Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185890
Published : 23/2/2017 18:12

عرب میں انتقام کی رسم

عرب میں اسلام سے پہلے کوئی ایسی مرکزی حکومت یا کمیٹی موجود نہیں تھی جو لوگوں کے اختلافات کو ختم کرے اور وہاں پر عدل و انصاف قائم کرسکے،جس پر ظلم و ستم ہوتا تھا وہ اپنا انتقام خود لیتا تھا اور اگر ظالم دوسرے قبیلہ کا ہوا کرتا تھا تو مظلوم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنا بدلہ اس قبیلہ کے تمام افراد سے لے اور یہ چیز عربوں میں بہت عام تھی۔

ولایت پورٹل:عرب میں اسلام سے پہلے کوئی ایسی مرکزی حکومت یا کمیٹی موجود نہیں تھی جو لوگوں کے اختلافات کو ختم کرے اور وہاں پر عدل و انصاف قائم کرسکے،جس پر ظلم و ستم ہوتا تھا وہ اپنا انتقام خود لیتا تھا اور اگر ظالم دوسرے قبیلہ کا ہوا کرتا تھا تو مظلوم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنا بدلہ اس قبیلہ کے تمام افراد سے لے اور یہ چیز عربوں میں بہت عام تھی۔(۱) کیونکہ لوگوں کی خطائیں پورے قبیلہ کی طرف منسوب ہوتی تھیں اور قبیلہ کا ہر فرد رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ذمہ دار تھا کہ وہ اپنے قبیلے کے تمام افراد کی مدد کرے (بغیر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ وہ حق پر ہے یا ناحق)اور یہ ذمہ داری شروع میں گھر، خاندان اور اقرباء کی جانب سے انجام پاتی تھی اور جب اس میں وہ کامیاب نہیں ہوتے تھے اور خطرہ نہیں ٹلتا تھا تو گروہ اور قبیلہ کے دوسرے افراد اس کی مدد کرتے تھے۔
اگر کوئی قتل ہوجاتا تھا تو قصاص کی ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر ہوتی تھی۔(۲) اور اگر مقتول دوسرے قبیلہ سے ہوتا تھا تو وہاں پر انتقام کی «رسم»جاری ہوتی تھی اور قاتل کے قبیلہ کے ہر فرد کو یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں مقتول کے بدلہ میں اسے اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے ۔کیونکہ ان کی صحرائی سنت اور رسم یہ تھی کہ«خون صرف خون کے ذریعہ دھلتا ہے»اور خون کا بدلہ صرف خون ہے۔
لوگوں نے ایک اعرابی سے کہا:
کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جس نے تمہیں اذیت پہنچائی ہے اسے معاف کردو اور انتقام نہ لو؟اس نے جواب دیا کہ میں خوش ہوں گا اگر بدلہ لوں اور جہنم میں جاؤں۔(۳)
......................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔حسن ابراہیم حسن ،تاریخ سیاسی اسلام،ترجمہ:ابوالقاسم پایندہ،ص۳۹۔
۲۔بروکلمان،تاریخ دول و ملل اسلامی،ص۷،۶۔
۳۔نویری ،نہایة الارب فی فنون الادب (وزارۃ الثقافة و الارشاد القومی المصریة)،ج۶،ص۶۷۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21