Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185932
Published : 26/2/2017 18:3

ابن تیمیہ گستاخ رسول(ص) و صحابہ(۲)

قارئین کرام !اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خود ابن حجر نے اس حدیث نبوی کو بیان کیا ہے جس کو صحیح مسلم نے ابو معاویہ سے اس نے اَعمش سے اس نے عدیّ بن ثابت سے اس نے زرّ سے اس نے حضرت علی(ع)سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا:قسم اس پروردگار کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور انسان کو خلق کیا ،پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ سے وصیت کی اور کہا کہ تم کو کوئی دوست نہیں رکھے گا مگر یہ کہ مؤمن ہو اور تم کو کوئی دشمن نہیں رکھے گا مگر یہ کہ منافق ہو۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام!ابن تیمیہ کی لگائی ہوئی آگ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے درمیان بہت سے بڑے فتنوں کو جنم دینے کا سبب بنی بلکہ اس کی گستاخیاں اس حد تک عروج پر پہونچی کے اس نے رحمۃ للعالمین جیسے رسول کی زیارت کو جانے والے پر کفر کے فتویٰ لگایا اور بزرگ صحابہ کی بھی توہین کی، اس پوری گفتگو کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
ابن تیمیہ کا فتنہ اور ہمعصر علماء کا موقف
ابن تیمیہ گستاخ رسول(ص) و صحابہ(۱)
ابن تیمیہ کے سلسلہ میں لوگ متعدد گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے، بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ  رسالہ حمویہ اور واسطیہ میں خدا کے بارے میں جسم کا قائل ہوا ہے جس میں ابن تیمیہ کا یہ کہنا تھا کہ خداوندعالم کے ہاتھ، پیر اور چہرہ رکھنا اس کی حقیقی صفات میں سے ہے، اور یہ کہ خدا بذات خود عرش پر مستقر ہے۔
دوسرا گروہ ابن تیمیہ کو زندیق (کافر) جانتا تھا کیونکہ ابن تیمیہ کا یہ کہنا تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) سے استغاثہ نہیں کیا جاسکتا، لہٰذایہ لوگ کہتے تھے کہ ابن تیمیہ نے اس قول سے پیغمبر اکرم (ص)کی توہین کی ہے اور آنحضرت(ص) کی عظمت گھٹائی ہے۔
تیسرا گروہ اس کو منافق کہتا تھا کیونکہ اس نے حضرت علی(ع)کی شان میں جسارت کی ہے نیز اسی طرح کی دوسری باتیں کہیں، جبکہ پیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی(ع)کے بارے میں یہ حدیث بیان کی ہے: «لایبغضک الاالمنافق»(اے علی!تم سے کوئی دشمنی نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ منافق ہو) ابن تیمیہ نے حضرت عثمان کے بارے میں کہا کہ حضرت عثمان دولت پسند تھے، نیز اسی طرح حضرت ابوبکر کے بارے میں بھی ایسے ہی کلمات کہے ہیں۔(۱)
قارئین کرام !اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خود ابن حجر نے اس حدیث نبوی کو بیان کیا ہے جس کو صحیح مسلم نے ابو معاویہ سے اس نے اَعمش سے اس نے عدیّ بن ثابت سے اس نے زرّ سے اس نے حضرت علی(ع)سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا:«وَالَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَاَ النَّسْمَةَ أنَهُ لَعَهِدَ النَبِیُّ اِلَیَّ اَنْ لاٰ یُحِبُّنِیٖ اِلاّٰ مُؤْمِنٌ وَلاٰ یُبْغِضُنیٖ اِلاّٰ مُنَافِقٌ»۔(۲)
قسم اس پروردگار کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور انسان کو خلق کیا ،پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ سے وصیت کی اور کہا کہ تم کو کوئی دوست نہیں رکھے گا مگر یہ کہ مؤمن ہو اور تم کو کوئی دشمن نہیں رکھے گا مگر یہ کہ منافق ہو۔
یافعی کہتے ہیں:ابن تیمیہ نے بہت عجیب وغریب مسائل بیان کئے جو اہل سنت کے نظریات کے مخالف تھے اور انھیں کی وجہ سے اس کوقید ہوئی،اس کا سب سے عجیب فتوی یہ تھا کہ اس نے پیغمبر اکرم(ص)کی زیارت سے منع کیا ، اور اس نے بڑے بڑے صوفیوں کی شان میں جسارت کی مثلاً حجۃ الاسلام ابو حامد غزالی، ابو القاسم قُشَیری، ابن عَرِیف اور شیخ ابو الحسن شاذلی وغیرہ۔(۳)
.............................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن حجر،ج۱،ص ۱۶۵ تا۔۱۶۶۔
۲۔صحیح مسلم،جلد۱،ص۶۱ ۔
۳۔مرآت الجنان،ج۴،ص۲۸۷ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24