Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185967
Published : 28/2/2017 17:46

امام اور مسلمانوں کی سیاسی قیادت(۱)

انسانی معاشرہ میں سیاسی نظام کی ضرورت ایک بدیہی مسئلہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ تاریخ بشریت میں کوئی ایسا معاشرہ نہیں ملتا جس میں کسی قسم کا کوئی سیاسی نظام نہ رہا ہو،اگر چہ بشریت جن سیاسی نظاموں کے تجربہ سے گذری ان میں بہت زیادہ اختلاف پایاجاتاہے،اس کے باوجود معاشرہ کبھی سیاسی نظام سے خالی نہیں رہا۔


ولایت پورٹل:دین اسلام میں امامت کا عقیدہ در واقع ریڈھ  کی ہڈی ہے جب تک یہ سلامت ہو پورا جسم نمایاں ہوتا ہے اسی طرح اگر عقیدہ امامت کو دین سے نکال دیا جائے تو بلکل ایسے ہی ہے کہ ایک جسم سے اس کی تمام توانائی چھین لی جائے،یہی وجہ ہے کہ دشمنان دین نے سب سے پہلا حملہ بھی امامت ہی پر کیا لہذا امامت اور امام کا عقیدہ رکھنے والوں کو چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ اس عقیدہ سے متعلق معلومات حاصل کریں تاکہ بوقت ضرورت کام آئے ،چنانچہ اس گفتگو کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے!
(۱) عقیدہ امامت
(۲) امامت اور تعلیم معارف و احکام دین
انسانی معاشرہ میں سیاسی نظام کی ضرورت ایک بدیہی مسئلہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ تاریخ بشریت میں کوئی ایسا معاشرہ نہیں ملتا جس میں کسی قسم کا کوئی سیاسی نظام نہ رہا ہو،اگر چہ بشریت جن سیاسی نظاموں کے تجربہ سے گذری ان میں بہت زیادہ اختلاف پایاجاتاہے،اس کے باوجود معاشرہ کبھی سیاسی نظام سے خالی نہیں رہا۔
انسانی معاشرہ میں سیاسی اقتدار کی مالک اکثر حکومتیں چونکہ ظلم واستبداد کا راستہ اختیار کرتی ہیں لہٰذا اس مسلسل روش کو دیکھ کر بعض معاشروں نے رد عمل کے طور پر «حکومت کی ضرورت»کا ہی انکار کردیا سیاسی فلسفہ کی اصطلاح میں ایسے افراد کونار کسٹ۔(۱)اور اس نظریہ کو «انار کیزم»۔(۲)کہا جاتا ہے۔(۳)
تاریخ اسلام میں بھی حکمیت کے واقعہ میں ایک گروہ خطائے فکری کا شکار ہو گیا اور حکم کے دو معانی «حکم یعنی قانون اور سیاسی نظام کی بنیاد»اور حکم یعنی حاکم ،قانون کا نفاذ کر نے والا»کے درمیان فرق محسوس نہ کر سکا اور قرآن کریم کی آیت«لا حکم الا للّٰه» کو دلیل بنا کر حکمیت کو ہی غلط قرار دے کرمولائے کائنات جیسے حکمیت تسلیم کرنے والے افراد کو غلط ٹھہرانے لگے بلکہ ان کی تکفیر بھی کی۔
امیر المؤمنین(ع)نے ان سے بحث کی اور انہیں ان کی غلطی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ گرچہ ان حالات میں حکمیت معقول اور مصلحت آمیز نہیں تھی اور میں نے اپنے فوجیوں کے ایک گروہ (جوبعد میں خوارج کہلائے)کے اصرار اور حالات کی نزاکت کے باعث حکمیت کو قبول کیا لیکن حکمیت عقل و وحی کے خلاف نہیں ہے پھر آپ(ع)نے خوارج کی غلطی بیان کرتے ہوئے فرمایا:«نعم لا حکم الا للّٰه لکن ھولاء یقولون لا امرۃ الا للّٰه ولابد للناس من امیر بر او فاجر»بے شک اور حکم وقانون خدا سے مخصوص ہے لیکن یہ (خوارج )کہتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی حاکم نہیں ہے حالانکہ لوگوں کے لئے حاکم کا وجود ضروری ہے،چاہے وہ حاکم نیکو کار ہو یا بدکردار»۔(۴) یعنی اگر نیک کردار حاکم نہ ہو اورلوگ فاسق وفاجر حاکم یا ہرج و مرج اور بے نظمی کے دوراہے پر ہوں تو لوگ بے نظمی اور ہرج ومرج کے مقابل فاسق حاکم کا انتخاب کریں گے۔
یہ نکتہ بھی توجہ کے لائق ہے کہ خوارج اگرچہ انارکیزم کانظریہ رکھتے تھے لیکن جب انھوں نے حروراء میں سکونت اختیار کی تو سب سے پہلا کا م یہ کیا کہ مختلف ذمہ داریوں کے لئے الگ الگ افراد منتخب کرکے انہیں مسئول اور ذمہ دار قرار دیا۔
.....................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ANARCHIST    
۲۔ANARCHISM    
۳۔مکتب ہای سیاسی، ص۳۳ ملاحظہ فرمائیں۔
۴۔نہج البلاغہ، خطبہ۴۰ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16