Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186100
Published : 8/3/2017 16:57

ابن تیمیہ کے فقہی نظریات

ابن تیمیہ اپنی کتابوں اور رسالوں میں حتی المقدور شیعوں پر حملہ آور ہوا ہے اسی طرح اس نے ایک رسالہ معاویہ و یزید کے بارے میں بھی لکھا ہے,ایک دوسری کتاب الرسائل الکبری میں بھی اس نے یزید کی طرف سے دفاع کیا ہے۔


ولایت پورٹل:
ابن تیمیہ کے حالات زندگی کے آخرمیں اور اس کے عقائد کی گفتگو سے پہلے اس بات کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ خوداس کا او راس کے باپ کا حنبلی علماء میں شمار ہوتا تھا لیکن فقہی مسائل میں وہ احمد حنبل یا دوسرے مذاہب کی پیروی کا پابند نہ تھا او رمختلف فقہی مسائل میں انھیں مسائل کا انتخاب کرتاتھا جو خود اس کی نظر میں صحیح ہوتے تھے، یہاں تک کہ شیعوں کی شدید مخالفت کے باوجود اس نے بعض مسائل میں شیعوں کی پیروی بھی کی ہے۔(۱)
مثلاً طلاق کے مسئلہ۔(۲)میں اس کا فتویٰ یہ تھا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو اس لفظ کے ساتھ طلاق دے «انتِ طالق ثلاثاً»(یعنی میں نے تجھے تین طلاقیں دیں) تو یہ تین طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔(۳)( شیعہ مراجع عظام کا فتویٰ بھی یہی ہے)۔
اسی طرح ابن تیمیہ بعض جگہ شیعوں کی فقہی رائے کو بیان کرتا ہے اور امام محمد باقرؑاور امام جعفر صادق ؑنیز دیگر ائمہ علیہم السلام کی روایات کو نقل کرتا ہے۔(۴)
اسی طرح فتاوی الکبری (ابن تیمیہ کے فتووں کا مجموعہ) میں بعض مسائل کے بارے میں ایسے فتوے بیان کئے جواہل سنت کے ائمہ اربعہ کے فتووں سے بالکل جدا تھے۔(۵)
اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ حنبلی مذہب کو دوسرے مذاہب پر ترجیح دیتا تھا کیونکہ اس مذہب کو قرآن واحادیث سے نزدیک پاتا تھا۔(۶) یہ بات  بعد میں بیان کی جائے گی کہ ابن تیمیہ اور اس کی پیروی کرنے والے (وہابی) قرآن وحدیث کے ظاہر سے تمسک کرتے رہے ہیں۔
..................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن تیمیہ شیعوں سے اپنی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنی کتاب منہاج السنہ جو کہ شیعہ عقائد کی رد میں لکھی ہے،بعض اوقات اپنی اسی کتاب میں شیعہ اثنا عشری کا دفاع بھی کیا ہے،ان مقامات میں(جلد اول ،منہاج السنہ ص ۲۵) شیعوں اپنی تمام  شدید تہمتوں اور توہینوں کے بعد کہتا ہے:ممکن ہے یہ چیزیں شیعہ اثنا عشری میں موجود نہ ہوں اور اسی طرح فرقہ زیدیہ میں بھی نہ ہوں اور ان(تہمتوں) میں سے اکثر غلات اور عوام الناس میں پائی جائیں۔
ایک دوسری جگہ مذکورہ کتاب(ج۲،ص۳۶۰ ) میں اس طرح لکھتا ہے:شیعہ اثنا عشری دوسرے شیعہ فرقوں سے نسبی طور پر بہتر ہیں،اس فرقہ کے بہت سے مسلمان چاہے حقیقت کے لحاظ سے چاہے ظاہری اعتبار سے ایسے ہیں کہ وہ نہ تو زندیق ہیں اور نہ منافق،جبکہ ابن تیمیہ اپنی کتابوں اور رسالوں میں حتی المقدور شیعوں پر حملہ آور ہوا ہے اسی طرح اس نے ایک رسالہ معاویہ و یزید کے بارے میں بھی لکھا ہے(صفدی ج۷،ص۲۶)،ایک دوسری کتاب الرسائل الکبری میں بھی اس نے یزید کی طرف سے دفاع کیا ہے۔
۲۔ابوزہرہ کا بیان ہے:ہمارے بھائی ملک ایران کے لوگ شیعہ اثنا عشری ہیں  جن کی فقہ قائم بالذات،اصل و ریشہ دار ہے اور فروع کے علاوہ اصول کے بھی قائل ہیں اور ہمارے مصر کے جدید قوانین میں شیعہ اثنا عشری فقہ سے اقتباس کیا گیا ہے،منجملہ ان میں سے وارث کے لئے وصیت کے جائز ہونے کا مسئلہ ہے۔(کتاب شرح حال ابن تیمیہ،ص۱۷۰)۔
۳۔ابن عماد،ج۲،ص ۸۵ ،اور ابن شاکر،جلد ۱،ص ۷۴ ،ابن شاکر کے بقول ابن تیمیہ کا مسئلہ طلاق کے بارے میں بھی ایک رسالہ تھا۔
۴۔فتاوی الکبری،ج۳،ص ۲۰ وغیرہ
۵۔فتاوی الکبری،ج۳،ص۹۵،شیخ محمد بھجۃ البیطار کے قول کے مطابق ابن تیمیہ کے تقریباً ۱۰۰ کے نزدیک مخصوص فتوے تھے جو دوسروں سے بالکل مختلف تھے۔(حیاۃ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ص ۴۶ )۔
۶۔ابو زہرہ ،ص ۳۵۱، ۳۵۲ ،۴۲۰ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15