Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185764
Published : 18/2/2017 17:58

عرب کا قبائلی نظام

س زمانہ میں عربوں میں«ملّیت»اور «قومیت»وحدت دین،زبان یا تاریخ جیسے مختلف موضوعات کی بنیاد پر متصور نہیں تھی بلکہ چند خاندانوں کے مجموعہ کو «قبیلہ»کہتے تھے اور حسب و نسب اور خاندانی رشتے و ناطے ہی افراد کے درمیان تعلقات کی بنیاد تھے،اور انھیں چیزوں کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان تعلقات اور رشتے قائم تھے کیونکہ ہر قبیلہ کے لوگ اپنے کو اسی قبیلہ کے خون سے سمجھتے تھے۔


ولایت پورٹل:
ظہور اسلام سے قبل حجاز کا علاقہ کسی حکومت کے تابع نہیں تھا اور وہاں کوئی سیاسی نظام نہیں پایا جاتا تھا اسی بنا پرا ن کی معاشرتی زندگی ایران اور روم کے لوگوں سے بہت زیادہ فرق کرتی تھی،کیونکہ یہ دونوں ملک سعودی عرب کے ہمسایہ تھے اور ان میں مرکزی حکومت پائی جاتی تھی جس کے زیر نظر ملک کے تمام علاقے تھے اور وہاں پر مرکز کے قوانین نافذ تھے،لیکن حجاز(مجموعی طور سے شمال اور مرکز جزیرۃالعرب کے علاقہ کو کہتے ہیں)میں ایک مرکزی حکومت شہروں میں بھی موجود نہیں تھی،عرب کے سماج کی بنیاد قبیلے پر اور ان کا سیاسی اور اجتماعی نظام قبائلی نظام کے مطابق تھا اور یہ نظام ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں میں نمایاں تھااور اس نظام میں لوگوں کی حیثیت صرف کسی قبیلہ سے منسوب ہونے کی بنا پر متعین ہوتی تھی۔
قبیلہ جاتی زندگی کا تصور نہ تنہا صحرا نشینوں میں بلکہ شہروں میں بھی نمایاں تھا،اس علاقہ میں ہر قبیلہ ایک مستقل ملک کے مانند تھا اور اس دور میں قبائل کے درمیان تعلقات ویسے ہی تھے جیسے آج کسی ملک کے تعلقات دوسرے ملکوں سے ہوتے ہیں۔
نسلی رشتہ
اس زمانہ میں عربوں میں«ملّیت»اور «قومیت»وحدت دین،زبان یا تاریخ جیسے مختلف موضوعات کی بنیاد پر متصور نہیں تھی بلکہ چند خاندانوں کے مجموعہ کو «قبیلہ»کہتے تھے اور حسب و نسب اور خاندانی رشتے و ناطے ہی افراد کے درمیان تعلقات کی بنیاد تھے،اور انھیں چیزوں کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان تعلقات اور رشتے قائم تھے کیونکہ ہر قبیلہ کے لوگ اپنے کو اسی قبیلہ کے خون سے سمجھتے تھے۔(۱) خاندان کے اجتماع سے خیمہ اور خیموں کے اجتماع سے قبیلہ وجود پاتا تھا،اور متعدد قبیلوں سے مل کر بڑی تنظیمیں تشکیل پاتی تھیں جیسے یہودیوں کی تنظیم ایک ہی نسل اور خاندان کی بنیاد پر تھی،یہ لوگ اپنے خیموں کو اتنا قریب نصب کرتے تھے کہ اس سے چند ہزار افراد پر مشتمل قبیلہ ہوجاتا تھا اور پھر ایک ساتھ مویشیوں کے ہمراہ کوچ کرتے تھے۔(۲)
............................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔احمدامیں، فجرالاسلام، ص۲۲۵،عبدالمنعم ماجد، التاریخ السیاسی للدولہ العربیہ، (قاہرہ :ط۷،۱۹۸۲) ص۴۸۔
۲۔کارل بروکلمان ،تاریخ دول وملل اسلامی ،ص۶،۵۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15