Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185678
Published : 14/2/2017 17:34

عرب لیگ امریکہ اور اسرائیل کی دستہ بستہ غلام(ایک تبصرہ)

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے دفتر میں منعقدہ عرب پارلمانوں کے سربراہوں نے اپنے اجلاس میں،علاقے کے ملکوں میں بقول ان کے ایران کی مداخلت کی مذمت کی ہے -


ولایت پورٹل:اجلاس کے ایک بیان میں ایران کے خلاف بے بنیاد دعووں اور الزامات کا اعادہ کئے جانے کے ساتھ ہی علاقے میں ایران کے اقدامات کو اشتعال انگیز اور علاقے کے امن و استحکام کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے- اس بیان سے مجموعی طور پر، ایران مخالف قاہرہ اجلاس کے مقاصد واضح ہوجاتے ہیں،یہ بیان بظاہر دو مسئلوں پر مرکوز ہے پہلا مسئلہ علاقے میں ایران کو خطرہ ظاہر کرنا ہے اور دوسرا مسئلہ، علاقے کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کے مقابلے میں عرب لیگ کے کردار کو اہمیت کا حامل ظاہر کرنا ہے- یہ وہ دعوے ہیں جو عرب لیگ کے مواقف اور کارکردگی سے کسی بھی صورت سازگار نہیں ہیں- بعض عرب ممالک نے، خواہ وہ عرب لیگ میں شامل ہوں یا خلیج فارس تعاون کونسل میں، گذشتہ چند برسوں کے دوران ایران مخالف ہٹ دھرمانہ رویہ اپنا رکھا ہے- یہ وہ حکومتیں ہیں جو علاقے میں ماضی سے لے کر آج تک اغیار کا آلہ کار رہی ہیں - اسی سبب سے  گذشتہ کئی برسوں کے دوران علاقے کے ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کامشاہدہ کیا گیا ہے،حقیقت میں اس کے پس پردہ غیر ملکی عناصر ہیں جو اصلی کردار ادا کر رہے ہیں اور بعض عرب ملکوں کے سربراہوں میں عدم تدبیر کے باعث اس عمل کو فروغ ملا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مواقع پر اسلامی ملکوں کے درمیان تفرقہ ایجاد ہوا ہے اور یہ وہی ہدف اور مقصد ہے کہ جسے امریکہ اور اسرائیل، مشرق وسطی منصوبے کی صورت میں عملی شکل دینے کے درپے ہیں اور بعض عرب ممالک بھی دانستہ یا نا دانستہ عملی طور پرعلاقے میں اس خطرناک کھیل میں شامل ہوگئے ہیں- ایسی صورتحال میں ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات اور ایران مخالف پالیسیوں میں شدت آئی ہے کہ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی امریکہ ، ایران اور بعض عرب ملکوں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کرنے کے درپے ہے- اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں عرب لیگ میں شامل ممالک ، نہ یہ کہ پورا عالم اسلام ، حقیقی خطرے یعنی اسرائیل سے مقابلے کے بجائے ایرانو فوبیا کو ترجیح دے رہے ہیں- یہ ممالک علاقائی پالیسیوں میں اتحاد و اتفاق کے بجائے تفرقہ اور اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں،غیرعلاقائی طاقتیں ، علاقے میں جاری ان تفرقہ انگیز پالیسیوں کا خیر مقدم اور ان کی حمایت کر رہی ہیں کیوں کہ بعض عرب ممالک وہ کام کر رہے ہیں جس سے علاقے میں تفرقے اور اختلافات کو تقویت مل رہی ہے اور یہی غیر علاقائی طاقتوں کا ہدف ہے- اور صرف اسی صورت میں ہی اغیار، علاقے میں اپنے مداخلت پسندانہ اور علیحدگی پسندی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے اور ان کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور آخر کار اسرائیل کی توسیع پسندی کے مقابلے میں مزاحمت کے عمل کو کمزور اور مسئلہ فلسطین کو جوعالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے ، کنارے لگا سکتے ہیں- جو کام عرب لیگ انجام دے رہی ہے اس کا ہدف اور مقصد بالکل یہی ہے- اسی سبب سے عرب لیگ کہ جو عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کو مستحکم کرنے میں اہم کردارادا کرسکتی تھی اس وقت عملی طورپر امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کی تکمیل میں مصروف ہے- عرب لیگ کے اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران کے مخالف مواقف اور بے بنیاد الزامات بھی اسی تناظر میں قابل غور ہیں۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15