Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185915
Published : 25/2/2017 19:26

حقیقی انتظار

حقیقت یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) ایسے افراد کی خاطر ظہور فرمائیں گے جو ظلم و جور سے عاجز ہوچکے ہیں، اوردل و جان سے عدالت کے خواہاں ہیں،جن کے دل آپ(ع) کے لئے بے تاب و رنجیدہ ہیں، جو دل کی گہرائیوں سے آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ کے منتظر ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں سر دھڑ کی بازی لگانے پر آمادہ ہیں.

ولایت پورٹل:امامت و رہبری کا مطلب «دلوں پر حکومت»ہے،الٰہی قیادت ورہبری کے نظام میں لوگوں پر زور زبر دستی حکومت کی گنجائش نہیں ہے،جب تک خود لوگ امام کی قیادت قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوں امام ان کی رہبری نہیں کرتا،لوگوں کی قیادت امام کے لئے کوئی شرف، تحفہ یا منصب نہیں ہے،امام کے ہاتھوں میں قیادت و رہبری ہو یا نہ ہو امام ، امام ہوتا ہے لو گوں کے نہ ما ننے سے اس کے مقام و مر تبہ میں کوئی کمی نہیں ہوجاتی،حقیقت یہ ہے کہ امام معصوم کی رہبری و قیادت لوگوں کیلئے فخر و شرف کا با عث اور عظیم نعمت ہے اسی لئے لوگوں کو خداوندعالم کی بارگا ہ میں خضوع و خشوع کے ساتھ یہ دعا کرنا چاہئے کہ انہیں ظالم و جابر حکمرانوں، مستکبروں اور طاغوتوں کے بجائے ائمہ معصومین(ع) اور اولیاء خدا کی حکومت نصیب ہو۔
بنیادی طور پر خداوند عالم لوگوں کی ہدایت و رہبری ،درجہ عصمت پر فائز افراد سے کمتر کسی انسان کے سپرد کرنے پر آمادہ نہیں ہے،یہ انسانوں کی بدنصیبی ہے کہ انہوں نے اپنے کو اس عظیم تحفہ او ربے نظیر نعمت سے محروم کرکے طاغوتی سربراہ اور ظالم و جابر حکمرانی کو تسلیم کرلیا،اب اگر  لوگوں کی تمنا یہ ہے کہ خداوندعالم صورتحال تبدیل کرکے پھر سے انہیں امام معصوم کی قیادت و رہبری مرحمت فرما دے تو انہیں خود ہی کو شش کرنا ہوگی اور حضرت حجت(ع) کی حکومت کے لئے حالات و اسباب فراہم کرنا ہوںگے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فساد سے لبریز آج کے انسانی معاشرہ میں اتنی لیاقت و صلاحیت پائی جاتی ہے؟نفسا نفسی کی بیما ری میں مبتلا اس دنیا میں کتنے  لوگ ایسے ہیں جو یہ عظیم کام انجام دے سکتے ہیں؟
یہ تو طے شدہ ہے کہ امام زمانہ(عج) طاغوتی طاقتوں اور کفار و مشرکین کی خاطر ظہور نہیں فرمائیں گے،یہ لو گ نہ صرف یہ کہ آپ(ع) کے وجود بابرکت کو تسلیم اور آپ(ع) کی حکومت و امامت ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں بلکہ اگر انہیں آپ(ع) کے وجود شریف کے خاتمہ کا مو قع ہاتھ آجائے تو وہ لمحہ بھر کیلئے بھی اس سے دریغ نہ کریں گے۔
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف «صالحین» اور «مؤمنین» کے امام (ع)ہیں لہذا فتنہ و فساد اور گناہوں کے ذریعہ آپ(ع) کے ظہور کیلئے حالات فراہم نہیں کئے جا سکتے، حضرت حجت(ع) سے غفلت یا لاتعلقی کے عالم میں اپنے آپ کو ان کا «منتظر»نہیں کہا جاسکتا،بھلا فتنہ و فساد اور گناہ میں ڈوبا ہوا انسان کیسے امام زمانہ(عج) کے لئے بے چین رہ سکتا ہے ؟وہ کون گنا ہگار اور مجرم ہے جو «صالح» اور«مصلح» امام کی آمد کا خواہاں ہو؟ کیا واقعاً گناہ ، معصیت اور فتنہ و فساد کا دلدادہ شخص ایسی حکومت کی تمنا کر سکتا ہے کہ جس میں گناہ و معصیت کی گنجا ئش نہ ہو؟ایسے خیالات کے مالک افراد امام زمانہ(عج) سے واقعاً کتنا دور ہیں۔
خدا و رسول(ص) سے بے خبر اور امامت کی حقیقت سے نا واقف اور بے معرفت افراد پیغمبر اکرم(ص)کے مشہور و معروف قول مبارک کو اپنے مضحکہ خیز عقیدہ کی دلیل قرار دیتے ہیں آنحضرت(ص) کا ارشاد ہے «یملا ء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلماو جو راً»وہ (امام مہدی علیہ السلام) زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔(۱)
اس حدیث کے«زمین ظلم وجور سے بھری ہوگی»جیسے فقرہ سے بعض نادان یہ نتیجہ اخذ کر تے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیا دہ گناہ کرنا چاہئے تاکہ زمین ظلم و جور سے بھر جائے اور ظہور کے حالات                                    جلد ازجلد فراہم ہو جائیں، ان احمقوں کی بہ نسبت کمتر درجہ کے نادان وہ لو گ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں خود تو گناہ نہیں کرنا چاہئے لیکن گناہ اور ظلم وجور کو روکنا نہیں چاہئے اس لئے اگر ہم لوگوں کو گناہوں یا ظلم و جور سے روکیں گے تو زمین ظلم وجور سے نہیں بھرے گی  اور ظہور میں تاخیر ہوگی۔
امام معصوم کی قیادت و رہبری کے وجود میں آنے اور محقق ہونے کے بارے میں جو وضاحت پیش کی گئی ہے اس سے اس احمقانہ تصور کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔
آخر گناہ آلودہ زندگی کے ساتھ ایسے امام کا استقبال کیسے کیا جاسکتا ہے جو گناہوں کا خاتمہ کرنے کیلئے آرہا ہے،اگر ہم خود گناہ نہ کرتے ہوں لیکن ہمارے ارد گرد گناہ ہوتا رہتا ہو یا ہمارا ماحول ظلم و جور اور گناہ و معصیت سے بھرا ہوا ہوا ور ہم اس کے خا تمہ کی کو شش نہ کریں، اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں تو ہم ہر گز ظہور کے حالا ت و مقدمات فراہم نہیں کر سکتے،ہمیں غور کر نا چاہئے کہ آخر امام زمانہ (عج )کس کے لئے ظہور فرمائیں گے؟ کس کی قیادت کریں گے؟ ان لو گوں کی جو گناہوں میں ڈوبے ہوتے ہیں؟ ایسے لوگ حضرت(ع) کی آمد کی تمنا کرسکتے ہیں؟ کیا ایسے افراد میں عالمی سامراجی طاقتوں اور دنیا کی ظالم و جابر حکومتوں کے خلاف نبرد آزمائی کے نقصانات برداشت کرنے کا حوصلہ پایا جاتا ہے؟ کیا ایسے افراد کے دلوں میں ایثار و قربانی، سختیوں کے متحمل ہونے اور خون جگر بہانے کا جذبہ موجزن ہوسکتا ہے؟ ایمان و حقائق سے غافل کس گناہگار کو آپ جا نتے ہیں کہ جو امام زما نہ(ع) کی غیبت و مظلو میت سے واقعاً رنجیدہ و ملول ہو اور ظہور کے لئے دست بدعا رہتا ہو؟ کیا واقعاً ایسے افراد امام زمانہ(ع) کے استقبال اور آپ سے ملاقات کے لئے تیار ہیں؟
امام زمانہ (عج)اس قسم کے افراد کیلئے ظہور فرمائیں گے یہ محض احمقانہ تصور ہے اور اسے خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا، حقیقت یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) ایسے افراد کی خاطر ظہور فرمائیں گے جو ظلم و جور سے عاجز ہوچکے ہیں، اوردل و جان سے عدالت کے خواہاں ہیں،جن کے دل آپ(ع) کے لئے بے تاب و رنجیدہ ہیں، جو دل کی گہرائیوں سے آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ کے منتظر ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں سر دھڑ کی بازی لگانے پر آمادہ ہیں،وہ لوگ کہ جو دین خدا کا مکمل نفاذ چاہتے ہیں اور خود بھی دین کے قوانین پر عمل پیرا ہیں صرف ایسے لو گ حضرت حجت کے ظہور کی تمنا کر سکتے ہیں جن کے دلوں میں حضرت(ع) کے قدم بہ قدم عالمی طا قتوں کے خطرناک ترین اسلحوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہونے اور جان قربان کرنے کی ہمت پائی جا تی ہو،جی ہاں!حضرت کو ایسے ہی افراد کی تلاش ہے جب تک ایسے جا نباز افراد فراہم نہ ہوجائیں اور حضرت کی طرف اتمام حجت نہ ہوجائے ظہور کا کوئی امکا ن نہیں ہے،ایسے خالص و مخلص حق پرستوں کا ہونا ضروری ہے ایسے افراد آگے بڑھ کر امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کریں کہ ہما رے مولیٰ و آقا،ہم سو جان سے آپ کی آمد کے منتظر ہیں،ہم تمام سامراجی طاقتوں سے آپ(ع) کا اور آپ کے دین کا دفاع کریں گے۔
ظالموں نے جس طرح آپ کے آباء واجداد کو شہید کرکے ان کی حکومت و خلافت کو غصب کرلیا ہے اس طرح ہم آپ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچنے دیں گے اور نہ ہی آپ کا حق غصب ہونے دیں گے،ہمارے اندر آپ کی «عدالت علوی»کے تحمل کی تاب ہے ہم آپ کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں چاہے وہ حکم خود ہمارے یا ہما رے گھر والوں اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
...............................................................................................................................................................................................
حوالہ:
(۱)بحار الانوار،ج۵۱ص۷۴۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21