Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185886
Published : 23/2/2017 17:23

امامت اور تعلیم معارف و احکام دین

حضرت امیر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:خدا کی قسم !اگر میرے لئے مسند علم بچھا دی جائے تو میں اہل توریت کے فیصلے توریت کے مطابق ، اہل انجیل کے انجیل کے مطابق، اہل زبور کے فیصلے زبور کے مطابق اوراہل قرآن کے فیصلے قرآن کے مطابق سناؤں گا۔

ولایت پورٹل:شیعہ عقیدہ کے مطابق امامت ایک الہی منصب ہے جسے خداوند عالم نے پیغمبر اکرم(ص) کے بعد آپ کے برحق جانشینوں کو عنایت فرمایا اور یہ عہدہ محض علم ،معرفت اور نفسانی کمال کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے ان ذوات مقدسہ کو عطا کیا اور ان بزرگوں کے پاس علم اولین و آخرین موجود ہے جیسا کہ خود حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:خدا کی قسم !اگر میرے لئے مسند علم بچھا دی جائے تو میں اہل توریت کے فیصلے توریت کے مطابق ، اہل انجیل کے انجیل کے مطابق، اہل زبور کے فیصلے زبور کے مطابق اوراہل قرآن کے  فیصلے قرآن کے مطابق سناؤں گا۔۔ تکمیل معلومات کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
عقیدہ امامت
 
کتاب وحکمت کی تعلیم نبوت کا ایک اہم مقصد ہے:«وَیُعَلِّمُهُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ» تعلیم کتاب وحکمت کا مرحلہ قرات و تلاوت اور لوگوں تک ابلاغ بعد کا مرحلہ ہے:«یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ» اگر چہ وحی و شریعت کا ابلاغ نبوت کی خصوصیت ہے اور ختم نبوت کے ساتھ وحی کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا اب کوئی نئی وحی یا شریعت نازل ہونے والی نہیں ہے جس کا ابلاغ امام اور جانشین پیغمبر(ص) کی ذمہ داری ہو لیکن وحی وشریعت کے معارف ومقاصد کی تعلیم،توضیح اور تشریخ کا کام ختم نہیں ہوا ہے یہ پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ آنحضرت(ص) کی نبوت کاعرصۂ مختصر تھا اور اس عرصہ کی سیاسی وسماجی حالات کے باعث وحی کے مقاصد ومعارف کی تعلیم اور توضیح وتشریح کے لئے مناسب ماحول اورسازگار حالات فراہم نہ ہو سکے دوسری جانب اگر وحی کے یہ حقائق ومعارف بیان نہ ہو ں تو نبوت کا ہدف ومقصد پورا نہ ہو گا لہٰذا عقل وحکمت کا تقاضا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) یہ معارف کسی لائق شخصیت کے سپرد کریں تاکہ وہ آنحضرت(ص) کے بعد مناسب مواقع اور حالات میں ان معارف واحکام کو بیان کر سکے یہی وجہ ہے کہ ائمہ ھدیٰ (ع) کی احادیث وروایات میں اس بات پر بے حد تاکید ہوئی ہے کہ ائمہ (ع):«راسخون فی العلم» ہیں اور انہیں قرآن کے تمام حقائق ومعارف کا علم ہے۔(۱)مشہور ومعروف حدیث نبوی میں حضرت علی(ع) کو «باب شہر علم» قرار دیا گیا ہے:«انا مدینة العلم وعلی بابھا فمن اراد العلم فلیأت من الباب»۔(۲)
بہ الفاظ دیگر خداوند عالم نے قرآ ن کو ایسی کتاب کہا ہے جس میں تمام احکام ومعارف الٰہی موجود ہیں چنانچہ ارشاد ہوتاہے:«وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ»۔(۳)حالانکہ ظاہری اعتبار سے قرآن میں تمام احکام ومعارف حاصل نہیں ہوتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کا ایک ظاہرہے اور ایک باطن اور قرآن کے باطن کا علم ہر ایک کے پاس نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ہوتاہے:«إِنَّهُ لَقُرْآنٌ کَرِیمٌ  فِی کِتَابٍ مَکْنُونٍ لاَیَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ»۔(۴) اور نص قرآنی کے بموجب مطہرون صرف اہل بیت اطہار  (ع) ہی ہیں۔(۵) یہی وجہ کہ امامت کے اعلان کے ساتھ ہی دین کے کامل ہونے کا اعلان بھی ہوا:«الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ»۔(۶)
خلاصہ یہ کہ:
۱۔قرآن میں تمام احکام ومعارف الٰہی موجود ہیں جب کہ ظاہرقرآن سے تمام احکام ومعارف حاصل نہیں ہوتے اور یہ علوم ہر ایک کی دسترس میں نہیں ہیں۔
۲۔پیغمبر اکرم(ص) کی ذمہ داری تھی کہ قرآن کریم کے حقائق ومعارف مسلمانوں کے لئے  بیان فرمائیں:«وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم»۔(۷)
لیکن نبی اکرم(ص) کی احادیث میں دین کے تمام احکام ومعارف نہیں ملتے،ایک جانب یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت(ص) نے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا اور تمام احکام ومعارف بیان نہیں فرمائے دوسری جانب احادیث نبوی میں تمام معارف موجود نہیں ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ(ص) نے یہ علوم ومعارف اپنے جانشین کے سپرد کردئیے ہیں تاکہ وہ مناسب حالات میں بیان کر دے۔
۳۔ آیۂ کریمہ:«اکملت لکم دینکم»اورحدیث«انا مدینة العلم»نیز امیر المؤمنین (ع)کے وسیع علم سے مربوط دیگر احادیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ دینی احکام ومعارف کی تعلیم بھی امامت کی ایک ذمہ داری ہے،امیر المؤمنین(ع)علوم پیغمبر(ص) کے وارث تھے آپ نے کسی حد تک یہ علوم تعلیم فرمائے اور بقیہ علوم دیگر ائمہ کے سپرد کر دئیے۔
...................................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔نہج البلاغہ، مکتوب:۴۵۔
۲۔اس موضوع سے متعلق بعض روایات «شیعہ منابع و مآخد»کی بحث میں پیش کی گئی ہیں۔
۳۔المستدرک،ج ۳،ص۱۲۶۔۱۲۷،حدیث کی سند اور علم امیر المؤمنین(ع) سے متعلق دیگر احادیث کے لئے کتاب «قادتنا کیف نعرفھم»،ج۲ ،باب ۲۳کی طرف رجوع فرمائیں۔
۴۔سورہ نحل:آیت۸۹۔
۵۔سورہ احزاب:آیت۳۳ ۔        
۶۔سورہ واقعہ:آیت۷۷تا ۷۹۔
۷۔سورہ مائدہ:آیت۳۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19