Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185870
Published : 22/2/2017 19:46

فقہ کے درس خارج میں رہبر انقلاب کا بیان:

قدرتی آفات سے نپٹنے کے لئے طویل المدت منصوبہ بندی کی ضرورت :رہبر انقلاب

رہبر انقلاب نے گرد کے طوفان جیسے قدرتی آفات کے حل اور اس کی طویل المدت منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ مستقبل میں آج کی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹہرایا جائے گا،آپ نے زور دیکر کہا کہ عوام کی ان مشکلات کو قریب سے محسوس اور اسے حل کرنے کے لئے فکر و عمل کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور ہمدلی کے جذبے کو بروئے کار لانے کی سخت ضرورت ہے۔

ولایت پورٹل:
رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی نے پیر کی صبح کو فقہ کے درس خارج کی ابتدا میں ایران کے جنوبی علاقوں میں سیلاب اور گرد و غبار کے طوفان کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ انتہائی دلخراش واقعات ہیں اور ملک کے اعلٰی عہدے داروں کو حکم دیا کہ فکر و عمل اور کوشش اور ہمدلی کے ساتھ، ان مشکلات کے حل اور اس کے حتمی علاج کے لئے، فوری اقدام کریں۔
قائد انقلاب نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو ایک بڑا المیہ قرار دیا جس کے نتیجے میں علاقے کے عوام اور بے شمار گھرانوں کو بہت زیادہ نقصان بہنچا ہے،آپ نے زور دے کر کہا کہ ایران کے جنوبی علاقوں کے سیلاب زدہ افراد تک امدادی ساز و سامان کی (فوری) رسائی، ملک کے تمام اعلی عہدے داروں کی ذمہ داری ہے۔
رہبر انقلاب نے موسم سرما کے دوران، ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں گرد کے طوفان اور اس کے نتیجے میں پانی اور بجلی کے نظام کے منقطع ہونے کو بھی افسوس ناک اور عوام کے لئے انتہائی المناک قرار دیا،آپ نے زور دے کر کہا کہ منتظمین کا فرض ہے کہ جلد از جلد ان مشکلات کو حل کریں، آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ :اگر کسی بھی شخص کو عوام کی فکر ہو، تو خوزستان کو درپیش دشواریوں اور مسائل کو لے کر  خاموش نہیں بیٹھ سکتا اور اپنے عوام کے بارے میں سوجھ بوجھ سے کام لینا تمام حکومتوں کی حتمی، فوری اور مستقل ذمہ داری ہوتی ہے۔
رہبر  انقلاب نے گرد کے طوفان جیسے قدرتی آفات کے حل اور اس کی طویل المدت منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ مستقبل میں آج کی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹہرایا جائے گا،آپ نے زور دیکر کہا کہ عوام کی ان مشکلات کو قریب سے محسوس اور اسے حل کرنے کے لئے فکر و عمل کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور ہمدلی کے جذبے کو بروئے کار لانے کی سخت ضرورت ہے۔
leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20