Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185951
Published : 27/2/2017 17:50

حضرت فاطمہ(س) کی حیات طیبہ کے چند اہم پہلو

ہم اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور چاہنے والے ان بزرگواروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنوں میں سے اور اپنے حاشیہ نشینوں میں شمار فرمائیں ہمارا دل چاہتا ہے کہ اہل بیت ہمارے بارے میں یہ فیصلہ صادر کریں کہ یہ ہمارا محب اور شیعہ ہے،لیکن یہ آسان نہیں ہے یہ چیز صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتیِ،اس کے لیے عمل ،در گذر ، ایثار ، ان کی مشابہت اور ان کے اخلاق کے رنگ میں رنگ جانے کی ضرورت ہے ۔


ولایت پورٹل:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی فیض رسانی کا سلسلہ انسانیت کے اس عظیم مجموعہ میں ایک چھوٹے مجموعہ تک محدود نہیں ہے ،اگر ہم حقیقت اور منطق کی نگاہ سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی مرہون منت ہے اور یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک  حقیقت ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح بشریت قرآن اور پیغمبر خاتم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعلیمات کی،مرہون منت ہے ،تاریخ میں ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے اور دن بدن حضرت فاطمہ زہراء (س) کی معنویت اور اسلام کا نور پہلے سے زیادہ نمایاں اور آشکار ہوگا اور بشریت اس کو محسوس کرے گی،ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو اس خاندان  سے منسوب ہونے کا اہل ثابت کریں،البتہ خاندان رسالت سے منسوب ہونا اور ان کے وبستگان اور ان کی ولایت کے اعتبار سے مشہور افراد سے منسوب ہونا دشوار ہے،ہم زیارت میں پڑھتے ہیں کہ ہم آپ کی دوستی اور محبت کے سلسلے میں معروف ہیں ،اور اس سے ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہم اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور چاہنے والے ان بزرگواروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنوں میں سے اور اپنے حاشیہ نشینوں میں شمار فرمائیں۔
فلان ز گوشہ نشینان خاک درگہ ماست
ترجمہ:ہمارے در کے ہی گوشہ نشینوں میں ہے فلاں
ہمارا دل چاہتا ہے کہ اہل بیت ہمارے بارے  میں یہ فیصلہ صادر کریں ؛لیکن یہ آسان نہیں ہے یہ چیز صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتیِ،اس کے لیے عمل ،در گذر ، ایثار ، ان کی مشابہت اور ان کے اخلاق کے رنگ میں رنگ جانے  کی ضرورت ہے  ،یہ حدیث شیعوں کے سلسلے سے ہے کہ پیغمبر (ص) نے فاطمہ (س) سے فرمایا:یا فاطمہ ؛ اعملی فانی لا اغنی عنک من اللہ شیئا؛یعنی اے میری پیاری بیٹی ! اے میری فاطمہ ! میں خدا کی بارگاہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا یعنی تمہیں اپنے بارے میں خود کچھ کرنا ہوگا چنانچہ وہ بچپنے سے لے کر اپنی مختصر سی عمر کےآخر تک اپنی فکر میں رہیں،آپ نے دیکھا کہ فاطمہ نے کس طرح زندگی بسر کی ! شادی سے پہلے تک کہ جب وہ ایک بچی تھیں اپنے اس عظیم باپ کے ساتھ اس طرح رہیں کہ آپ کی کنیت ام ابیھا، یعنی اپنے باپ کی ماں کی طرح رہیں،اس زمانے میں  پیغمبر نور و رحمت ایک نئی دنیا بنا رہے تھے اور ایک ایسے انقلاب کی رہبری کرتے ہوئے  کہ جو ہمیشہ رہنے والا تھا اسلام کے پرچم کو بلند کر رہے تھے،بلا وجہ نہیں کہا جاتا ام ابیھا ۔ فاطمہ کو یہ کنیت دیا جانا ،آپ کی خدمت ،محنت ،مجاہدت اور جدو جہد کی وجہ سے تھا۔
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مکہ کے زمانے میں بھی ،اور شعب ابو طالب میں بھی ان تمام مشکلات کے باوجود اور اس زمانے میں بھی کہ جب آپ کی ماں خدیجہ کا انتقال ہوا اور پیغمبر(ص) تنہا رہ گئے،وہ باپ کے ساتھ اور باپ کی غمخوار تھیں،پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل تھوڑے فاصلے سے دو بڑے حادثوں،خدیجہ اور ابوطالب  کی وفات کی  وجہ سے ٹوٹ چکا تھا،تھوڑے تھوڑے فاصلے سے یہ دو شخصیتیں پیغمبر(ص) کو چھوڑ کر چلی گئیں اور پیغمبر اکرم(ص) کو تنہائی کا احساس ہونے لگا،فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے ان دنوں میں آگے بڑھ کر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے  پیغمبر اکرم(ص) کے چہرے سے رنج و الم کے غبار کو صاف کیا ،ام ابیھا یعنی پیغمبر اکرم(ص) کو تسلی دینے والی،اور اسی زمانے میں یہ کنیت آپ کو دی گئی، فاطمہ زہرا (س)پیغمبر (ص) کے لیے ماں کی طرح ، مشیر کی طرح اور ایک تیمار دار کی طرح تھیں یہی وجہ تھی کہ آپ نے فرمایا ، فاطمۃ ام ابیھا ،فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے،اس کا تعلق اس دور سے ہے کہ جب وہ ایک چھ سال کی بچی تھیں تو اس مرتبے کی مالکہ بنیں،البتہ عرب کے ماحول میں اور گرم ماحول میں بیٹیاں جلدی  جسمانی اور روحی اعتبار سےجوان ہوتی ہیں،مثلا آج کی ایک دس بارہ سال کی لڑکی کے برابر ، یہ ذمہ داری کا احساس ہے کیا یہ ایک جوان کے لیے نمونہ عمل نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے اطراف کے مسائل کے سلسلے میں جلدی ذمہ داری   کا احساس کرے ؟ نشاط اور مسرت کا وہ عظیم سرمایہ جو اس کے وجود کے اندر ہے اسے خرچ کرے تاکہ غم اور رنج کے غبار کو ایک باپ کے چہرے سے کہ جس کی عمر کے ۵۰ سال گذر چکے ہیں اور وہ تقریبا بوڑھا ہو چکا ہے صاف کرے کیا یہ چیز ایک جوان کے لیے نمونہ عمل نہیں بن سکتی ؟یہ چیز بہت اہم ہے۔
ایک عورت اور وہ بھی جوانی کے سن و سال میں معنوی مقام کے لحاظ سے اس جگہ پر پہنچتی ہے کہ اس بناء پر کہ جو کچھ بعض روایات میں ہے فرشتے اس کے ساتھ بات کرتے تھے اور حقائق کو ان کے سامنے بیان کرتے تھے،وہ محدثہ تھیں یعنی وہ کہ جس کے ساتھ فرشتے محو گفتگو ہوتے تھے، یہ معنوی مقام اور وسیع میدان اور بلند قلعہ خلقت اور عالم کی تمام عورتوں کے مقابلے میں ہے، فاطمہ زہرا (س) بلندی کی اس چوٹی پر کھڑی ہیں اور دنیا کی تمام عورتوں سے خطاب  کرکے انہیں اس راہ پر چلنے کی دعوت دیتی ہیں۔
چمکتا ہوا معنوی نور ہر کس و ناکس کی آنکھوں میں نہیں سماتا اور ہماری نزدیک بین اور کمزور  آنکھیں قادر نہیں ہیں کہ انسانیت کے اس درخشاں جلوے کو ان عظیم ہستیوں کے وجود میں دیکھ سکیں، اس بناء پر ہم فاطمہ زہرا (س) کی تعریف کے میدان میں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرتے ،لیکن اس عظیم ذات کی معمولی زندگی میں ایک اہم نکتہ ہے اور وہ  یہ کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی اور اپنے شوہر  اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک  اور گھر کی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد اہم سیاسی واقعات میں ایک غیرت مند  انتھک مجاہد کی ذمہ داریوں کو نبھانا ، وہ مسجد میں آتی ہیں تقریر کرتی ہیں اپنا موقف ظاہر کرتی ہیں دفاع کرتی ہیں ،بات کرتی ہیں اور ایک بھر پور مجاہد کہ جو انتھک محنتی اور سخت کوش ہے، اور اس کے ساتھ ہی عبادت گذار اندھیری راتوں میں  نماز ادا کرنے والی اور پروردگار کی بارگاہ میں قیام کرنے والی اور خاضع اور خاشع ہیں،محراب عبادت میں یہ جوان عورت خدا کے کہنہ مشق اولیاء کی مانند خدا سے راز و نیاز اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔
ان تین پہلووں کو یکجا کرنا فاطمہ زہرا (س) کی زندگی کا درخشاں پہلو ہے،اس ذات والا صفات نے ان تینوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا،بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو شخص عبادت میں مشغول ہو وہ عابد ،تضرع کرنے والا اور دعا و ورد کا عادی ہے وہ ایک سیاسی انسان نہیں ہو سکتا، یا بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو سیاسی ہوتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت وہ اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں موجود ہوتا ہے اگر وہ عورت ہو تو وہ ماں، بیوی اور خانہ دار عورت کی زمہ داریاں نہیں نبھا سکتی ،اور اگر مرد ہو تو ایک گھریلو کاروباری اور زندگی کی طرز کا مرد نہیں ہوسکتا ،کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چیزیں آپس میں منافات رکھتی ہیں ،حالانکہ اسلام کی نظر میں یہ تینوں نہ صرف آپس میں منافات اور ضدیت نہیں رکھتیں بلکہ ایک کامل انسان کی شخصیت میں مدد گار ہوتی ہیں۔
شفقنا



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26