Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186138
Published : 11/3/2017 17:41

ابن تیمیہ کے عقائد کا اجمالی تعارف:

توحید ابن تیمیہ کی نظر میں

ابن تیمیہ کی نظر میں موحّد وہ شخص ہے جو اگر کوئی چیز طلب کرے توبراہ راست خدا سے طلب کرے اور کسی کو بھی واسطہ یا شفیع قرار نہ دےاور کسی بھی عنوان سے غیر خدا کی طرف توجہ نہ کرے، اگرچہ وہ نبی یا ولی ہی کیوں نہ ہو۔


ولایت پورٹل:ہم اس حصہ میں ابن تیمیہ کے ان عقائد کو مختصر طور پر بیان کریں گے جن کی وجہ سے مختلف فرقوں کے علماء اس کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
توحید ابن تیمیہ کی نظر میں
ابن تیمیہ کہتا ہے:جس توحید کو پیغمبر اکرم(ص) لے کر آئے ہیں وہ صرف خداوندعالم کے لئے الوہیت کو ثابت کرتی ہے اور بس، اس طریقہ سے کہ انسان شہادت اور گواہی دے کہ اس خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، صرف اسی کی عبادت کرے اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرے اور صرف اسی کی وجہ سے کسی کو دوست رکھے یا کسی کو دشمن قرار دے، مختصر یہ کہ انسان اپنے ہر کام کو خدا کی خوشنودی کے لئے انجام دے، یہ وہ توحید ہے جس کو خداوند عالم نے قرآن مجید میں اپنے لئے ثابت کیا ہے۔
لیکن خدا کو یگانہ و منفرد جاننا یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اس عالم کو خدائے واحد نے خلق فرمایا ہے یہ توحید نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی خدا کے صفات کا اقرار کرے اور اس کو تمام عیوب سے پاک ومنزہ مانے یا اقرار کرے کہ خداوندعالم تمام مخلوقات کا خالق ہے، ایسا شخص موحد (مسلمان بمعنی عام) نہیں ہے مگر یہ کہ گواہی دے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اقرار کرے کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور بس۔(۱)
توحید الوہیت اور توحید ربوبیت
ابن تیمیہ نے توحید کی دوقسم کی ہے:
۱۔توحید الوہیت
۲۔  توحید ربوبیت اور ان کے بارے میں کہا ہے: چونکہ تمام اسلامی فرقے توحید الوہیت سے جاہل ہیں ، اسی وجہ سے غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور توحید سے صرف توحید ربوبیت کو پہچانتے ہیں اور توحید ربوبیت سے اس کی مراد خدا کی ربوبیت کا اقرار کرنا ہے یعنی یہ اقرار کرنا کہ تمام چیزوں کا خالق خداوندعالم ہے،وہ یہ کہتا ہے کہ مشرکین بھی اسی معنی کا اعتراف کرتے ہیں۔
یعنی تو حید سے اس کی خالقیت کے قائل ہیں (بلکہ ہمیں چاہئے کہ توحید الوہیت یعنی اس کی خالقیت کا اعتراف کئے بغیر خدا کی خدائی کو قبول کریں)۔
یہ قول ابو حامد بن مرزوق سے نقل ہوا ہے کہ اولاد آدم جب تک اپنی سالم فطرت پر باقی ہیں ان کی عقل میںیہ بات مسلم ہے کہ جس کی ربوبیت ثابت ہے وہی مستحق عبادت بھی ہے،لہٰذا کسی کی ربوبیت ثابت ہوجانے کالازمہ یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔(۲)
ہم اسی کتاب میں یہ بات بیان کریں گے کہ ابن تیمیہ غیر خدا سے ہر قسم کا توسل اور استغاثہ، یا انبیاء واولیاء کو شفیع قرار دینا، اسی طرح قبور کی زیارت اور وہاں پر دعا کرنا، مثلاً یہ کہنا«یا محمد» اور پیغمبراکرم(ص) اور صالحین کی قبور کے نزدیک نماز پڑھنا نیز ان کی قبور پر قربانی کرنا، یہ سب کچھ توحید کے مخالف و منافی اور باعث شرک جانتا ہے۔
لہٰذا اس بنا پرابن تیمیہ کی نظر میں موحّد وہ شخص ہے جو اگر کوئی چیز طلب کرے توبراہ راست خدا سے طلب کرے اور کسی کو بھی واسطہ یا شفیع قرار نہ دےاور کسی بھی عنوان سے غیر خدا کی طرف توجہ نہ کرے۔
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ فتح المجید،ص ۱۵ ۔۱۶ ۔
۲۔التوسل بالنبی،ص ۲۰ ۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20