Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186141
Published : 11/3/2017 18:14

آج دشمن، اسلامی ثقافت کو ہم سے چھیننا چاہتا ہے لہذا ہر مسلمان پر اس کی حفاظت ضروری ہے:رہبر انقلاب

سبھی ثقافتوں اور تہذیبوں میں کچھ چیزوں کا ہونا ،اور کچھ چیزوں کا، نہ ہونا، ضروری ہوتا ہے،ہر قوم میں کچھ عادتیں اور خاص ثقافتیں موجود ہیں کہ جن کا وجود و عدم معمولاً ضرورتوں کے مطابق تشکیل پاتا ہے،آج کی دنیا میں بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ غلط عادتیں پائی جاتی ہیں کہ دنیا کی مالی اور فوجی طاقتوں اور ان کے سربراہان مملکت یعنی دنیا کی استکباری طاقتوں کا مجموعہ دنیا کی سبھی قوموں کو ذلیل کرتا ہے کہ تم لوگ ہمارے طرز زندگی کو کیوں نہیں اپناتے ہو اور ہمارے جیسا سلوک کیوں نہیں کرتے ہو۔

ولایت پورٹل:ایک اہم فکری و عقیدتی نظام کے سلسلہ میں سبھی ادوار میں جو حساسیت نظر آتی ہے وہ ثقافت ہے اور ظاہر ہے کہ ہر فکر کا مجموعہ اپنے پیروکاروں کے درمیان ثقافتی رواجوں کی ترویج و توسیع کا خواہاں ہوا کرتا ہے جو اس کے اصولوں اور قوانین سے مطابقت رکھتا ہو،دین اسلام بھی جو کہ وحی سے سرچشمہ حاصل کئے ہوئے ہے ایک عقیدتی نظام کے تحت اس امر سے علیٰحدہ نہیں ہے جو کہ مسلمانوں کے درمیان مناسب و معقول تہذیب و ثقافت کی ترویج و تبلیغ کا خواہاں ہے البتہ اس کا رواج جو کہ مسلمانوں کے درمیان وحی کی تعلیمات پر مبنی ہے سو فیصدی اسلامی ثقافت کے تحت اعلیٰ تعلیمات کی بنیاد پر اسلامی معاشرے میں نافذ العمل ہونا چاہیئے،یہ بھی امکان پایا جاتا ہے کہ اسلام دشمنوں کی جانب سے اس پر ہونے والے ثقافتی حملے بھی اسی وجہ سے انجام پارہے ہوں اور اس بابت بزرگان دین و ملت کی تشویش لازمی وضروری تھی کیوں کہ ثقافت اور تہذیب و تمدن پر حملہ کرنے کا مسئلہ بڑا ہی اہم ہوا کرتا ہے،رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی بھی اس ثقافت کی اصطلاح اور مفہوم کو لے کر بہت ہی حساس ہیں اور مختلف بیانات کے تحت ہدایت ونصیحت کرتے رہتے ہیں،معظم لہ ثقافت کے سلسلہ میں مختصر تعریف میں بیان کرتے ہیں کہ:«ثقافت یعنی ہمارا یقین اور عقیدہ و اعتقاد اور وہ چیز جو ہماری اجتماعی و انفرادی زندگی میں اورمعاشرے کے ماحول میں واقع ہوتی ہے اور ہم اس سے روبرو اور دوچار ہوتے ہیں»۔(۱)
معظم لہ دوسروں کی ثقافت کے احترام اور اس کی عزت کو لازمی اور ضروری قرار دیتے ہیں اور مختلف ثقافت اور تہذیبوں کے ڈھانچوں میں بعض طاقتوں کی مداخلت پر نکتہ چینی کرتے ہیں:«سبھی ثقافتوں اور تہذیبوں میں کچھ چیزوں کا ہونا ،اور کچھ چیزوں کا، نہ ہونا، ضروری ہوتا ہے،ہر قوم میں کچھ عادتیں اور خاص ثقافتیں موجود ہیں کہ جن کا وجود و عدم معمولاً ضرورتوں کے مطابق تشکیل پاتا ہے،آج کی دنیا میں بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ غلط عادتیں پائی جاتی ہیں کہ دنیا کی مالی اور فوجی طاقتوں اور ان کے سربراہان مملکت یعنی دنیا کی استکباری طاقتوں کا مجموعہ دنیا کی سبھی قوموں کو ذلیل کرتا ہے کہ تم لوگ ہمارے طرز زندگی کو کیوں نہیں اپناتے ہو اور ہمارے جیسا سلوک کیوں نہیں کرتے ہو؟۔(۲)
حوالہ جات:
۱۔تہران کی نماز جمعہ میں خطاب:۳۰مارچ۱۹۹۰ء۔
۲۔مختلف طبقات پر مشتمل لوگوں سے خطاب:۲۳مارچ۱۹۹۵ء۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16