Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185956
Published : 27/2/2017 19:27

حضرت زہرا(س) کی نظر میں حضرت علی(ع) کا مرتبہ

امام کی مثال کعبہ کی سی ہے کہ لوگ اس کے پاس آتے ہیں وہ کسی کے پاس نہیں جاتاہے، خداکی قسم! اگر لوگ حق کو حق والوں کے پاس رہنے دیتے اور اپنے نبی کی عتر ت کا اتباع کرتے تو خدا کے بارے میں کوئی بھی اختلاف نہ کرتا اور حضرت علی(ع) سے امام حسین(ع) کی نویں پشت میں حضرت قائم(عج) تک امامت اسی طرح پہنچتی جس طرح رسول(ص) نے فرمایا ہے اور وہ ایک دوسرے سے جانشینی میراث میں پاتے ہیں۔


ولایت پورٹل:محمد لبید کہتے ہیں:رسول اکرم(ص) کی وفات کے بعد میں نے فاطمہ زہرا (س) کو احد میں حضرت حمزہ کی قبر پر روتے ہوئے دیکھا، میں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے سوال کیا:کیاحضرت علی(ع) کی امامت پر رسول اکرم(ص) کی حدیث سے بھی دلیل قائم کی جاسکتی ہے؟
فاطمہ زہرا نے فرمایا:«وَاعَجَبَاہُ اَنَسِیْتُمْ یَوْمَ غَدیْرِخُمٍّ؟
سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ یَقُوْلُ:عَلِیٌّ خَیْرُمَنْ اُخَلِّفُهُ فِیْکُمْ،وَہُوَاْلِامَامُ وَالْخَلِیْفةُ بَعْدِیْ وَسِبْطَایَ وَتِسْعَةُ مِنْ صُلْبِ الْحُسَیْنِؑ اَئِمَّةٌ اَبْرَارٌلَئِنِ اتَّبَعْتُمُوْہُمْ وَجَدْتُمُوْهمْ هادِیْنَ مَهْدِیِیِّنَ وَ لَئِنْ خَالَفْتُمُوْهُمْ لَیَکُوْنُ الِاخْتِلاٰفُ فِیْکُمْ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ؟
قلت:یَاسَیِّدَتی فَمَا بَالُه قَعَدَ عَنْ حَقِّهٖ ؟قَالَتْ یَا اَبَاعُمَرَ ! لَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ:
مَثَلُ اْلِامَامَ مَثَلُ الْکَعْبَةِ اِذْ تُوْتَی وَلٰا تَاْتِی اَمَا وَاللہِ وَلَوْ تَرَکُوْا الْحَقَّ عَلَی اَہْلِهِ واتَّبَعُوا عِتْرَۃَ نَبِیِّه لَمَااَخْتَلَفَ فِی اللہِ اثْنَانِ وَ لَوَرِثَهَا سَلَفٌ عَنْ سَلَفٍ وَخَلَفٌ بَعْدَ خَلَفٍ حَتّٰی یَقُومَ قَائِمُنَا الْتَّاسِعُ مِنْ وُلْدِالْحُسَیْنِ وَ لَکِنْ قَدَّمُوا مَنْ اَخَّرهُ اللہُ وَاَخَّرُوا مَنْ قَدَّمَهُ اللہُ:حَتَّی اِذَا اَلْحَدُوا الْمَبْعُوثَ وَاَوْ دَعُوہُ الْجَدَثَ اَلْمَجْدُوثَ اِخْتَارُوا بِشَهْوَتِہِمْ وَعَمِلُوا بِآرَائِهمْ تَبّاًلَهُمْ اَوَلَمْ یَسْمَعُوا اللہ یَقُولُ: وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَایَشَاء ویَخْتَارُمَاکَانَ لَهُمُ الْخِیَرَۃُ»۔(۱)
بَلْ سَمِعُوْا وَلٰکِنَّهُمْ کَمَا قَالَ اللہُ سُبْحَانُه:«فَاِنَّهَالاَ تَعْمَیٰ الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَیٰ الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُوْرِ»۔(۲)
هَیْهاتَ بَسَطوُا فِیْ الدُّنْیَا آمَالَهُمْ وَنَسُوْا آجَالَهُمْ فَتَعْسَاً لَهُمْ وَاَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ
اَعُوْذُبِکَ یارَبِّ مِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ»۔(۳)
ترجمہ:تعجب ہے! کیا تم لوگوں نے روز غدیر کو بھلا دیا ہے؟
میں نے رسول(ص) سے سنا کہ فرماتے ہیں: علی(ع) بہترین شخص ہیں جن کو میں تمہارے درمیان خلیفہ و جانشین بنا رہا ہوں وہ میرے بعد امام و خلیفہ ہیں اور میرے دونوں نواسے حسنین کے صلب سے ہونے والے نو اشخاص (ائمہ) نیک لوگوں کے امام ہیں اگر تم ان کا اتباع کروگے تو وہ تمہاری ہدایت کریں گے اور اگر تم ان کی مخالفت کروگے تو تمہارے درمیان قیامت تک اختلاف رہے گا۔
(راوی کہتا ہے) میں نے عرض کیا: اے سیدہ اور اے خاتون جنت! تو علی(ع) نے اپنے حق سے چشم پوشی کیوں کرلی؟
فرمایا: اے ابو عمر! رسول(ص) نے فرمایا:امام کی مثال کعبہ کی سی ہے کہ لوگ اس کے پاس آتے ہیں وہ کسی کے پاس نہیں جاتاہے، خداکی قسم! اگر لوگ حق کو حق والوں کے پاس رہنے دیتے اور اپنے نبی کی عتر ت کا اتباع کرتے تو خدا کے بارے میں کوئی بھی اختلاف نہ کرتا اور حضرت علی(ع) سے امام حسین(ع) کی نویں پشت میں حضرت قائم(عج) تک امامت اسی طرح پہنچتی جس طرح رسول(ص) نے فرمایا ہے اور وہ ایک دوسرے سے جانشینی میراث میں پاتے ہیں۔
مگر افسوس کہ لوگوں نے اس کو آگے بڑھا دیا جس کو خدا نے پیچھے ہٹایا تھا اور اس کو پیچھے ہٹا دیا جس کو خدا نے آگے بڑھایا تھایہاں تک کہ انہوں نے بعثت کابھی انکار کر دیا،بدعتوں میں پڑگئے، خواہش نفس کواپنا شعار بنا لیا اپنی رائے اور من مانیوں پر عمل کیا، خدا انہیں غارت کرے۔
کیا انہوں نے خدا کا قول نہیں سناکہ وہ فرماتا ہے:تمہارا پروردگار جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور امام کے معین کرنے کا اختیار بھی اسی کو ہے،ہاں انہوں نے سنا تھا لیکن بالکل ایسے ہی جیسے قرآن فرماتا ہے:ان کی دیکھنے والی آنکھیں اندھی اور ان کے دل کی آنکھیں بے نور ہیں۔
افسوس کہ سقیفہ میں جمع ہونے والوں نے اپنی خواہشوں کوپوراکرلیا اور موت، قیامت کے حساب و کتاب سے غافل رہے،خدا انہیں غارت کرے اور انہیں ان کے اعمال میں گمراہ کرے، پروردگار! میں تجھ سے مددگاروں کی فراوانی اور ان کی کامیابی کے بعدان کی قلت سے تیری پناہ چاہتی ہوں۔

....................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔سورہ قصص:آیت۷۸ ۔
۲۔سورہ حج:آیت۴۶ ۔
۳۔بحار الانوار،ج۳۶ ،ص۳۵۳ ،احقاق الحق،ج۲۱،ص۲۶ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23