Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186160
Published : 12/3/2017 16:34

امامت اور باطنی ہدایت(۲)

امام کی ہدایت ایک طرح کی باطنی ہدایت ہے جو خدا کے امر تکوینی کے ذریعہ محقق ہوتی ہے،جوشخص اپنا دل امام کے حوالہ کر دیتا ہے وہ اس کی ولایت کی کشش سے جذب ہو جاتا ہے اور پھر امام کی اتباع میں تن من کی پرواہ نہیں کرتا،امام کی رضا وخوشنودی جو در اصل رضائے خدا کی تجلی ہوتی ہے،کے علاوہ کسی چیز سے دل نہیں لگاتا اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے،اس طرح امام کی ہدایت وولایت باطنی محض راہنمائی «ارائہ طریق» نہیں ہے بلکہ منزل تک پہنچانا «ایصال الیٰ المطلوب»ہے۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! گذشتہ کالم میں ہم نے امام معصوم کی جس اہم حیثیت اور پہلو کو پیش کیا تھا اس کا تعلق زندگی کے عرفانی اور معنوی جنبہ سے  تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ اس معنی میں امام کی منزلت نبوت اور رسالت سے بھی کہیں اعلی و ارفع ہے چونکہ تمام مناصب الھیہ کے ہوتے ہوئے جناب ابراہیم علیہ السلام کو یہ منصب دیا جانا اور آپ کا اپنی ذریت کے لئے اس منصب کی دعا کرنا خود اس امر کا غماز ہے کہ یہ عہدہ ابراہیم کے لئے سابق مناصب سے کہیں اہم ہے لہذا ہماری کل کی گفتگو سے متصل ہونے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
امامت اور باطنی ہدایت(۱)
گذشتہ سے پیوستہ:امامت کی حقیقت و اہداف اور امام کے مقام ومرتبہ اور خصوصیات سے متعلق امام رضا علیہ السلام سے منقول ایک مفصل روایت میں وارد ہوا ہے:کیا لوگ امامت کے مقام ومرتبہ سے واقف ہیں کہ امام کا انتخاب کر سکیں ؟امامت کا درجہ اس سے برتر، عظیم اور عمیق ہے کہ انسانی عقل اسے درک کر سکے اور اسے ان کے حوالہ کر دیا جائے اور ان کے انتخاب سے امام کی تعیین ہو جائے،امامت وہ مقام ہے جو خداوند عالم نے جناب ابراہیم(ع) کو نبوت وخلت کے بعد عطا کیا ہے اور انہیں ایسا شرف عطا کیا اور فرمایا:«إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا»اس مرتبہ کے حاصل ہونے کے بعد جناب ابراہیم(ع)خوش ہو گئے اور اپنی اولاد کے لئے بھی درخواست کی خدانے فرمایا«لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ» یہ آیت ہر ظالم کی امامت کو باطل قرار دیتی ہے اور امامت کو قیامت تک صرف پاکیزہ اور منتخب بندوں کا حق قرار دیتی ہے،پھر خدا نے یہ کرامت ابراہیم(ع)کی پاکیزہ نسل میں رکھی اور ارشاد فرمایا:«وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ نَافِلَةً وَکُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِینَ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَهدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَیْنَا إِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَإِقَامَةِ الصَّلَاۃِ وَإِیتَاء الزَّکَاۃِ وَکَانُوا لَنَا عَابِدِینَ»اس کے بعد نسل در نسل امامت ابراہیم(ع)کی پاکیزہ ذریت میں باقی رہی یہاں تک کہ پیغمبر اکرم  (ص) تک پہنچی آنحضرت(ص) نے خدا کے حکم سے امامت علی(ع) کے حوالہ کر دی اور یہ منصب ان کے پاک وپاکیزہ اور منتخب فرزندوں میں باقی رہا اور قیامت تک جاری رہے گا اس لئے کہ اب کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔(۱)
گذشتہ مطالب سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عرفانی پہلو ہی امامت کا اعلیٰ ترین پہلو ہے،امامت کے اس پہلو اور مرتبہ سے ایک طرح کی ہدایت بھی جڑی ہے جسے«باطنی ہدایت» کا نام دیا جا سکتا ہے وہ ہدایت جو امر الٰہی سے محقق ہوتی ہے:«وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنَا»امر سے مراد وہی ہے جس کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّمَا أَمْرُہُ إِذَا أَرَادَ شَیْئًا أَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْئٍ»۔(۲)
نیز ارشاد ہوتا ہے:«وَمَا أَمْرُنَا إِلاَّ وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ»(۳)آیۂ کریمہ میں «فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْئٍ»سے معلوم ہوتاہے «امر»ایک ملکوتی حقیقت ہے جو موجودات کے باطن سے تعلق رکھتی ہے اور عالم خلق(عالم ملک مادی)میں پائے جانے واے تغیر ،تدریج اور زمان ومکان س(کی حدود)ے بے نیاز ہے۔
اس بنا پر امام کی ہدایت ایک طرح کی باطنی ہدایت ہے جو خدا کے امر تکوینی کے ذریعہ محقق ہوتی ہے،جوشخص اپنا دل امام کے حوالہ کر دیتا ہے وہ اس کی ولایت کی کشش سے جذب ہو جاتا ہے اور پھر امام کی اتباع میں تن من کی پرواہ نہیں کرتا،امام کی رضا وخوشنودی جو در اصل رضائے خدا  کی تجلی ہوتی ہے،کے علاوہ کسی چیز سے دل نہیں لگاتا اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے،اس طرح امام کی ہدایت  وولایت باطنی محض راہنمائی «ارائہ طریق» نہیں ہے بلکہ منزل تک پہنچانا «ایصال الیٰ المطلوب»ہے(۴)
امام محمد باقرعلیہ السلام سے منقول ہے ایک روایت میں وارد ہوا کہ مؤمنین کے دلوں میں امام کا نور دن میں سورج کی روشنی سے زیادہ ضیا ء بار ہوتا ہے«لنور الامام فی قلوب المؤمنین انورمن الشمس المضیئةبالنھار»(۵)
......................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔اصول کافی، ج۱ ،کتاب الحجۃ، باب فی فضل الامام، ص۱۵۴ ۔
۲۔یسورہ یٰس:آیت۸۳    ۔
۳۔سورہ قمر:آیت۵۰۔
۴۔المیزان، ج ۱،ص۲۷۱ تا ۲۷۳ ملاحظہ فرمائیں۔
۵۔اصول کافی، ج۱ ،کتاب الحجۃ باب ان الائمۃ نور اللہ عزوجل، ص۱۵۰ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16