Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186105
Published : 8/3/2017 17:18

نماز کے طفیل گناہوں کی معافی

مولاعلی(ع) سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضور(ع) اور میں نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا حضور(ص) مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے تو آپ نے اس کی بات کو ٹال دیا اور نماز میں مشغول ہوگئے جب نماز تمام ہوگئی تو اس شخص نے پھر کہا مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے آپ نے فرمایا کیا تو نے صحیح وضو کرکے نماز کو ابھی ہمارے ساتھ ادا نہیں کیا ہے؟ اس شخص نے فرمایا یا رسول اللہ(ص)! میں نے وضو کرکے نماز کو ابھی آپ کے ساتھ ادا کی ہے تو آپ نے فرمایا کہ تیرا گناہ معاف ہوگیا۔


ولایت پورٹل:
ابو امامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت(ص) مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ حضورؐ میں نے ایک ایسا گناہ کیا ہے کہ جس سے میرے اوپر حد واجب ہوگئی ہے لہٰذا میں حد کی سزا برداشت کرنے کے لئے حاضر ہوںتو حضور(ص) نے فرمایا کیا تو ابھی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہ تھا؟ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ میں تو نماز میں شریک تھا تو آپ نے کہا کہ اس نماز کے طفیل میں خدا نے تیرے گناہ معاف کردیئے،اور اسی طرح مولاعلی(ع) سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضور(ع) اور میں نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا حضور(ص) مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے تو آپ نے اس کی بات کو ٹال دیا اور نماز میں مشغول ہوگئے جب نماز تمام ہوگئی تو اس شخص نے پھر کہا مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے آپ نے فرمایا کیا تو نے صحیح وضو کرکے نماز کو ابھی ہمارے ساتھ ادا نہیں کیا ہے؟ اس شخص نے فرمایا یا رسول اللہ(ص)! میں نے وضو کرکے نماز کو ابھی آپ کے ساتھ ادا کی ہے تو آپ نے فرمایا کہ تیرا گناہ معاف ہوگیا۔ ان واقعات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نماز سے کس قدر فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14