Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185685
Published : 14/2/2017 19:13

ازدواجی زندگی کی مٹھاس

حق شناسی اور شکر گزاری اچھے اخلاق میں سے ایک ہے اور یہ دونوں جذبہ احسان کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔


ولایت پورٹل:
شوہر کا شکریہ ادا کرنا زندگی کی میٹھاس
پیسہ کمانا کوئی آسان کام نہیں ہے، اسے کمانے میں ہزاروں طرح کی مشقتوں اور زحمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انسان اپنی راحتی اور فلاح و بہبود کی خاطر دولت کو پسند کرتا ہے اور ذاتی طور پر اس سے لگاؤ بھی رکھتا ہے ،اگر اس نے کسی پر احسان کرتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی اس کے حوالہ کردی تو اسے کم سے کم ایک شکریہ کی توقع تو ہوتی ہی ہے  اور اگر اس کا شکریہ ادا کیا گیا تو اس کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور مزید احسان اور نیکی کرنے کی طرف راغب ہوجائے گا ،اور  صرف یہی نہیں کہ وہ شکریہ کرنے والے پر مزید احسان کرے  گا بلکہ مکمل طور پر اسے  نیکی کرنے سے  لگاؤ ہو جائے گا،اور  ممکن ہے  کہ احسان اور نکی کرنا اس کے خون میں اس طرح رچ بس جائے کہ اس کا مزاج اور طبیعت ہی احسان و کار خیر کرنے کی مشتاق ہوجائے ، لیکن اگر اسکے کام کو کسی نے  قدر و قیمت کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور اس کے  احسان کو نظر اندازکیا گیا تو کار خیرکرنے کا جذبہ اس میں سے ختم ہوجائے گا ، اور اپنے  آپ سے کہے گا: افسوس کی بات نہیں ہے کہ میں ایسے نمک حرام لوگوں کے ساتھ  احسان کروں ،اور اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کو ان کے سپرد کردوں ؟ پس حق شناسی اور شکر گزاری اچھے  اخلاق  میں سے ایک ہے  اور یہ دونوں جذبہ  احسان کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں یہاں تک  کہ خداوند عالم کے جسے کسی کی ضرورت نہیں ہے  اپنی نعمتوں پر شکریہ کو زیادتی نعمات کا سبب  قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:اگر تم  میرا شکریہ ادا کرو گے تو میں نعمتوں میں اضافہ  کروں گا۔(۱)
حوالہ: سورہ ابراہیم : آیت ۷۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15