Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185989
Published : 1/3/2017 18:5

حقیقت شب قدر وجود فاطمہ زہرا(س)

جس طرح شب قدر کو کوئی سمجھ نہیں سکتا اسی طرح شھزادی کی ذات کی معرفت کوئی حاصل نہیں کرسکتا۔


ولایت پورٹل:
حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا) معرفت کی اس بلندی پر ہیں جس کے بارے میں بلند پرواز فکر رکھنے والے بھی حیران اور پریشان ہیں، خزانۂ عرش الٰہی کے اس در یکتا کی منزلت اتنی عظیم و بلند ہے کہ عقل اس کی معرفت سے عاجز ہے، کئی روایتوں اور حدیثوں میں حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کو لیلۃ القدر سے تعبیر کیا گیا ہے اور لیلۃ القدر کی حقیقت کو شھزادی(سلام اللہ علیہا) کی ذات کو بتایا گیا ہے،جن روایات میں سے ایک روایت، امام موسی کاظم(علیہ السلام) سے نقل ہوئی ہے: امام(علیہ السلام) کی خدمت میں ایک نصرانی حاضر ہوا اور سورہ دخان کی پہلی آیت:«حمۤ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْہَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ»سورۂ دخان، آیات:۱،۲،۳،۴] روشن کتاب کی قسم، ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بیشک عذاب سے ڈرانے والے تھے اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ کے بارے میں سوال کیا؟ امام(علیہ السلام) نے فرمایا: «حم» سے مراد حضرت محمّد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ذات والا صفات ہے، اور «كتاب مبين» سے مراد حضرت على(عليه السلام) ، اور «اللّيلة» سے مراد حضرت فاطمه(عليها السلام) ہیں۔(۱)
لیلۃ القدر کی حقیقیت حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کی ذات ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ اگر لیلۃ القدر میں قرآن صامت نازل ہوا تو وجود حضرت فاطمہ(علیھا سلام) سے گیارہ قرآن ناطق کا ظہور ہوا ہے جس کی ذات سے انسانیت میں تکامل و فضیلت پیدا ہوئی۔
حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کی عظمت و فضیلت لوگوں پر اسی طرح مخفی ہے جس طرح لیلۃ القدر کی حقیقت لوگوں کے لئے واضح اور روشن نہیں ہے، جس طرح لیلۃ القدر کی حقیقیت کو سمجھنا ہمارے لئے ناممکن ہے اسی طرح حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کی حقیقت کو بھی سمجھنا ہمارے لئے محال ہے، جس کے بارے میں امام صادق(علیہ السلام) فرمارہے ہیں:«اللّيلةُ»، فاطمةُ و «القَدْرُ»، اَللّهُ. فَمَنْ عَرَفَ حقَّ معرفت ها فَقَدْ ادركَ ليلةَ القَدْرِ»۔
ترجمہ: رات، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں اور قدر، اللہ ہے جو کوئی حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کی حقیقی معرفت کو حاصل کرلیگا وہ لیلۃ القدر کو سمجھ جائیگا۔(۲)
واضح ہے کہ اس معرفت سے مراد مقام نورانی کی معرفت ہے یہاں پر معمولی معرفت کار ساز نہیں ہے، شب قدر کو سمجھنا یعنی خداوند متعال کی مقام ولایت کو درک کرنا ہے جس معرفت کے بارے میں حضرت علی(علیہ السلام) کا ارشاد اقدس ہے:«معرفتی بالنورانیة معرفة اللہ عزوجل و معرفة اللہ عزوجل معرفتی بالنورانیة»۔(۳)
ترجمہ:میری نورانی معرفت خدا کی معرفت ہے اور خدا کی معرفت میری نورانی معرفت ہے۔
اگر کوئی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کی معرفت حاصل کرلے تو آپ کی نورانیت اس کے دل پر متجلی ہوجاتی ہے اور وہ شب قدر کو درک کرنے کے برابر ہے، جو انسان کی خلقت کا مقصد ہے، جس کے بارے میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:«وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون» چنانچہ روایات میں ذکر ہوا ہے:«ان اللہ جل ذکرہ ما خلق العباد الا لیعرفوہ»، یعنی مقصد اللہ کی معرفت ہے اور اس معرفت کا طریقہ بھی حجت اور استدلال نہیں ہے اس لیے کہ حجت تاریخ کے فرعونوں پر بھی تمام ہوجاتی ہے حجت دشمنوں پر بھی تمام ہوجاتی ہے حالانکہ یہ خدا کی معرفت نہیں رکھتے، خداوند متعال کی حقیقی اور واقعی معرفت مقام نورانیت کی معرفت ہے، خداوند عالم کی معرفت انسان کی خلقت کا مقصد ہے اور یہ معرفت صرف اور صرف آئمہ معصومین علیہم السلام اور صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے انوار کی معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔(۴)
………………………………………………………………………………….................................................……
حوالہ جات:
۱۔محمد باقرمجلسى، بحار الأنوار، ج۲۴، ص۳۲۰، دار إحياء التراث العربي،  بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ق۔
۲۔سابق حوالہ، ج۴۲، ص۶۵۔
۳۔http://mesbahyazdi.com/farsi/?../lib/jamekosar/3.htm
۴۔رجب بن محمد حافظ برسی،مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمؤمنین علیہ السلام،ص۲۵۴، اعلمی، بیروت ، ۱۴۲۲ھ ق۔
welayatnet


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24