Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185891
Published : 23/2/2017 18:14

کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں

امریکی اعلیٰ عہدہ داروں کا کہناہے کہ ہوسکتا ہے ہم داعش کے ساتھ مقابلہ کرنے کی اپنی اسٹراٹیجک بدل دیں۔


ولایت پورٹل:اسپوٹنیک نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکا کا خیال ہے کہ وہ داعش اور دوسرے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شام کی خانہ جنگی سے ہٹ کر مقابلہ کرے، اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ امریکہ اور ترکی نے رقہ شہر کو داعش سے آزاد کروانے میں حملہ کرنے کے لیے کرد فوج کو شامل نہیں کیا ہے جس کی پیشکش ترکی نے دی تھی کہ اس شہر کو آزاد کروانے میں امریکی اور شامی عرب فوج حصہ لیں گی یہ سب حربے اس لیے سامنے لائے جارے ہیں تا کہ روس کے ساتھ تعاون کے دروازے کھولے جاسکیں کیوں کہ اب تک روس ہوائی حملوں میں ترکی فوج کی مددکررہا تھا،یاد رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہم داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فوج بھی شام بھیج سکتے ہیں، یہ سب دعوے ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب بہت سارے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ داعش کا ایک اہم حامی اور اس کو قدرت بخشنے والا ہے۔
العالم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23