Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185849
Published : 21/2/2017 20:10

ابن تیمیہ کے مختصر حالات

جس وقت غازان خان دمشق کے نزدیک پہنچا تو دمشق کے لوگ کافی حیران وپریشان تھے، یکم ربیع الاول ۶۹۹ہجری بروز شنبہ ظہر کے وقت شہر دمشق سے نالہ وفریاد کی آوازیں بلند ہونے لگیں،عورتیں بے پردہ گھروں سے نکل پڑیں اور مرد دکانیں چھوڑ چھوڑ کر بھاگ نکلے، ان حالات میں لوگوں نے قاضی القضاۃ اور شیخ الاسلام تقی الدین سبکی ابن تیمیہ اور شریف زین الدین,نیز دیگر بڑے بڑے امراء اور فقہاء کو غازان کے پاس امان کی در خواست کرنے کے لئے بھیجا، جس وقت لوگوں کے یہ تمام نمائندے «بُنْک» نامی جگہ پر غازان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار چلا آرہا ہے ، یہ تمام لوگ اس کے سامنے زمین پر اتر آئے اور ان میں سے بعض لوگ زمین پر جھک کربوسہ دینے لگے.

ولایت پورٹل:
ابن تیمیہ کے حالات زندگی کا خلاصہ مختلف کتابوں اور منابع کے پیش نظر اس طرح ہے:
ابن تیمیہ ربیع الاول  ۶۶۱ہجری کو حَرّان(عراق کے مُضَرنامی علاقہ) میں پیدا ہوا، اس کا باپ حنبلیوں کے بڑے عالموں میں سے تھا جو مغلوں کے ظلم وستم کی وجہ سے شام چلا گیا تھا۔
ابن تیمیہ کے والد بیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور ابن تیمیہ نے اپنے باپ کی جگہ تدریس کا عہدہ سنبھالا،اور  ۶۹۱ہجری میں حج کے لئے گیا۔
چند سال بعد جس وقت وہ قاہرہ میں قیام پذیر تھا اس نے خداوندعالم کے صفات کے بارے میں ایک انوکھا فتویٰ دیا جس کی بناپر اس وقت کے علماء مخالفت کرنے لگے، جس کے نتیجہ میں اس کو تدریس کے عہدہ سے محروم کردیا گیا، اسی طرح اس نے سیدۃ نفیسہ(حضرت امام حسین(ع) کی اولاد میں سے مصر میں ایک قبر ہے جس کی مصریوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے)کے بارے میں کچھ کہا جس کی بناپر عوام الناس بھی اس سے برہم ہوگئے۔(۱)
اسی زمانہ میں اسے لوگوں کو مغلوں سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ کرنے پر مامور کیا گیا جس کی بناپر وہ شام چلا گیا اور چند جنگوں میں شرکت کی۔
۲۹۹ہجری میں اس نے غازان خان مغل کے مقابلہ میں ایک زبردست اقدام کیا اور لوگوں کو مغل سپاہیوں سے (جو شام تک پہونچ چکے تھے) لڑنے کے لئے بہت زیادہ جوش دلایا۔(۲)
ابن تیمیہ کی غازان خان سے ملاقات
جس وقت غازان خان دمشق کے نزدیک پہنچا تو دمشق کے لوگ کافی حیران وپریشان تھے، یکم ربیع الاول  ۶۹۹ہجری بروز شنبہ ظہر کے وقت شہر دمشق سے نالہ وفریاد کی آوازیں بلند ہونے لگیں،عورتیں بے پردہ گھروں سے نکل پڑیں اور مرد دکانیں چھوڑ چھوڑ کر بھاگ نکلے، ان حالات میں لوگوں نے قاضی القضاۃ اور شیخ الاسلام تقی الدین سبکی ابن تیمیہ اور شریف زین الدین۔(۳) نیز دیگر بڑے بڑے امراء اور فقہاء کو غازان کے پاس امان کی در خواست کرنے کے لئے بھیجا، جس وقت لوگوں کے یہ تمام نمائندے «بُنْک» نامی جگہ پر غازان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار چلا آرہا ہے ، یہ تمام لوگ اس کے سامنے زمین پر اتر آئے اور ان میں سے بعض لوگ زمین پر جھک کربوسہ دینے لگے، غازان رکا، اور اس کے بعض ساتھی گھوڑوں سے اترگئے، اہل دمشق کے نمائندوں نے کسی ایک مترجم کے ذریعہ اس سے امان کی درخواست کی اور اپنے ساتھ لائی ہوئی غذا پیش کی، جس پر غازان نے کوئی توجہ نہ کی، لیکن امان کی درخواست کو قبول کرلیا۔
ابن تیمیہ کی مغلوں سے دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب مغل بیت المقدس کے قرب وجوار میں تباہی اور غارت گری کے بعد دمشق لوٹے، تو ان کے ہمراہ بہت سے اسیربھی تھے اس موقع پر بھی ابن تیمیہ نے ان سے اسیروں کی رہائی کی درخواست کی، چنانچہ ان کو رہا کردیا گیا۔
جس وقت مغل دمشق سے باہر نکل آئے،اور امیر اَرجْوُاس وہاں کا حاکم ہوا ،تو اس نے ابن تیمیہ کے کہنے کی وجہ سے مغلوں کے بنائے ہوئے شراب خانوں کو بند کرادیا، شراب کو زمین پر بہا دیا اور شراب کے ظروف توڑڈالے۔(۴)
.............................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔صفدی،ج۷،ص۱۹۔
۲۔ابن شاکر،ج۱،ص۷۲ ۔
۳۔زین الدین سے مراد،شریف زین الدین قمی ہے جس کو غازان خان نے دوسرے تین لوگوں کے ساتھ دمشق کے لئے روانہ کیا تھا۔(السلوک،ج۱،ص۸۹۰ )۔
۴۔مقریزی،در السلوک،ج۱،باب ۳،ص ۸۸۹ ۔ ۹۰۰ ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21