Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185895
Published : 23/2/2017 19:39

ابن تیمیہ کا فتنہ اور ہمعصر علماء کا موقف

«صَفَدی» کا بیان ہے کہ ربیع الاول ۶۹۸ہجری میں شافعی علماء میں سے بعض لوگ ابن تیمیہ سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے اور خداوندعالم کے بارے میں اس کی باتوں کو باطل اور مسترد قرارد یا، رسالۂ حمویہ میں اس کے صادر کردہ فتوے کو ناقابل قبول گردانا، اور اس سے بحث و گفتگو کے بعد دمشق شہر میں یہ اعلان کرادیا کہ حمویہ کے عقائد باطل اور بے بنیاد ہیں۔


ولایت پورٹل:ابن تیمیہ  فتنہ پروری میں بہت مشہور تھا اور جس کے اندھے اصول آج بھی عالم اسلام میں نہ جانے کتنے فتنوں کا سبب ہیں لہذا اس کی پر فتن زندگی سے آشنائی کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
ابن تیمیہ کے مختصر حالات
پہلی بار لوگوں نے ابن تیمیہ پریہ پر اعتراض ماہ ربیع الاول  ۶۹۸ہجری میں کیا کیونکہ اس نے رسالۂ حمویہ میں خداوندعالم کی صفات کے بارے میں ایک فتویٰ دیا جس کی وجہ سے اکثر فقہاء اس کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے، اس سے بحث و گفتگو کی، اور اس کو اس نظریہ کے اظہار سے روکا۔(۱)
اس سلسلہ میں«صَفَدی» کہتا ہے کہ ربیع الاول  ۶۹۸ہجری میں شافعی علماء میں سے بعض لوگ ابن تیمیہ سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے اور خداوندعالم کے بارے میں اس کی باتوں کو باطل اور مسترد قرارد یا، رسالۂ حمویہ میں اس کے صادر کردہ فتوے کو ناقابل قبول گردانا، اور اس سے بحث  و گفتگو کے بعد دمشق شہر میں یہ اعلان کرادیا کہ حمویہ کے عقائد باطل اور بے بنیاد ہیں، اور اس سلسلہ میں  ابن تیمیہ کو بھی اپنے عقائد کے اظہار سے رو ک دیا گیا۔(۲) اور مالکی قاضی کے حکم سے اس کو بحث وگفتگو کے جلسہ سے جیل بھجوا دیاگیا اور جب قاضی مالکی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ جیل میں بھی کچھ لوگ اس سے ملاقات کے لئے آمد و رفت کرتے ہیں تو اس پر سختی کرنے کا حکم صادر کردیا کیونکہ اس کا کفر ظاہر اور آشکار ہوتا جارہا تھا۔
عید فطر کی شب میں اس کو جیل کے بُرج سے نکال کر ایک کویں میں منتقل کردیا گیا اور دمشق میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جو شخص بھی ابن تیمیہ کے عقائد کا طرفدار ہوگا، خصوصاً اگر ایسا شخص جو فرقہ حنبلی کا طرفدار ہوگا تو اس کی جان ومال حلال ہے،حاکم کے اس حکم کو ابن الشِّہاب محمود نے جامع مسجد میں سب کے سامنے پڑھ کر سنایا،اس کے بعدتمام حنبلیوں کو ایک جگہ جمع کیا اور انھوں نے سب کے سامنے یہ گواہی دی کہ ہم لوگ شافعی مذہب کے پیروں ہیں،(یعنی ابن تیمیہ کے طرفدار نہیں ہیں)۔(۳)
ابن تیمیہ اسی کنویں میں قید تھا یہاں تک کہ «مُہَنّا»امیر آل فضل نے اس کی سفارش کی اور ۲۳؍ ربیع الاول کو قید سے آزاد ہوا، اس کے بعد جبل نامی قلعہ میں اس کے اور دیگر فقہاء کے درمیان بحث وگفتگو ہوئی اور ایک تحریر لکھی گئی کہ ابن تیمیہ خود کو اشعری مذہب کہلائےگا اور خود اس نے ایک تحریر پیش کی جس میں اس طرح لکھا ہوا تھا:میں اس چیز کا اعتقاد رکھتا ہوں کہ قرآن کریم ایسے معنی پر مشتمل ہے جو خداوندعالم کی ذات پر قائم ہے اور وہ خدا کی صفات میں سے ایک قدیمی صفت ہے، اور قرآن مخلوق نہیں ہے اور حرف اور آواز نہیں ہے، اور اس آیہ شریفہ:«اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ»۔(۴) کا مطلب ظاہر نہیں ہے اور میں اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہوں، بلکہ خدا کے علاوہ اس کے معنی کوئی نہیں جانتا، اور میرا وہ فتویٰ جو خدا کے نزول (خدا کا آسمان یا عرش سے نازل ہونا) کے بارے میں تھا بالکل وہی ہے جو مذکورہ آیت:«اسْتَویٰ»کے بارے میں کہا،اس تحریر کے آخر میں مرقوم تھا: کتبہ احمد بن تیمیہ ۔
اس موقع پرجلسہ میں موجود تمام فقہاء نے گواہی دی کہ ابن تیمیہ نے ۲۵؍ربیع الاول  ۷۰۷ہجری کو اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے مذکورہ مطالب کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرلی ہے۔(۵)
یہ تھی ابن حجر کی گفتگو ، لیکن ابن الوَردی کابیان ہے کہ ابن تیمیہ نے مدتوں تک کسی معین مذہب کے مطابق فتویٰ نہیں دیابلکہ اس کا فتویٰ وہی ہوتا تھا جودلیل سے اس پر ثابت ہو جاتا تھا اس نے وہی بات کہہ دی جس کو علمائے قدیم اور جدید سبھی نے اپنے دل میں رکھا لیکن اس کو زبان پرجاری کرنے سے پر ہیز کیا، لیکن حب ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں اپنی زبان کھولی تو اس وقت کے مصر و شام کے علماء نے اس کی مخالفت شروع کردی اور اس سے مناظرہ اور مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے لیکن وہ بغیر کسی خوف وہراس کے ہر وہ چیز ،جو اس کے اجتہاد کے مطابق ہوتی تھی اس کو پیش کردیتا تھا۔(۶)

................................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔الدرر الکامنۃ،ج۱،ص ۱۵۵ ۔
۲۔الوافی بالوفیات،ج۷،ص۲۲،رسالہ حمویہ کی مفصل گفتگو عقائد ابن تیمیہ کے ضمن میں آئے گی۔
۳۔ابن  حجر ،ج۱،ص ۱۵۷،ذہبی سن ۷۰۵ ہجری کے تاریخی واقعات کے بارے میں رقمطراز ہے کہ اسی سال ابن تیمیہ کا فتنہ رونما ہوا،اور یہ سب کچھ اس کے عقیدہ واسطیہ کی وجہ سے ہوا جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کے طرفدار اور بعض لوگ اس کی مخالفت میں کھرے ہوگئے،تین جلسوں میں عقیدہ واسطیہ کو پڑھا گیا،آخر کار اس کو مصر بھیج دیا گیا اور وہاں قاضی مالکی کے حکم سے اس کو اس کے بھائی سمیت قید میں ڈال دیا گیا،اس کے بعد ابن تیمیہ کو اسکندریہ شہر بدر کردیا گیا،ابن تیمیہ پر مصر میں یہ اعتراضات اٹھائے گئے کہ وہ کہتا ہے کہ خداوند عالم بطور حقیقی عرش پر مستقر ہے اور گفتگو کرتا ہے،اس کے بعد دمشق اور اس کے قریب و جوار میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جو کوئی بھی ابن تیمیہ کے عقیدہ کا طرفدار ہوگا اس کی جان و مال،حلال ہے(ذیل العبر،ص ۳۰۔ ۳۱)۔
۴۔سورہ طہ:آیت۵۔
۵۔ابن حجر،ج۱،ص۱۵۸ ۔
۶۔تاریخ ابن الوردی،ج۲،ص۴۱۰ ۔  


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24