Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185679
Published : 14/2/2017 17:44

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیتیں

مؤرخین تصریح کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی تھی،ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں،سیدہ (س)ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔


ولایت پورٹل:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں، اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں، آپ کی چچی (جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قد و قامت نظر آتا ہے، اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو،اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیدہ عالم بہت خوش ہوئیں
اور پیغمبر(ص) کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی چنانچہ آپ نے وصیت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے،مؤرخین تصریح کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی تھی،ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے  میرے دل میں زخم  پیدا کر دئے ہیں،سیدہ (س)ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت
سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا(ص) کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ہجری قمری میں وفات پائی،آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا،حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا،صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ  پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا، آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجد رسول کا جزء بن گیا،جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا، اس مبارک روضہ کو   8 شوال سن  ھجری قمری میں ابن سعود  نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ منہدم کرا دیا۔
شفقنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19