Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185907
Published : 25/2/2017 17:20

ابن تیمیہ گستاخ رسول(ص) و صحابہ(۱)

ابن تیمیہ نے یہ فتویٰ دیا کہ پیغمبروں کی قبور کی زیارت کے قصد سے سفر نہیں کرنا چاہیۓ چنانچہ مختلف علماء نے اس کا جواب دیتے ہوا کہا:چونکہ اس کا مطلب عظمت نبوت کو گرانا ہے، لہٰذا اس طرح کا فتویٰ دینے والا کافر ہے۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام!ابن تیمیہ کی لگائی ہوئی آگ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے درمیان بہت سے بڑے فتنوں کو جنم دینے کا سبب بنی بلکہ اس کی گستاخیاں اس حد تک عروج پر پہونچی کے اس نے رحمۃ للعالمین جیسے رسول کی زیارت کو جانے والے پر کفر کے فتویٰ لگایا اور بزرگ صحابہ کی بھی توہین کی، اس پوری گفتگو کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
 ابن تیمیہ کا فتنہ اور ہمعصر علماء کا موقف
گذشتہ سے پیوستہ:شعبان المعظم  ۷۲۶ہجری میں ایک بار پھر علماء نے ابن تیمیہ کی مخالفت شروع کردی، کیونکہ ابن تیمیہ نے زیارت کے خلاف فتوی دیا تھا۔(۱)
ابن تیمیہ نے یہ فتویٰ دیا کہ پیغمبروں کی قبور کی زیارت کے قصد سے سفر نہیں کرنا چاہیۓ چنانچہ مختلف علماء نے اس کا جواب دیتے ہوا کہا:چونکہ اس کا مطلب عظمت نبوت کو گرانا ہے، لہٰذا اس طرح کا فتویٰ دینے والا کافر ہے، دوسرے لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ابن تیمیہ نے اس فتوے میں غلطی کی ہے لیکن یہ غلطی ان غلطیوں میں سے ہے جو قابل بخشش ہیں، چنانچہ اس امر کی عظمت اور اہمیت زیادہ ہوگئی، اور ابن تیمیہ کو الجبل نامی قلعہ میں دوبارہ قید کردیا گیا وہاں وہ بیس ماہ سے زیادہ قید رہا ، قید کی مدت میں اس کو لکھنے پڑھنے سے بھی محروم رکھاگیا۔(۲)
ابن تیمیہ ،مفسروں کی طرح منبر سے گفتگو کرتا تھااور ایک گھنٹہ میں قرآن وحدیث اور لغت سے وہ مطالب بیان کرتا تھا کہ دوسرے لوگ کئی گھنٹوں میں وہ مطالب بیان کرنے سے عاجز تھے، گویا یہ تمام علوم اس کے سامنے ہوتے تھے کہ جہاں سے بھی بیان کرنا چاہے فوراً ان مطالب کو بیان کردیتا تھا، اسی وجہ سے اس کے طرفدار اس کے بارے میں بہت غلو سے کام لیتے تھے، اور خود (ابن تیمیہ ) بھی اپنے اوپر رشک کرتا تھا اور خود پسند ہوگیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیگر تمام علماء سے اپنے قدم آگے بڑھائے اور گمان کرلیا کہ وہ مجتہد ہوگیا، چنانچہ قدیم وجدید تمام چھوٹے بڑے علماء پر اعتراضات کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ اس نے حضرت عمر کو بھی ایک مسئلہ میں خطاکار اور قصوروار ٹھہرایا، اور جب یہ خبر شیخ ابراہیم رَفّی کے پاس پہونچی تووہ بہت ناراض ہوئے اور اس کو برابھلا کہا،لیکن جس وقت ابن تیمیہ کو شیخ کے پاس حاضر کیا گیا تو اس نے معافی مانگی اور توبہ و استغفار کیا۔
ابن تیمیہ نے ۱۷ مقامات پر حضرت علی(ع)پر بھی اعتراض کیا، وہ چونکہ حنبلی مذہب سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتا تھا لہٰذا اشاعرہ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ غزالی کو گالی بھی دیتا تھا ، اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اس کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ اس کو قتل کردیں۔(۳)
.........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔تاریخ ابن الوردی،ج۲،ص ۴۱۰ ۔
۲۔ابن حجر،ج۱،ص۱۵۹،ابن الوردی کہتا ہے کہ جب لوگوں نے اس کی یہ تحریر دیکھی جس میں لکھا ہوا تھا پیغمبر انبیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت ممنوع ہے،تو سلطان کے حکم سے اس کو جیل بھیج دیا گیا اور اس کو فتویٰ دینے سے بھی روکا گیا،ابن قیم جوزی بھی قید خانہ میں اس کے ساتھ تھا۔(تاریخ الوردی،ج۲،ص۳۹۹)۔
۳۔ابن الوردی ،ج۲ ،ص۴۱۲، ۴۱۳ ، ابن تغری بردی کہتا ہے کہ ابن تیمیہ کو قید خانے میں لکھنے پڑھنے سے محروم کردیا گیا یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی قلم و کاغذ اور کتاب تک نہ چھوڑی۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20