Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185858
Published : 22/2/2017 16:53

شیر خوار بچے کی تربیت(۲)

بچہ چند دن کا ہو،یا چند سال کا ہو یا جوان، حتی کہ جوانی کی حد سے نکل جانے والے لوگ بھی ماؤں کی گود میں سر رکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں،اللہ تعالی نے ماں کی قربت میں ایک انمول کشش رکھ دی ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتی،جو مائیں اپنی سستی، کوتاہی یا کسی مجبوری کی بنا پر ہی سہی، اپنے بچوں کے ساتھ ایسا تعلق پیدا نہیں کر سکتیں، ان کے بچے ساری عمر ماں کی محبت میں کمی اور تشنگی کو محسوس کرتے رہتے ہیں،مثبت اور خوشگوار مشاہدات، جذبات و احساسات کا حامل بچہ اپنے لاشعور سے زیادہ قریب ہوتا ہے،اس میں قوت اعتماد، قوت فیصلہ اور سمجھ بوجھ زیادہ پائی جاتی ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں بچے کے ذہن پر ماں کے دودھ ،اس کی محبت نیز ماحول کے مثبت یا منفی اثرات کا تذکرہ کیا،یہ مضمون بھی پچھلے مضمون کا تکملہ ہے لہذا تکمیل معلومات کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!

شیر خوار بچے کی تربیت(۱)
بچہ چند دن کا ہو،یا چند سال کا ہو یا جوان، حتی کہ جوانی کی حد سے نکل جانے والے لوگ بھی ماؤں کی گود میں سر رکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں،اللہ تعالی نے ماں کی قربت میں ایک انمول کشش رکھ دی ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتی،جو مائیں اپنی سستی، کوتاہی یا کسی مجبوری کی بنا پر ہی سہی، اپنے بچوں کے ساتھ ایسا تعلق پیدا نہیں کر سکتیں، ان کے بچے ساری عمر ماں کی محبت میں کمی اور تشنگی کو محسوس کرتے رہتے ہیں،مثبت اور خوشگوار مشاہدات، جذبات و احساسات کا حامل بچہ اپنے لاشعور سے زیادہ قریب ہوتا ہے،اس میں قوت اعتماد، قوت فیصلہ اور سمجھ بوجھ زیادہ پائی جاتی ہے۔
دماغ کے ماڈل کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ دماغ کے پہلے حصے (Primitive) شروع کے تین سال کی عمر میں مکمل ہو جاتے ہیں،نو سے گیارہ سال کی عمر میں دماغ میں تبدیلی آتی ہے،دماغ کوئی پتھر کا ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ اس میں مستقل تبدیلی آتی رہتی ہے،عمر کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت، ماحول، جذبات و احساسات، تجربات و مشاہدات اس کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کے پہلے سے بہتر مطالبات ہوتے ہیں،گویا انسانی مشینری ہمہ وقت اور بھرپور توجہ کی متقاضی ہے،یہ کوئی جامد چیز نہیں ہے کہ بس ایک لگے بندھے طریقے سے چلتی رہے گی۔
دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد بچے کو اچھا انسان اور بہترین مسلمان بننے کے لئے، بہترین ماحول چاہیئے،شخصیت کی صحت مندانہ نشو و نما کے لئے ایک صحت مند تصور ذات اسے والدین اور اہل خانہ ہی فراہم کر سکتے ہیں،اگر والدین بچے کی عزت نفس اور اس کی شخصیت کی نفی کا رویہ اختیار کریں گے، تو اس کے ذہن میں یہی نقوش ثبت ہو جائیں گے اور وہ کبھی اپنے والدین یا اہل خانہ کے بارے میں مثبت انداز فکر نہیں اپنا سکے گا، الا یہ کہ اس کی ذہنی نشو و نما کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں اس منفی رویہ کو خود بدل لیا جائے۔
بہرحال جو اثرات ایک مرتبہ قائم ہو جائیں وہ ختم تو نہیں ہوتے، البتہ بعد کے حالات اس میں تبدیلی ضرور لا سکتے ہیں،اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ ایک پانی کا چشمہ اپنے فطری بہاؤ کے ساتھ فطری راستے پر بہہ رہا ہو،اگر اس راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے تو پانی فطری راستے کی بجائے مختلف اطراف میں بہنا شروع کر دے گا۔
بچے کے ذہن میں مثبت طرز فکر پہنچاتے رہنا چاہیئے،بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹا سا بچہ شاید ہماری بات نہیں سمجھ رہا، مگر وہ اس کے ذہن میں ریکارڈ ہوتی جاتی ہے اور جب، جہاں جس طرح وہ بات کارآمد ہو، ذہن وہاں منتقل کر دیتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21