Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185676
Published : 14/2/2017 17:18

دیر سے بولنے والے بچوں کی مدد کیسے کریں؟

کچھ بچے اکیلے میں بولتے ہیں لیکن سب کے سامنے بات کرنے میں چھجکتے ہیں ،اگر آپ کا بچہ بھی یہی کرتا ہے تو اسے کسی علاج کی نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہے،ایسے بچے جو دیر سے بولتے ہیں عام طور پر حساس ہوتے ہیں اور لہذا وہ آپ کے زیادہ پیار اور توجہ کے مستحق ہیں۔


ولایت پورٹل:عام طور پر ایک بچہ پیدائش کے ایک سال کے اندر اندر چھوٹے چھوٹے الفاظ بولنا شروع کردیتا ہے اور جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے بچے کی اس صلاحیت میں اضافہ ہونے لگتا ہے،معالجین کہتے ہیں کہ جو بچے نارمل عمر کے بجائے دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں وہ بچے آگے چل کر مختلف امراض و سمات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
بچوں میں دیر سے بولنے کی دشواری کو (ڈی۔ایل۔ڈی) یعنی (ڈولپمنٹ لینگویج ڈس اورڈر) کہا جاتا ہے،بدقسمتی سے ایسے بچے جو دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں ان میں اس فرق کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کن بچوں کو اس سلسلے میں علاج کی ضرورت ہے اور کون سے بچے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس خلل پر خود قابو پالیں گے۔
بنیادی وجوہات
بچہ کے بولنے میں تاخیر کا ایک اہم سبب اس کی دماغی قوت میں کمی کا ہونا ہے،اس کمی کی وجہ سے:
۱۔بچہ دوسروں کی ہدایت کو دیر سے سمجھتا ہے۔
۲۔الفاظ کی ادائیگی میں مشکل ہوتی ہے۔
۳۔دیکھی ہوئی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے۔
۴۔مختلف چیزوں کو دیکھ کر ان کو سمجھنے اور ان میں امتیاز برتنے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔
بچوں کی مدد کیسے کی جائے؟
۱۔بچہ کے سامنے بڑی بڑی رنگین تصاویر رکھیں اور اس چیز کا نام دہرائیں۔
۲۔بچہ اگر کسی جانب اشارہ کرے اور اپنی بات اشاروں میں کرنا چاہے تو اس پر زور دیں کہ وہ اپنی بات الفاظ میں کہے۔
۳۔بچے سے گفتگو کرتے ہوئے صبر سے کام لیں اور اس بات کی جلدی نہ کریں کہ بچہ آپ کی بات پر فوری اظہار کرے۔
۴۔اگر بچہ نہیں بولتا اور آواز کی گونج پر نہیں چونکتا یا مختلف چیزوں میں امتیاز نہیں کرتا تو سب سے پہلے ماہر سماعت ڈاکٹر کی طرف رجوع کریں۔
۵۔اگر بچہ بولنے کی کوشش نہیں کرتا تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن دیر سے بولنا شروع کیا ہے اور ٹوٹا پھوٹا بولتا ہے تو اس کی ابتدائی عمر سے ہی اصلاح ضروری ہے۔
۶۔اگر بچہ ہکلا کر بولتا ہے تو اسے آئینے کے سامنے کھڑا کرکے بولنے کے لئے کہیں، اس کی زبان کے نیچے گندم کا دانہ رکھ دیں اور پھر بولنے کو کہیں اس کی رال ٹپکے گی، پریشان نہ ہوں، اس طرح کم سے کم دس منٹ تک بولنے کو کہیں اور یہ مشق پندرہ دن تک جاری رکھیں۔
۷۔کچھ بچے اکیلے میں بولتے ہیں لیکن سب کے سامنے بات کرنے میں چھجکتے ہیں ،اگر آپ کا بچہ بھی یہی کرتا ہے تو اسے کسی علاج کی نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہے۔
۸۔ایسے بچے جو دیر سے بولتے ہیں عام طور پر حساس ہوتے ہیں اور لہذا وہ آپ کے زیادہ پیار اور توجہ کے مستحق ہیں۔
۹۔آج کل اسپیچ تھراپی کے کئی مراکز کھل گئے ہیں اپنے بچہ کو اسپیچ تھراپی کے لئے لے کر  جائیں۔
۱۰۔اگر آپ کا بچہ اس عمر تک پہونچ گیا ہے جہاں بچے بولنے کا آغاز کرتے ہیں اور اگر آپ کا بچہ نہیں بولتا تو معالج سے رابطہ ضرور کریں۔

htv



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23