Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186164
Published : 12/3/2017 17:57

حضرت ام البنین(س) کا علم اور دانائی

حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کا علم ان کے با عظمت بیٹے میں ان کا علم متجلی ہے،وہ ایک محدثہ ہیں اور انھوں نے اپنے بیٹیوں کی علم و دانش کے ساتھ تربیت کی ہے،اگر چہ ان کے بیٹے «باب علم نبی» کے فرزند تھے، لیکن اپنی ماں کے علم و دانش سے بھی بہرہ مند تھے۔

ولایت پورٹل:حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیشہ با بصیرت اور علم و دانش کے نور سے منور تھی اور ان کی یہ بلند فضیلت تاریخ کی کتابوں میں جگہ جگہ پر ذکر کی گئی ہے، جس سے ہمیں اس عالمہ و فاضلہ خاتون کی عظمت معلوم ہوتی ہے،اہل بیت (ع)کے ساتھ ان کی محبت اور امامت کے بارے میں ان کی دینی بصیرت اس قدر تھی کہ ان کے بارے میں علماء لکھتے ہیں:ام البنین کی عظمت و معرفت اور بصیرت کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ جب وہ امیرالمؤمنین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں اور حسنین(ع) بیمار ہوتے تو وہ ہمدردی اور مہربانی کے ساتھ پیش آتی تھیں اور ان کے ساتھ ہم کلام ہوتی تھیں اور حد درجہ محبت سے ان کے ساتھ برتاؤ کرتی تھیں، جیسے ایک ہمدرد اور مہربان ماں پیش آتی ہے۔
ان کے اور ان کے عظمت والے بیٹے میں ان کا علم متجلی ہے،وہ ایک محدثہ ہیں اور انھوں نے اپنے بیٹیوں کی علم و دانش کے ساتھ تربیت کی ہے،اگر چہ ان کے بیٹے «باب علم نبی» کے فرزند تھے، لیکن اپنی ماں کے علم و دانش سے بھی بہرہ مند تھے، چنانچہ حضرت علی علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت عباس (ع) کے بارے میں فرماتے ہیں:«انّ ولدی العباس زقّ العلم زقا»۔
ترجمہ:بیشک میرے بیٹے عباس نے بچپن میں ہی علم سیکھا ہے اور جس طرح کبوتر کا بچہ اپنی ماں سے پانی اور غذا حاصل کرتا ہے، اسی طرح اس نے مجھ سے معارف کی تربیت پائی ہے۔
hajij.com



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16