Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186176
Published : 12/3/2017 19:33

رہبر انقلاب کی نظر میں اسلامی تہذیب کی اہمیت:

سامراجی طاقتیں جدید تہذیب کے نام پر جاہلی تمدن کو رائج کرنا چاہتی ہیں:رہبر انقلاب

اگر جدت پسندی اور فکر نو کو رواج دینے کے دعویداروں کے ساتھ، مغرب مآبی اور جدت پسندی ہی کے دعویدار مصر میں فرعونی ثقافت، ایران میں سامانی ثقافت، عراق میں بابلی ثقافت، ترکی میں بربری ثقافت اور دوسری بہت سی ثقافتوں کے احیاء اور اس کے رواج دینے کے حامی اور اس پر مصر بھی ہیں۔کیا ہمارے پاس ایسے حالات فراہم نہیں تھے کہ ہم لوگ یہ سمجھ سکیں کہ فطری طور پر یہ اختلاف قدیم و جدید ثقافت کے درمیان ہے یا چپقلش اور اختلاف کی بنیاد کوئی اورچیزہے جس کے ارد گرد تمام اختلافات چکر کاٹ رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:جدت پسندی اورمغرب مآبی کی دعوت دینے والے یہ چاہتے ہیں کہ ان مسائل کی ایسی ہی تفسیر کریں،بلکہ ان کی تمام کدّ و کاوش اور اس کی کارکردگی کااصلی راز، خاص طور سے اس نسل کو اسلام و دین سے روکنے کی طرف ہی پلٹتا ہے، مجموعی طور سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ «تہذیب کہنہ اور نو»کا یہاں پر یکسر کوئی تصور بھی نہیں ہے بلکہ اُن کا اصلی مقصد دین اسلام سے مقابلہ کرنا اور اس کو نیست و نابود کر دینا ہے۔
اس دعوت (قدامت پسندی اور جدت پسندی میں کوئی جنگ اور اختلاف بھی نہیں ہے) کی دلیل یہ ہے کہ خود جدت پسندی اور تہذیب نو کی دعوت دینے والے لوگ مذہبی اور ثقافتی پلوں کو ایک خاص طرز کے ذریعہ نسل نو کو قدیم جاہلی تہذیبوں سے تال میل کے لئے مصر عراق،ایران، ترکی، شام اور اسلامی دنیا کے دوسرے ممالک میں(دین بزرگ اسلام سے بے توجہی کرتے ہوئے) پروگرام بنائے ہوئے ہیں،ان کا سارا اختلاف اور بنائے مخاصمت نسل نو کو دین مبین اسلام سے دور رکھنا ہے، جس کو وہ لوگ جڑسے اکھاڑ دینا چاہتے ہیں۔
اگر جدت پسندی اور فکر نو کو رواج دینے کے دعویداروں کے ساتھ، مغرب مآبی اور جدت پسندی ہی کے دعویدار مصر میں فرعونی ثقافت، ایران میں سامانی ثقافت، عراق میں بابلی ثقافت، ترکی میں بربری ثقافت اور دوسری بہت سی ثقافتوں کے احیاء اور اس کے رواج دینے کے حامی اور اس پر مصر بھی ہیں۔کیا ہمارے پاس ایسے حالات فراہم نہیں تھے کہ ہم لوگ یہ سمجھ سکیں کہ فطری طور پر یہ اختلاف قدیم و جدید ثقافت کے درمیان ہے یا چپقلش اور اختلاف کی بنیاد کوئی اورچیزہے جس کے ارد گرد تمام اختلافات چکر کاٹ رہے ہیں۔
اس زمانہ میں ہم بالوضوح یہ ملاحظہ کررہے ہیں کہ جدت پسندی کی دعوت دینے والے بڑی ہی جلد بازی کرکے اس بات کے درپے ہیں کہ تمام حالات اور وسائل سے استفادہ کرکے فرعونی ہخامنشی،ساسانی،بابلی اور بربریت کے دور قدیم کی جاہلی ثقافتوں تہذیبوں اور تمدنوں کو امت مسلمہ کی زندگی اور تمام ادبی حلقوں میں، شعر و نثر سے لیکر مجسمہ سازی، قصہ گوئی تھیٹر، سینما،مطبوعات، تعلیمی اور درسی کتابیں، پوشاک اور معماری کے ہنر میں قدیم جاہلی تہذیبوں کا جلوہ دیکھنے کو ملتاہے، اسی طرح چوراہوں، میدانوں، سڑکوں، محلہ جات اور پارک وغیرہ کے نام رکھنے میں قدیم جاہلی تہذیب و ثقافت کو از سر نو زندہ کر رہے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15