Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185689
Published : 14/2/2017 19:48

امام حسین(ع) کے مقصد کی تکمیل ہی سید سجاد(ع) کا مقصد تھی:رہبر انقلاب

ہمیں امام زین العابدین(ع) کی پوری زندگی میں کلی مقصد اور آپ کی اصلی ڈگر کو ڈھونڈھنا چاہیئے اور ہمیں بلاتردد یہ مان لینا چاہیئے کہ امام زین العابدین(ع) اسی اَرمان و مقصد کو پورا کرنا چاہتے تھے جو امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کا مقصد تھا۔


ولایت پورٹل:
امام زین العابدین(ع) نے محمد بن شہاب زہری کو جو خط لکھا ہے وہ آپ کی زندگی کے ایک حادثہ کا نمونہ ہے، یہ خط اس شخص کی طرف سے ہے جو خاندانِ رسول(ص) سے نسبت رکھتا ہے،اپنے زمانہ کے مشہور دانشور کی طرف سے ہے،اس سلسلہ میں بہت سے نظریات ہوسکتے ہیں،یہ خط ایک کثیرالجہات، وسیع اور بنیادی جہادکا ایک جز ہوسکتا ہے۔ ایک معمولی نہی عن المنکر ہوسکتا ہے اور ایک شخصیت کا دوسری شخصیت پر اعتراض بھی ہوسکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے تاریخ میں دو یا چند شخصیتوں کے درمیان بہت سے اختلافات و اعتراضات نظر آتے ہیں،اس عہد کے دیگر حوادث سے قطع نظر خود ایسے واقعات سے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا،میری توجہ اس مسئلہ پر ہے کہ اگر ہم امام زین العابدین(ع)کی زندگی کی عمومی جہت گیری سے الگ ہوکر آپ(ع) کی زندگی کے جزئی واقعات کا مطالعہ کریں گے تو امام کی سوانح عمری (بایوگرافی) کو نہیں سمجھ سکیں گے،اہم بات یہ ہے کہ ہم عام جہت گیری کو سمجھیں۔
ہماری پہلی گفتگو امام کی زندگی میں کلی جہت گیری کے بارے میں ہے اور اس کو میں امام زین العابدین(ع) کے کلمات اور آپ کی زندگی کے کچھ قرائن نیز دیگر ائمہ(ع) کی زندگی کے کلی نتیجہ کے ساتھ بیان کروںگا اور وضاحت کروںگا۔
ہماری نظر میں  ۴۰ہجری میں ہونے والی صلح امام حسن(ع) کے بعد اہل بیت رسول(ص) اس بات پر راضی نہیں ہوئے کہ گھر میں بیٹھے رہیں اور احکام الٰہی کو جیسے چاہیں بیان کریں،بلکہ صلح کے آغاز ہی سے ہمارے تمام ائمہ(ع) کا منصوبہ یہ تھا کہ مقدمات فراہم کریں تاکہ اپنے نقطۂ نظر سے اسلامی حکومت چلائیں اور اس چیز کو ہم امام حسن مجتبیٰؑ کی زندگی اور آپ کے کلمات میں بخوبی ملاحظہ کرتے ہیں۔
امام حسن(ع) کا کام نہایت ہی عمیق اور بنیادی تھا، دس سال تک امام حسن(ع) نے انہیں کیفیتوں کے ساتھ زندگی گزاری اور اس مدت میں لوگوں کو اپنے پاس جمع کیا اور ان کی تربیت کی،ایک گروہ نے اپنی شہادت سے اور مخالفت آمیز باتوں سے معاویہ کی حکومت کی مخالفت کی اور نتیجہ میں اسے کمزور کیا۔
اس کے بعد امام حسین(ع) کا زمانہ آیا، آپ نے بھی مکہ و مدینہ اور دوسری جگہوں پر اسی روش کو مدنظر رکھا،یہاں تک کہ معاویہ اپنے کیفر کردار کو پہنچا اور واقعۂ کربلا رونما ہوا،اگرچہ واقعۂ کربلا نہایت ہی مفید قیام اور اسلام کے مستقبل کو تابناک بنانے والا تھا لیکن اس سے اس مقصد کے حصول میں تاخیر ہوئی جس کو امام حسن(ع)و امام حسین(ع) حاصل کرنا چاہتے تھے،کیونکہ اس سے لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے، امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کے مخلص دوست تہہ تیغ کردئیے گئے اور دشمن مسلط ہوگئے تھے اورطبیعی طور پر ایسا ہوا،اگر امام حسین(ع) کا قیام اس شکل میں نہ ہوتا تو گمان یہ تھا کہ اس کے بعد مستقبلِ قریب میں ایسی تحریک کا امکان تھا جس سے حکومت شیعوں کے ہاتھ میں آجاتی البتہ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قیام امام حسین(ع) کو نہیں ہونا چاہئیے تھا، بلکہ امام حسین(ع) کے قیام کے وقت جو حالات تھے ان حالات میں قیام و شورش کا وجود ناگزیر تھا اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے،لیکن! اگر وہ حالات نہ ہوتے یا اس ماحول میں امام حسین(ع) شہید نہ ہوتے تو قوی احتمال تھا کہ امام حسن(ع) کا مقصد جلد حاصل ہوجاتا۔
ائمہ(ع) اسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے اور اسلامی حکومت بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ امام حسین(ع) کربلا میں شہید ہوگئے اور امام زین العابدین(ع) بیماری کی حالت میں اسیر ہوئے اور اسی وقت سے امام زین العابدین(ع) کی ذمہ داری کا آغاز ہوا،اگر اس تاریخ تک یہ طے ہوتا کہ آئندہ کی ذمہ داری امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کے دوش پر ہوگی تو اس وقت کی ذمہ داری امام زین العابدین(ع) سنبھالتے اور پھر یہ دونوں ائمۂ بزرگوار آتے۔
اس بنا پر ہمیں امام زین العابدین(ع) کی پوری زندگی میں کلی مقصد اور آپ کی اصلی ڈگر کو ڈھونڈھنا چاہیئے اور ہمیں بلاتردد یہ مان لینا چاہیئے کہ امام زین العابدین(ع) اسی اَرمان و مقصد کو پورا کرنا چاہتے تھے جو امام حسن(ع) و امام حسین(ع) کا مقصد تھا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24