Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186136
Published : 11/3/2017 17:14

حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا

ام البنین واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں،جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسین(ع) کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسین(ع) آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا: «اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسین(ع) پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملات، امام حسین(ع) اور اہل بیت(ع) کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص مجبت کی عکاسی کرتی ہیں۔

ولایت پورٹل:فاطمہ بنت حِزام جو اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہیں امیرالمؤمنین(ع) کی زوجات میں سے تھیں،آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں،حضرت علی(ع) کے ساتھ آپ کے چار بیٹے ہوئے جن کے نام حضرت عباس(ع)، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں یہ چاروں  عاشورا کے دن امام حسین(ع) کے ساتھ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے،آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھی اسلئے آپ «ام البنین»یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں۔
واقعہ کربلا کے بعد حضرت ام البنین امام حسین(ع) اور اپنے بیٹوں کیلئے اس طرح عزاداری کرتی تھیں کہ دشمنان اہل بیت(ع) بھی آپ کے ساتھ رونے پر مجبور ہوتے تھے،آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے۔
حضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد قبیلہ بنی کلاب سے ان کا تعلق تھا،آپ کی مادر گرامی لیلی یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔
حضرت ام البنین کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ ۱۳جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علی(ع) نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے،یوں حضرت علی(ع) نے آپ سے شادی کی۔
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو «ام البنین» (یعنی بیٹوں کی ماں) کہا جاتا تھا،آپ کے یہ چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسین(ع) کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علی(ع) کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ ام البنین کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراء(س) کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہرا(س) کی یاد تازہ نہ ہو اور اپنی ماں پر گزرے ہوئی تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں۔
ام البنین واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں،جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسین(ع) کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسین(ع) آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا: «اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسین(ع) پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملات، امام حسین(ع) اور اہل بیت(ع) کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص مجبت کی عکاسی کرتی ہیں۔
تاریخی منابع میں لکھا گیا ہے کہ حضرت زینب(س) مدینہ پہنچنے کے بعد «ام البنین» سے ملنے گئیں اور انہیں ان کے بیٹوں کی شہادت کے حوالے سے تعزیت و تسلیت پیش کی۔
ام البنین کا اپنے بیٹوں کیلئے عزاداری
حضرت ام البنین اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزند عباس) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود انکی اپنی انشاء کئے ہوئے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں،اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے،یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ مروان بن حکم جو اہل بیت کا سرسخت دشمن سمجھا جاتا تھا بھی آپ کے ساتھ گریہ و بکا کرنے پر مجبور ہوتے تھے، آپ حضرت عباس(ع) کیلئے مرثیے کے یہ اشعار پڑھا کرتی تھیں جنکا ترجمہ یہ ہے:
« اے وہ جس نے عباس کو دشمن پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو دشمن کے پیچھے تھا،کہتے ہیں میرے بیٹے کے ہاتھ جدا ہوگئے تھے اور اس کے سر پر گرز مارا گیا تھا،اگر تیرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو کوئی تیرے نزدیک نہیں آسکتا۔
آپ کو ایک فصیح و بلیغ ادیب اور شاعر اور اہل فضل و دانش سمجھا جاتا تھا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18