھی شخص کی سیرت حقیقی معنی میں اس وقت روشن ہوتی ہے جب ہم اس کی عام جہت گیری سے واقف ہوں اور پھر اس کی زندگی کے جزئی حوادث کی تحقیق کریں،اگر یہ عمومی جہت گری معلوم ہوجائے تو جزئی حوادث کے معنی بھی واضح ہوجائیں گے لیکن اگر عمومی جہت گری کا علم نہ حاصل ہو یا اس سلسلہ میں غلط معلومات حاصل ہوئیں تو وہ جزئی حوادث بھی بے معنی ہوجائیں گے یا ان کے معنی غلط ہوں گے اور یہ بات صرف امام زین العابدین(ع) یا دیگر ائمہ ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت ہر شخص کی زندگی پر منطبق ہوتی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10