Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186153
Published : 11/3/2017 19:58

امامت اور باطنی ہدایت(۱)

اس بات کے پیش نظر کہ جناب ابراہیم(ع) نے اپنی اولاد اور ذریت کے لئے اس منصب کی فرمائش:«قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی» اور آپ (ع) کی نبوت کا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد آپ(ع) کو فرزند کی بشارت دی گئی اور ضعیفی کے عالم میں ایک اور فرزند عطا کیا گیا ان باتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ امامت کے سلسلہ میں مخاطب ہونے سے قبل آپ(ع) نبی تھے،جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے جا رہے تھے تو جناب ابراہیم(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ(ع) کو ایک عالم فرزند کی بشارت دی۔


ولایت پورٹل:
امامت کے مراتب اور پہلوؤں میں ایک اہم پہلو امامت کا عرفانی اور معنوی پہلو ہے،امامت کا یہ پہلو نبوت ورسالت سے بھی بالا تر ہے چنانچہ جناب ابراہیم خلیل ،نبوت ورسالت کے بعد مرتبۂ امامت پر فائز ہوئے:«وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا»۔(۱)جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراہیم کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کر دیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنارہے ہیں۔
اس بات کے پیش نظر کہ جناب ابراہیم(ع) نے اپنی اولاد اور ذریت کے لئے اس منصب کی فرمائش:«قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی» اور آپ (ع) کی نبوت کا طویل عرصہ گذر جانے کے بعد آپ(ع) کو فرزند کی بشارت دی گئی اور ضعیفی کے عالم میں ایک اور فرزند عطا کیا گیا ان باتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ امامت کے سلسلہ میں مخاطب ہونے سے قبل آپ(ع) نبی تھے،جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے جا رہے تھے تو جناب ابراہیم(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ(ع) کو ایک عالم فرزند کی بشارت دی:«قَالُوا لاَتَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیمٍ»۔( ۲)
ترجمہ:انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم آپ کو ایک فرزند دانا کی بشارت دینے کے لئے آئے ہیں،جناب ابراہیم کی عمر اس وقت بہت زیادہ تھی:«قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِی عَلَی أَنْ مَسَّنِی الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ»۔(۳)
ترجمہ:ابراہیم(ع)نے کہا کہ اب جب کہ مجھ پر بوڑھاپا چھا گیا ہے تو مجھے کس چیز کی بشارت دے رہے ہو،جب وعدۂ الٰہی پورا ہوا اور خدا نے آپ کو دو صاحب علم فرزند یعنی اسماعیل و اسحاق عطا کئے تو آپ نے حمد الٰہی کے لئے زبان کو جنبش دی:«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ »۔(۴)
دوسری جانب جناب ابراہیم(ع)کو ایسا عظیم مرتبہ بڑے امتحانات سے گذرنے کے بعد ملا تھا:«وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ»نمرود اور نمرودیوں سے مقابلہ ،آزر اوردیگربت پرستوں،چاند اور ستاروں کی پرستش کرنے والوں کے مقابلہ میں استقامت ،اپنے فرزند دلبند اسماعیل کے ذبح کا فیصلہ وہ عظیم امتحانات ہیں جن کا تذکرہ قرآن کریم نے کیا ہے جن کی روشنی میں امامت کی عظمت اور واضح ہو جاتی ہے۔
البتہ امامت کے نبوت ورسالت سے برتر ہونے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ امام کا مقام بھی نبی کے مرتبہ سے بالا تر ہو کیونکہ ابراہیم جیسا نبی دونوں مرتبوں کا مالک ہے،یہ سوال کہ کیا تمام انبیاء امامت کے درجہ پر فائز تھے یا یہ شرف صرف چند انبیاء کو حاصل تھا ؟اور اگر تمام انبیاء امامت کے بھی مالک تھے تو کیا سب کی امامت ایک جیسی تھی یا اس کے بھی درجات ومراتب تھے؟یہ ایک الگ بحث ہے،قرآنی آیات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام انبیاء امامت کے درجہ پر فائز تھے لیکن ان کی امامت کے درجات مختلف تھے،انبیاء کے عمومی امامت کو مندرجۂ ذیل آیات سے ثابت کیا جا سکتاہے:«وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ نَافِلَةً وَکُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِینَ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنَا»(۵)وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یُوقِنُونَ»۔(۶)
واضح سی بات ہے کہ اگر اسحٰق ،یعقوب اور دیگر انبیاء نبی اسرائیل امامت کے درجہ پر فائز تھے تو بقیہ انبیاء بھی امامت کے مالک ہوں گے اس لئے کہ انبیاء بنی اسرائیل کو دیگر انبیاء کے مقابلہ کوئی خصوصی برتری حاصل نہ تھی۔
انبیاء کے درمیان ایک دوسرے پر برتری اور فضیلت سے متعلق آیات بھی اس حقیقت کا اعلان کرتی ہیں کہ ان انبیاء کی امامت کے معنوی اور عرفانی درجات ومراتب مختلف تھے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّینَ عَلَی بَعْضٍ»۔(۷)
«تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ»(۸)
جناب ابراہیم علیہ السلام نبوت و رسالت کے بعد امامت کے درجہ پر فائز ہوتے یہ بات ائمہ اہلبیت(ع)کی روایات میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔(۹)
...........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ بقرہ:آیت۱۲۴۔
۲۔سورہ حجر:آیت۵۳۔
۳۔سورہ حجر:آیت۵۴۔
۴۔سورہ ابراہیم:آیت۳۹    ۔
۵۔سورہ انبیاء:آیت۷۲۔۷۳۔
۶۔سورہ سجدہ:آیت۲۴۔
۷۔سوہ اسراء:آیت۵۵۔
۸۔سورہ بقرہ:آیت۲۵۳    ۔
۹۔اصول کافی، ج۱،کتاب الحجۃ ،باب طبقات الانبیاء،ص۵۹۵ ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18