Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185727
Published : 16/2/2017 16:43

ابن تیمیہ کی حقیقت(۱)

قاضی اِخنائی(ابن تیمیہ کے ہم عصر)نے« المقالة المرضیة» میں اور دوسرے چند حضرات نے بھی ابن تیمیہ کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ہے اور اس کے عقائد کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کو مسترد اور ناقابل قبول جانا ہے۔


ولایت پورٹل:
ابن تیمیہ کا اصل نام ابو العباس احمد بن عبد الحلیم حرّانی (متولد:  ۶۶۱ہجری متوفی  ۷۲۸ہجری) تھا اور ابن تیمیہ کے نام سے مشہور تھا، وہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف حنبلی علماء میں سے تھا لیکن چونکہ اس کے نظریات اور عقائد دوسرے تمام مسلمانوں کے برخلاف تھے جن کو وہ ظاہر کرتا رہتا تھا جس کی بناپر دوسرے علماء اس کی سخت مخالفت کرتے تھے، اسی وجہ سے وہ مدتوں تک قید خانے میں بند رہا اور سختیاں برداشت کرتا رہا، چنانچہ اسی شخص کے نظریات اور عقائد بعد میں وہابیوں کی اصل اور بنیاد قرار پائے ہیں۔
ابن تیمیہ کے حالات زندگی دوستوں اور دشمنوں دونوں نے لکھے ہیں اور ہر ایک نے اپنی نظر کے مطابق اس کاتعارف کرایاہے، اسی طرح بعض مشہور علماء نے اس کے عقائد اور نظریات کے بارے میں کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں، اس سلسلہ میں جوسب سے قدیم اور پرانی کتاب لکھی گئی ہے اور جس میں ابن تیمیہ کے حالات زندگی کو تفصیل کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس کی بہت زیادہ عظمت واہمیت بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ ابن کثیر کی کتاب «البدایہ والنہایہ» ہے ،اسی طرح عمربن الوَردی نے اپنی تاریخی کتاب میں ، صلاح الدین صفدی نے اپنی کتاب «الوافی بالوفَیات» میں ، ابن شاکر نے «فوات الوفَیات» میں اور ذہبی نے اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں ابن تیمیہ کی بہت زیادہ تعریف وتمجید کی ہے۔(۱)
لیکن دوسری طرف بہت سے لوگوں نے اس کے عقائد و نظریات کی سخت مذمت اور مخالفت کی ہے، مثلاً ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ «تحفۃ النُظّار» میں، عبد اللہ بن اسعد یافعی نے «مرآۃ الجنان»  میں، تقی الدین سبکی(آٹھویں صدی ہجری کے علماء میں سے) نے«شفاء السِقام فی زیارۃ خیر الانام» اور« درّۃ المفیدة فی الردّ علی ابن تیمیة»  میں ، ابن حجر مکی نے کتاب «جوھر المنظم فی زیارۃ قبر النبی المکرم» اور «الدُّرَرُ الکامنة فی اعیان المأۃ الثامنة» میں، عز الدین بن جماعہ اور ابو حیان ظاہری اندلسی ، کمال الدین زَملکانی (متوفی  ۷۲۷ہجری) نے کتاب « الدّرَۃُ المضیئة فی الرد علی ابن تیمیة» حاج خلیفہ کی« کشف الظنون»  کی تحریر کے مطابق، ان تمام لوگوں نے ابن تیمیہ کی سخت مخالفت کی ہے اور اس کے عقائد کو ناقابل قبول کہا ہے۔
قاضی اِخنائی۔(۲)(ابن تیمیہ کے ہم عصر)نے« المقالة المرضیة» میں اور دوسرے چند حضرات نے بھی ابن تیمیہ کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ہے اور اس کے عقائد کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کو مسترد اور ناقابل قبول جانا ہے۔(۳)
....................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ذہبی نے اپنی کتاب العبر میں ابن تیمیہ کے عقائد و افکار کو ذکر کرتے ہوئے اس کی باتوں کو فتنہ و فساد سے تعبیر کیا ہے:ص ۳۰ ۔
۲۔اخناء مصر کا ایک قدیمی شہر ہے۔
۳۔رسالۃ العقیدۃ الواسطیۃ،ابن تیمیہ پر اس کے چند ہم عصر علماء نے اعتراضات کیے ہیں خود اس نے رسالہ المناظرۃ فی العقیدۃ الواسطیۃ میں اس کے مفصل جوابات تحریر کئے ہیں۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15