Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185846
Published : 21/2/2017 19:31

افغانستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی کے منفی اثرات(ایک تبصرہ)

افغانستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہےکہ اس نے پاکستان کی سرزمین میں موجود دہشت گردی کے بتیس تربیتی مراکز کی فہرست پاکستانی حکام کے حوالے کی ہے اور اسے توقع ہے کہ نواز شریف کی حکومت ان مراکز اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

ولایت پورٹل:افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ اس فہرست میں ، کہ جو اسلام آباد میں قائم افغانستان کے سفارت خانے کے توسط سے پاکستانی حکام کو دی گئی ہے ، طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروہوں منجملہ حقانی گروہ کے پچاسی اہم سرغنوں کے نام بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے صوبۂ سندھ میں ایک درگاہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں افغان سفارت کاروں کو طلب کر کے ان کو چھہتر مطلوب دہشت گردوں کی فہرست دی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ افغان حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے یا ان کو گرفتار کر کے پاکستان کی تحویل میں دے۔ اس لئے افغانستان کی جانب سے پاکستان کو فہرست دیئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس ملک کی حکومت مشترکہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنےکے لئے تیار ہے۔ کابل حکومت کے زاویۂ نگاہ کے مطابق افغانستان پر پاکستان کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ افغانستان میں آزاد حکومت قائم ہے جو قومی اقتدار اعلی کی مالک ہے اور پاکستانی فوج افغانستان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کر سکتی ہے۔ اگرچہ افغانستان کی حکومت نے پاکستانی فوج کی جانب سے سرحدی علاقوں پر میزائل داغے جانے کے سلسلے میں صبر و تحمل سےکام لیا ہے لیکن کابل حکومت کے نزدیک صرف باہمی تعاون اور دونوں ملکوں کے اقتدار اعلی اور قومی مفادات کے احترام کی صورت میں ہی خطے میں دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود فوجی جھڑپوں پر منتج ہونے والی کشیدگی کے جاری رہنے کے بعض غیر محسوس منفی نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کی نقل مکانی بھی شامل ہے۔ پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں سرحد پر رہنے والوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کے باعث ان کے خاندانوں کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں پاکستان افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے طورخم اور چمن کی گزرگاہوں کو بند کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے معاشی اور اقتصادی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ سرحد پر اشیائے خورد و نوش ، ادویات اور ضروری سازوسامان لے جانے والے ٹرکوں کو روک دیئے جانے سے افغان عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے رابطے کا واحد راستے یہی دو گزرگاہیں ہیں۔ اس لئے ان کو اور پاکستانی عوام کو توقع ہے کہ کابل اور اسلام آباد دہشت گردی کے مقابلے کے عمل میں تیزی لا کر ان کی مشکلات کا خاتمہ کر دیں گے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ دہشت گردی افغانستان اور پاکستان دونوں کا مشترکہ دشمن ہے اس لعنت کا مقابلہ دوطرفہ تعاون کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سولہ برسوں سے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکہ کے فوجیوں نے نہ صرف اس ملک اور  پاکستان کی سیکورٹی مشکلات حل کرنے میں مدد نہیں دی ہے بلکہ یہ فوجی بجائےخود خطے کی ایک بڑی مشکل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ بنابریں افغانستان کے سیاسی حلقوں  کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ منہ زوری پر مبنی رویہ اختیار کئے جانے سے نہ تو دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی خطے کی مشکلات حل ہوں گی ۔ یہی وجہ ہے کہ افغان حکام نے دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستان کے میزائل حملے کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر افغان حکام اپنی دھمکی پرعمل کرتے ہیں تو اس سے خطے میں بدامنی اور بحران کو مزید ہوا ملے گی۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21