Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186134
Published : 11/3/2017 16:46

عربوں کی قبائلی رقابت اور فخر و مباہات

ایک دن دو قبیلوں کے درمیان اس طرح تفاخر شروع ہوا، ہر ایک نے اپنے قبیلہ کے افتخارات بیان کئے اور طرفین نے دعویٰ کیا کہ ہماری خوبیاں اور قبیلہ کے افراد دوسرے قبیلہ کے مقابل میں زیادہ ہیں اس موقع پر دونوں کی تعداد کو شمار کیا گیا،زندہ لوگوں کی سرشماری مفید ثابت نہیں ہوئی تو مردوں کے سفارش کی نوبت آئی اور دونوں طرف کے لوگ قبرستان گئے اور اپنے اپنے مردوں کو شمار کیا۔


ولایت پورٹل:
اس زمانہ میں عرب کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہوا کرتا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے اور جو چیزیں اس سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں(اگرچہ وہ چیزیں موہوم اور بے بنیاد ہوتی تھیں)اس پر ناز کرتے تھے اور اس کی بنا پر دوسرے قبائل پر فخر کرتے تھے،میدان جنگ میں شجاعت،بخشش اور وفاداری۔(۱) مال ودولت کثرت اولاد اور کسی بڑے قبیلہ سے تعلق ہر ایک اس زمانہ کے عرب کی نگاہ میں بڑی اہمیت کا حامل اور وسیلۂ برتری تھا اور وہ اس چیز کو اپنے افتخار کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کی باتوں کی اس طرح سے مذمت کی ہے:«اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اموال اور اولاد کے اعتبار سے تم سے بہتر ہیں اور ہم پرعذاب ہونے والا نہیں ہے،(ائے پیغمبر!) آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار جس کے رزق میں چاہتا ہے کمی یازیادتی کردیتا ہے لیکن اکثرلوگ نہیںجانتے ہیں اورتمہارے اموال اور اولاد میں کوئی ایسا نہیں ہے جو تمہیں ہماری بارگاہ میں قریب بناسکے علاوہ ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے۔(۲)
ایک دن کسریٰ(بادشاہ ایران) نے نعمان بن منذر (بادشاہ حیرہ)سے پوچھا کہ کیا قبائل عرب میں کوئی ایسا قبیلہ ہے جو دوسروں پر شرف اور برتری رکھتا ہے ؟تو اس نے جواب دیا:ہاں!تو اس نے کہا:ان کے شرف کی وجہ کیاہے؟تو اس نے جواب دیا کہ جس کے باپ دادا میں سے تین شخص لگاتاررئیس قبیلہ ہوں اور ان کی نسل سے چوتھا بھی رئیس بنے تو قبیلہ کی ریاست اس کے خاندان کو ملتی ہے۔(۳)
عصر جاہلیت میں عرب قبیلہ کے افراد کی کثرت کو اپنے لئے مایۂ افتخار سمجھتے تھے اور اس طرح اپنے رقیب قبائل پر فخر و مباہات کرتے اور ان سے افراد کی تعداد کا مقابلہ کرتے تھے۔(۴) یعنی اپنے افراد کی تعداد بتا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی تعداد دشمن کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔
ایک دن دو قبیلوں کے درمیان اس قسم کا تفاخر شروع ہوا، ہر ایک نے اپنے قبیلہ کے افتخارات بیان کئے اور طرفین نے دعویٰ کیا کہ ہماری خوبیاں اور قبیلہ کے افراد دوسرے قبیلہ کے مقابل میں زیادہ ہیں اس موقع پر دونوں کی تعداد کو شمار کیا گیا،زندہ لوگوں کی سرشماری مفید ثابت نہیں ہوئی تو مردوں کے سفارش کی نوبت آئی اور دونوں طرف کے لوگ قبرستان گئے اور اپنے اپنے مردوں کو شمار کیا۔(۵)
قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ اور غیر عاقلانہ طرزعمل کی اس طرح سے مذمت کی ہے۔
«تمہیں باہمی مقابلۂ کثرت مال اور اولاد نے غافل بنادیا،یہاں تک کہ تم نے قبروں سے ملاقات کرلی اور اپنے مردوں کی قبروں کو شمار کیا اور اس پر فخر و مباہات کیا،ایسا نہیں ہے کہ گمان کرتے ہو،دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا»۔(۶)
...........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔آلوسی ،ایضاً ،ج۱،ص۲۸۰۔
۲۔سورۂ سبا ،۳۴،آیت ۳۷،۳۵۔
۳۔آلوسی،ایضاً،ج۱،ص۲۸۱۔
۴۔منافرہ ،نفرسے بناہے یعنی ہر ایک اپنی تعداد دوسرے سے زیادہ بتاتا تھا۔(آلوسی،ایضاً، ص۲۸۸۔)اس قسم کے تفاحر کے ابے شمار واقعات ،ظہور اسلام سے قبل تاریخ عرب میں نقل ہوئے ہیں۔
۵۔سید محمد حسین طباطبائی،تفسیر  المیزان،ج۲۰،ص۳۵۳؛آلوسی،ایضاً ،ج۱،ص۲۷۹۔
۶۔ سورۂ تکاثر،۱۰۲،آیت۳،۱۔
 
 
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20