Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 185993
Published : 1/3/2017 18:12

جناب فاطمہ کی رضایت اور غضب، اللہ کی رضایت اور غضب کیسے قرار پائی؟

بات یہ نہیں ہو رہی ہے کہ نعوذباللہ خداوند عالم بشر کا تابع ہو گیا بلکہ یہ حدیث جناب صدیقہ کبری فاطمہ زہرا کی شان و منزلت کو بیان کر رہی ہے جب بندہ ہر لحاظ سے اللہ کا تابع ہو جاتا ہے تو وہ قرب اور فنا فی اللہ کی اس منزل پہ پہنچ جاتا ہے کہ اب اس کا کچھ نہیں ہوتا، سب اللہ کا ہو جاتا ہے


«عدنان عرعور» وہابی عالم حديث شريف «إن الله يغضب لغضب فاطمة ويرضى لرضاها» کی رد میں کہتا ہے : خداوند عالم اس سے کہیں بالاتر ہے كہ وہ ایک انسان کا پيرو، مطیع اور فرمانبردار ہو جائے .

وہ کہنا چاہتا ہے یا یہ حدیث صحیح نہیں ہے یا جناب فاطمہ کا غضب ، خدا کے غضب کا موجب نہیں ؛ اور اس طرح وہ ابوبکر کا دفاع کرنا چاہتا ہے ۔

نقضی جواب :

تعجب کی بات ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی عمرجیسے  کا تابع ہوجائے تو یہ بات تو ان لوگوں کو ہضم ہو جاتی ہے چنانچہ صحیح بخاری میں موجود ہے کہ عمر نے کہا کہ تین مقام میں خدا نے میری پیروی کی ہے مقام ابراہیم کو مصلی بنانے میں، حجاب کے حکم میں ،  اور رسول کو ستانے والی امہات مومنین کے حکم طلاق میں ...

حدثنا مُسَدَّدٌ عن يحيى بن سَعِيدٍ عن حُمَيْدٍ عن أَنَسٍ قال قال عُمَرُ وَافَقْتُ اللَّهَ في ثَلَاثٍ أو وَافَقَنِي رَبِّي في ثَلَاثٍ قلت يا رَسُولَ اللَّهِ لو اتَّخَذْتَ من مَقَامَ إبراهيم مُصَلًّى وَقُلْتُ يا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ الله آيَةَ الْحِجَابِ قال وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النبي صلى الله عليه وسلم بَعْضَ نِسَائِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ قلت إن انْتَهَيْتُنَّ أو لَيُبَدِّلَنَّ الله  رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا مِنْكُنَّ حتى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ قالت يا عُمَرُ أَمَا في رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ما يَعِظُ نِسَاءَهُ حتى تَعِظَهُنَّ أنت فَأَنْزَلَ الله ) عَسَى رَبُّهُ إن طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ...

صحيح البخاري  ج 4   ص 1629 ح 4213، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي الوفاة: 256، دار النشر: دار ابن كثير , اليمامة - بيروت - 1407 - 1987، الطبعة: الثالثة، تحقيق: د. مصطفى ديب البغا.

اسی طرح اللہ معاشرہ کے حاکم کا تابع ہو جائے، یہ بھی انہیں منظور ہے   جیسا کہ بخاری میں آیا ہے  :

من أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ يُطِعْ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي.

صحيح البخاري  ج 3، ص 1080، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي الوفاة: 256، دار النشر: دار ابن كثير , اليمامة - بيروت - 1407 - 1987، الطبعة: الثالثة، تحقيق: د. مصطفى ديب البغا.

یا ابن تیمیہ کے بقول اللہ تو بعض علما کی رضا اور غضب کا تابع ہے :

وَأَمَّا قَوْلُ الْقَائِلِ: إنَّ اللَّهَ يَرْضَى لِرِضَا الْمَشَايِخِ وَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِمْ.

فَهَذَا الْحُكْمُ لَيْسَ هُوَ لِجَمِيعِ الْمَشَايِخِ وَلَا مُخْتَصٌّ بِالْمَشَايِخِ بَلْ كُلُّ مَنْ كَانَ مُوَافِقاً لِلَّهِ: يَرْضَى مَا يَرْضَاهُ اللَّهُ وَيَسْخَطُ مَا يَسْخَطُ اللَّهُ كَانَ اللَّهُ يَرْضَى لِرِضَاهُ وَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِ مِن المَشَايِخِ وَغَيْرِهِمْ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ مِن المَشَايِخِ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ

أحمد عبد الحليم بن تيمية الحراني أبو العباس الوفاة: 728، مجموعة الفتاوى، ج 11، ص 515، دار النشر: مكتبة ابن تيمية، الطبعة: الثانية، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي.

توبخاری اور ابن تیمیہ کے بقول اگر  اللہ  غیر معصوم عام لوگوں کا تابع ہوجائے تو ان لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ،سب ہضم ہوجاتا ہے ، لیکن جہاں اہل بیت عصمت و طہارت  کی بات آتی ہے تو ان لوگوں کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے ۔عجیب بات ہے جو واقعی ہضم نہ ہونے والی بات ہے اسے ہضم کر جاتے ہیں اور جو قرآن و احادیث کی روشنی میں ثابت شدہ حقیقت ہے اسی میں تشکیک کرتے ہیں

حلي جواب :

قرآن میں متعدد جگہ اس طرح کی آیت ہے کہ :

«أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ» سوره توبة: 74. 

خدا اور رسول اپنے فضل و کرم سے لوگوں کو بے نیاز کردیتے ہیں

تو کسی نے نہیں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول لوگوں کے تابع ہو گئے، اللہ اور رسول  لوگوں کا کام کر کے  لوگوں کے تابع نہیں ہوتے ، بلکہ یہ ان کا لطف و کرم ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بندہ ہر لحاظ سے اللہ کا تابع ہو جاتا ہے تو وہ قرب  اور فنا فی اللہ کی اس منزل پہ پہنچ جاتا ہے کہ اب اس کا کچھ نہیں ہوتا، سب اللہ کا  ہو جاتا ہے ؛ چنانچہ رسول اللہ کی زبانی  ایک حدیث قدسی  میں آیا ہے جسے بخاری نے بھی نقل کیا ہے :

جو میرے ولی سے دشمنی کرے اس نے مجھ سے اعلان جنگ کیا ہے ، مجھ سے تقرب کا محبوب ترین وسیلہ واجبات کی ادائیگی ہے اور جب وہ مستحبات کے ذریعہ بھی تقرب حاصل کرنے لگتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، پھر میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جسے وہ مدد کے لئے پھیلاتا ہے ، اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے  ... :

قال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ قال من عَادَى لي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وما تَقَرَّبَ إلي عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إلي مِمَّا افْتَرَضْتُ عليه وما يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إلي بِالنَّوَافِلِ حتى أُحِبَّهُ فإذا أَحْبَبْتُهُ كنت سَمْعَهُ الذي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الذي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ التي يَبْطِشُ بها وَرِجْلَهُ التي يَمْشِي بها...

صحيح البخاري  ج 5   ص 2384 ح 6137، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي الوفاة: 256، دار النشر: دار ابن كثير , اليمامة - بيروت - 1407 - 1987، الطبعة: الثالثة، تحقيق: د. مصطفى ديب البغا.

لہذا اس تناظر میں  حدیث إن الله يغضب لغضب فاطمة ويرضى لرضاها میں، اس کی بات نہیں ہو رہی ہے کہ نعوذباللہ خداوند عالم بشر کا تابع ہو گیا بلکہ یہ حدیث جناب صدیقہ کبری فاطمہ زہرا کی شان و منزلت کو بیان کر رہی ہے کہ خدا کے نزدیک بی بی کا وہ مقام ہے کہ آپ کی ذات والا صفات ، رضا و غضب الہی کا معیار ہیں ؛اور یہ بہت  ہی عظیم المرتبت مقام ہے ؛ اس مقام کی عظمت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ  حضرت يونس (علي نبينا و آله و عليه السلام) حالانکہ اللہ کے مقرب بندہ تھے ، اس کے برگزیدہ نبی تھے، معصوم تھے، لیکن اللہ ان کے غضب کی بنا پر غضب ناک نہیں ہوا :

«وَ ذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنادى فِي الظُّلُماتِ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمين».

 سوره أنبياء: 87

http://www.valiasr-aj.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20