Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185756
Published : 18/2/2017 17:3

وائٹ ہاؤس صہیونیوں کی آواز(ایک تجزیہ)

صیہونی وزیر اعظم نے اپنے دورہ امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات میں جو بیانات دیئے ہیں وہ فریب کاری سے بھرے ہوئے ہیں،نیتن یاھو نے مسلمانوں کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کی جڑ قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:ٹرمپ نے بھی بیت المقدس اور صیہونی کالونیوں نیز فلسطینیوں کی تقدیر کے بارے میں متضاد بیانات دیتے ہوئے ایک بار پھر صیہونی حکومت کی ہمہ گیر حمایت پر تاکید کی ہے،قابل غور نکتہ یہ ہے کہ نیتن یاھو نے دہشتگردی کے بارے میں عوام فریبی پر مبنی بیان دیا ہے۔ انہوں نے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ نیتن یاھو ایسے وقت میں خطروں اور دہشتگردی کے بارے میں بات کررہے اور صیہونی حکومت اور امریکہ کی خاص اصطلاحات میں مسلمانوں کو انتہا پسندی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ جب صیہونی حکومت کی اپنی ماہیت اور وجود ہی دہشتگردی پر استوار ہے۔صیہونی حکومت کی دہشتگردانہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس غاصب حکومت کی پیچیدہ دہشتگردانہ ماہیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ صیہونی حکومت کےابتدائی دہشتگرد گروہ  ایرگون، اشترن اور ہاگانا نامی گروہ تھے جنہوں نے انیس سو تیس اور انیس چالیس میں فلسطینیوں کو ترک وطن پر مجبور کرنے میں نہایت ہی گھناونا رول ادا کیا تھا۔آج بھی صیہونی حکومت کے ڈیتھ اسکواڈ فعال ہیں تا کہ صیہونی حکومت اپنی غاصبانہ حیات کو جاری رکھ سکے۔صیہونی حکومت کی کارکردگی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جرائم ڈھانے میں کسی حد تک بھی جاسکتی ہے۔ قدس کی غاصب حکومت نہایت خونریز دہشتگردانہ اقدامات میں ملوث ہے۔ صیہونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد نے گذشتہ تین دہائیوں میں چودہ مرتبہ فلسطینی حکام اور رہنماوں کو اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے اور ان کارروائیوں میں سولہ فلسطینی اور عرب شخصیتوں کو قتل کیا ہے۔ یہ کارروائیاں گیارہ عرب اور غیر عرب ملکوں میں انجام دی گئی تھیں۔کچھ دنوں قبل صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل دو نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا  کہ موساد میں کیدون نامی ٹارگٹ کلنگ  سیل ہے۔ اس چینل نے اعتراف کیا کہ اس ڈیتھ اسکواڈ نے اب تک مختلف ملکوں  منجملہ ایران میں ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں انجام دی ہیں۔صیہونی حکومت کے اسی دہشتگردانہ سیل نے تحریک حماس کے رہنما محمود المبحوح کو قتل کیا ہے اور ایران میں ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔صیہونی حکومت کے اقدامات سے کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ دنیا کو نہایت شرپسند اور دہشتگرد حکومت کا سامنا ہے جس نے اپنے اقدامات سے علاقے اور دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔وہ چیز جو باعث بنی کہ صیہونی وزیر اعظم اپنی فریب کاری کو جاری رکھیں وہ ٹرمپ کے انتہا پسندانہ اقدامات ہیں۔ ٹرمپ  بہت سی حکومتوں کی نصیحتوں کے باوجود  مسلمانوں کے خلاف بدستور مخاصمانہ بیانات دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف امریکی صدر کے مخاصمانہ بیانات صیہونی حکومت کی دین مخالف بالخصوص مسلمان مخالف پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے جن میں شدت بھی آگئی ہے۔قابل ذکرہے ٹرمپ اور نیتن یاھو کی  پالیسیاں ایک دوسرے سے ایک طرح سے ہماہنگ ہیں۔ادھر صیہونی لابی بھی امریکی حکام کی پالیسیوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف ڈونالڈ ٹرمپ کی بیان بازی میں صیہونیوں کی تعلیمات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی فضا میں وائٹ ہاوس صیہونی حکومت کی فریبکارانہ اور انسانیت سوز پالیسیوں کے پروپیگنڈے کا ٹریبیون بن چکا ہے اور اس سے  پتہ چلتا ہےکہ صیہونی حکومت اور امریکہ فلسطین اور عالم اسلام کے خلاف نئی نئی سازشیں رچ رہے ہیں۔ 
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19