Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186161
Published : 12/3/2017 17:23

بیوی پر شوہر کے حقوق:

نقص کو کمال میں بدلنے کا هنر

محترم خاتون!آپ کا شوہر ایک عام انسان ہے، ممکن ہے وہ بے عیب نہ ہو لیکن اس کے مقابل اس میں بہت زیادہ خوبیان بھی پائی جاتی ہیں ، اگر آپ کو اپنی زندگی اور گھرانے سے کوئی لگاؤ ہے تو عیب نکالنے سے گریز کریں، اس کے چھوٹے چھوٹے عیوب کو نظر انداز کریں بلکہ انہیں عیب ہی شمار مت کریں،اپنے شوہر کا اس خیالی مرد کےساتھ تقابل نہ کریں جس کا خارج میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!جس طرح اللہ تبارک و تعالی نے شوہر پر بیوی کی نسبت کچھ حقوق اور ذمہ داریوں کو رکھا ہے اسی طرح اس ذات پاک نے عورت کو بھی شوہر کی نسبت غیر ذمہ دار نہیں چھوڑا بلکہ اس پر کچھ اخلاقی حقوق کی ذمہ داری عائد کی ہے انہیں حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر میں عیب نہ نکالے بلکہ اگر باکمال خاتون ہے تو وہ اس میں پائے جانے والے نقص کو بھی کمال میں تبدیل کرسکتی ہے،لہذا اسی گفتگو کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کیجئے!
اپنے شوہر میں عیب مت نکالئے
گذشتہ سے پیوستہ:محترم خاتون!آپ کا شوہر ایک عام انسان ہے، ممکن ہے وہ بے عیب نہ ہو لیکن اس کے مقابل اس میں بہت زیادہ  خوبیان بھی  پائی جاتی ہیں ، اگر آپ کو  اپنی زندگی اور گھرانے سے کوئی لگاؤ ہے تو عیب نکالنے سے  گریز کریں، اس کے چھوٹے چھوٹے عیوب کو نظر انداز کریں بلکہ انہیں عیب ہی شمار مت کریں،اپنے شوہر کا اس  خیالی مرد کےساتھ تقابل نہ کریں جس کا خارج میں کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ اس کی خوبیوں کو دوسرے مردوں کے ساتھ مقایسہ کریں ، ممکن ہے  کسی شخص میں وه عیب نہ  پایا جاتا ہو جو آپ کے شوہر  میں ہے لیکن اس میں دوسرے بہت سے عیب ہوسکتے ہیں کہ جو شاید بہت بڑے ہوں ، آپ اپنی آنکھوں سے بدبینی کے چشمہ کو اتار کر اپنے  شوہر کی طرف غور سے دیکھیئے اس وقت آپ کو محسوس ہوگا کہ اس میں موجود اچھائیاں اس کے عیوب سے بہت زیادہ ہیں اگر  اس میں ایک عیب پایا جاتا ہے  تو اس کے بدلے سینکڑوں اچھائیاں بھی تو اس میں موجود ہیں۔
آپ اپنے  شوہر کی اچھائیوں پر نظر کرکے خوشی کا اظہار کریں ،کیا آپ خود  عیب سے منزہ ہیں کہ جو اس بات  کی توقع رکھتی ہیں کہ آپ کے  شوہر میں کسی طرح کا کوئی  عیب نہ پایا جائے ،  در اصل آپ کی خود پسندی اور خود غرضی آپ کو یہ اجازت  نہیں دیتی ہے کہ آپ اپنے عیوب کی طرف نظر کریں اور اگر آپ کو اپنے عیب دیکھائی نہیں دیتے تو جاکر کسی دوسرے سے پوچھ لیں،چنانچہ رسول اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں :انسان میں اس سے بڑا کوئی عیب نہیں ہے کہ اسے دوسروں کے عیب تو نظر آئیں لیکن اپنے عیوب سے غافل ہو۔(۱)
آپ کیوں ایک  چھوٹے سے  عیب کو  بڑا گمان کرتی ہیں اور اس کے متعلق اتنا غم کھاتی ہیں کہ اس کے سبب زندگی کی بنیاد اور  انس و مودت کے  مرکز کو ہی برباد کردینا چاہتی ہیں؟عقلمندی اور ہوشیاری کے ناخن لیں اور ہوائے نفس کی پیروی سے دست بردار ہوجائیں، چھوٹے  عیوب کونظر انداز کردیں  اور محبت کا اظهار کرکے  ہمیشہ اور پایدار رہنے والی محبت سے سرفراز ہوں،خبردار آپ اپنے شوہر کے عیب  کو نہ  اس کے سامنے اور نہ ہی اس کی پیٹھ پیچھے اپنی زبان پر مت لائیں، چونکہ آپ کے اس کام کے سبب اسے دکھ پہونچے گا اور وہ کبیدہ خاطر ہو گا، پھر وہ بھی آپ میں عیب نکالنے لگے گا اور آپ دونوں کے درمیان ریسمان محبت پارہ پارہ ہوجائے گی  اور گھر میدان جنگ کا سا منظر پیش کرے گا اور اگر آپ نے اسی طرح زندگی کو جاری رکھا تو آپ کو کوئی خوشی میسر نہیں آئے گی اور اگر  طلاق یا جدائی  واقع ہوگئ تو اس کا انجام اور بھی برا ہوگا۔
ہاں!اگر وہ  عیب قابل اصلاح ہوتو آپ اسکی اصلاح کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں لیکن اس صورت میں آپ کو  کامیابی نصیب ہوسکتی ہے کہ جب آپ نرمی ، پیار و محبت ،صبر و تحمل ،خیر خواهی کے ساتھ اسے برطرف کرنے کا اقدام کریں ، لیکن اگر آپ نے عیب بیان کرنے یا اعتراض ،سرزنش اور اشکال کرنے یا  لڑائی جھگڑے کے ساتھ کوئی اقدام کیا تو آپ کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی۔
حوالہ:بحار الانوار ج 73،ص 385۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18