Tuesday - 2018 June 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185731
Published : 16/2/2017 17:26

شکریہ آپ کا شکریہ

اگر کوئی رشتہ دار یا دوست ایک جوڑی بیکار سی جوراب یا بیکار سے پھولوں سے بنا کوئی گل دستہ تمہیں پیش کردے تو تم سینکڑوں مرتبہ «شکریہ کے پھول»اس پر نچھاور کروگی لیکن اپنے شوہر کے دائمی احسانات کو اپنی زبان مبارک پر لاکر اظہار شکریہ (کہ جس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے) کرنے سے دریغ کرتی ہو؟

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کڑی میں ازدواجی زندگی میں شکریہ کی اہمیت پر ایک تمہیدی گفتگو کی تھی آج اسی مضمون کے کچھ اہم گوشوں کی طرف آپ کی توجہات کو مبذول کرائیں گے لہذا اس سلسلہ کی گذشہ بحث کو پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے!
زدواجی زندگی کی مٹھاس
 
محترم خاتون !تمہارا شوہر بھی  ایک عام انسان ہے ،اسے  قدردانی اور شکریہ اچھا لگتا ہے ،زندگی کے اخراجات پورے  کرتا ہے ، اور اپنے ہاتھوں کی کمائی کو اخلاص کے ساتھ مفت میں تمہارے خدمت میں پیش کردیتا ہے اور اس عمل کو وہ ایک اخلاقی اور شرعی ذمہ داری شمار کرتے ہوئے انجام دے کر خوشی محسوس کرتا ہے لیکن وہ تم سے یہ  توقع رکھتا ہے کہ تم اس کے وجود کو غنیمت جان کر اس کے ان  کاموں کی قدر کرو اور وہ جب بھی  زندگی کے ضروری  اسباب و سامان خرید کر گھر لائے تو تم اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرو،جب بھی تمہارے لئے یا تمہاری اولاد کیلئے جوتے ، کپڑے یا کوئی دوسری چیز خرید کر لائے تو تم بڑھ کر اس کے ہاتھ سے لو اور خوشی کا اظہار کرو ، اور اس بات میں کیا قباحت ہے کہ جو تم کہہ دو کہ آپ کا بہت بہت شکریہ ؟ میٹھائی ، پھل یا کوئی اور چیز گھر لائے تو  بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے لو اور ان کی جگہ رکھ دو ،اگر تم بیمار ہو جاؤ اور وہ  تمہارے علاج ،  معالجہ کیلئے کوشش کرے تو جب تمہیں شفامل جائے تو اس کا شکریہ ادا کرو ،اگر تمہیں کہیں سفر یا  تفریح پر لے جائے تو اس کا  شکریہ ادا کرو،  اگر تمہارا جیب خرچ دیا ہے تو اس کی قدر کرو ، اور ہاں ! احتیاط کرتے ہوئے کبھی اس کے کاموں کو چھوٹا مت شمار کرو ، اور نہ ہی اس کی بنسبت لاپرواہی اور کوتاہی کرو ، اس کو کبھی نظر انداز مت کرو،اور اگر تم نے اس کے کاموں کو اہمیت دیتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا تو وہ اپنے اوپر فخر کرے گا  اور گھر کی تمام ضروریات میں پیسہ خرچ کرنے کا جذبہ بڑھ جائے گا  ، اور ہمیشہ یہ کوشش  کرے گا کہ احسان کرکے تمہارے دل کو جیتے لیکن اگر تم نے اس کے کاموں کو چنداں اہمیت نہیں دی اور لاپرواہی کرتے ہوئے ان کی طرف نگاہ ڈالی  تو اس کا جذبہ اور حوصلہ دم توڑ دے گا اور یہ سوچنے لگے گا : کیوں میں اپنی محنت کی کمائی ان نمک حراموں پر خرچ کروں کہ جن کی نظر میں میری کوئی قدر و قیمت نہیں ہے  اور جو میرے احسان اور نیکی کو یاد ہی نہیں کرتے ،اس طرح آہستہ آہستہ وہ گھر اور زندگی سے لاتعلق ہوجائے گا  اور گھر میں خرچ کرنے سے دامن بچانے لگے گا  نیز کسب معاش سے بھی اس کا دھیان منصرف ہوجائے گا  اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ   اپنے ذہن میں عیاشی اور آوارگی کی فکر پروان چڑھانے لگے  اور اپنی دولت و ثروت کو دوسروں پر خرچ کرنے لگے ،بے  چارہ مرد تو صرف مفت کی  ایک تعریف اور شکریہ سے خوش ہوجاتا ہے  لیکن تمہیں یہ کام بھی دشوار نظر آتا ہے؟!
اگر کوئی رشتہ دار یا دوست ایک جوڑی بیکار سی جوراب یا بیکار سے پھولوں سے بنا کوئی  گل دستہ تمہیں  پیش کردے تو تم  سینکڑوں  مرتبہ «شکریہ کے پھول»اس پر نچھاور کروگی لیکن اپنے  شوہر کے دائمی احسانات کو اپنی زبان مبارک پر لاکر اظہار شکریہ (کہ جس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے) کرنے سے دریغ کرتی ہو؟!
جاری ہے


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 June 19