Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186188
Published : 13/3/2017 19:31

عربوں کے درمیان نسب کی اہمیت

قبائل عرب میں نسلی تفاخر بہت زیادہ پایا جاتا تھا جس کا واضح نمونہ وہ قومی رقابتیں ہیں جو عدنانیوں (شمالی عرب )اور قحطانیوں(جنوبی عرب)کے درمیان پائی جاتی تھیں،سی بنا پر وہ لوگ اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو اہمیت دیتے تھے۔


ولایت پورٹل:
جاہل عربوں کے درمیان کمال کا ایک اہم معیار ،نسب ہوا کرتا تھا جو ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا یہاں تک کہ بہت ساری خوبیاں «نسب»کی بنا پر ہوا کرتی تھیں۔(۱)
قبائل عرب میں نسلی تفاخر بہت زیادہ پایا جاتا تھا جس کا واضح نمونہ وہ قومی رقابتیں ہیں جو عدنانیوں (شمالی عرب )اور قحطانیوں(جنوبی عرب)کے درمیان پائی جاتی تھیں۔(۲) اسی بنا پر وہ لوگ اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو اہمیت دیتے تھے۔
نعمان بن منذر کسریٰ کے جواب میں کہتا ہے :عرب کے علاوہ کوئی بھی امت اپنے نسب سے واقف نہیں ہے اور اگر ان کے اجداد کے بارے میں پوچھا جائے تواظہار لاعلمی کرتے ہیں لیکن ہر عرب اپنے آباء واجداد کو پہچانتا ہے اور غیروں کو اپنے قبیلہ کا جزء نہیں مانتا اور خود دوسرے قبیلہ میں شامل نہیں ہوتا اور اپنے باپ کے علاوہ دوسروں سے منسوب نہیں ہوتا۔(۳)
لہٰذا تعجب کی بات نہیں ہے کہ علم«نسب شناسی»اس وقت ایک محدود علم تھاجس کی بڑی اہمیت تھی اور نسب دانوں کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔
آلوسی جو کہ عرب شناسی کے مسئلہ میں صاحب نظر ہے کہتا ہے:عرب کے جاہل اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ان کے قبائل متفرق ہوتے تھے اور جنگ کی آگ مستقل ان کے درمیان شعلہ ور تھی اور لوٹ و مار ان کے درمیان رائج تھا اور چونکہ وہ کسی قدرت کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے تھے جو ان کی حمایت کرے لہٰذا وہ مجبور ہوکر اپنے نسب کی حفاظت کیا کرتے تھے تاکہ اپنے دشمن پر کامیاب ہوسکیں کیوں کہ رشتہ داروں کی آپسی محبت حمایت اورتعصب ایک دوسرے کے الفت اور تعاون کا باعث بنتی ہے اور رسوائی اور تفرقہ سے رکاوٹ کا باعث قرار پاتی ہے۔(۴)
دین اسلام ہر طرح کی قومی برتری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم قریش اور عرب کے درمیان نازل ہوا تھا لیکن اس کے مخاطبین صرف قریش ،عرب یااس کے مانند دوسرے افراد نہیںہیں بلکہ اس کے مخاطبین عوام الناس ہیں اور اس میں مسلمانوں اور مؤمنین کے فرائض بیان کئے گئے ہیں،قرآن کریم قومی فرق کو فطری جانتا ہے اور اس فرق کا فلسفہ بتاتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں اور قومی اور نسلی فخر و مباہات کی مذمت کرتا ہے اور بزرگی کا معیار «تقویٰ»کوبتاتا ہے۔
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دئیے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ ہر شئے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔(۵)
پیغمبر اسلام(ص) نے نسلی اور خاندانی فخر ومباہات کی شدت سے مخالفت کی ہے،جس کے چند نمونے یہ ہیں:
۱۔فتح مکہ کے موقع پر جب قریش کا اصلی قلعہ منہدم ہوگیا تو آپؐ نے فرمایا:اے لوگو!خداوند عالم نے نوراسلام کے ذریعہ ،زمانۂ جاہلیت میں رائج فخرو مباہات کو ختم کردیا،آگاہ ہوجاؤ کہ تم نسل آدم سے ہو اور آدم خاک سے پیدا ہوئے ہیں،خدا کا بہترین بندہ وہ ہے جو متقی ہو کسی کے باپ کا عربی ہونا فضلیت نہیں رکھتا،یہ صرف زبانی بات ہے اور جس کا عمل اسے کسی مرتبہ پرنہ پہنچاسکے اس کا نسب و خاندان بھی اسے کسی مرتبہ پر نہیں پہنچا سکتا۔(۶)
۲۔حجۃ الواداع کے موقع پر ایک مفصل خطبہ کے دوران جو کہ اہم اور بنیادی مسائل پر مشتمل تھا آپ نے فرمایا:کوئی عربی،عجمی پر فضیلت نہیں رکھتا ،صرف تقویٰ کے ذریعہ آدمی بزرگ اور محترم قرار پاتا ہے۔(۷)
۳۔ایک دن آپ(ص) نے قریش کے سلسلے میں گفتگو کے دوران ،جناب سلمان کی باتوں کی تائید فرمائی اور قریش کے غلط طرز فکر اور ان کی نژاد پرستی کے مقابلہ میں روحانی کمالات پر تکیہ کرتے ہوئے فرمایا:اے گروہ قریش! ہر شخص کا دین ہی اس کا حسب و نسب ہے اور ہر کسی کا اخلاق و کردار ہی اس کی مردانگی ہے اور ہر ایک کی اساس اور بنیاد اس کی عقل وفہم اور دانائی ہے۔(۸)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔مثلاً اس زمانہ کی رسم یہ تھی کہ اگر کسی کا باپ عرب اور ماں عجمی ہوتی تھی تو اس کو طعنہ اور تحقیر کرنے کے لئے «ہجین»کہتے تھے(جو نسب کی پستی اور ناخالصی پر دلالت کرتا ہے)اور اگر کوئی اس کے برعکس ہوتا تھا تو اس کو «مذَرّع»کہتے تھے،ہجین ارث سے محروم رہتاتھا(ابن عبدربہ اندلسی،العقد الفرید(بیروت:دارالکتاب العربی، ۱۴۰۳ھ،ق)ج:۶،ص:۱۲۹،ہجین مرد صرف اپنی جیسی عورتوں سے شادی کرنے کا حق رکھتا تھا(محمد بن حبیب المحبر (بیروت:دارالآفاق الحدیدۃ)ص۳۱۰،شہر ستانی،الملل والخلل،(قم:منشورات الرضی،ط۲) ص۲۵۴۔دور اسلام میں پیغمبراسلام(ص) سے ہجین کے خون بہا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:اسلام کے ماننے والوں کے خون کی قیمت برابر ہے۔(ابن شہر آشوب ،مناقب ،(قم:المطبعۃ العلمیہ، ج۱،ص۱۱۳۔
۲۔جواد علی،المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت :دارالعم للملائین،۱۹۶۸م)ج۱، ص۴۹۳ کے بعد،شوقی ضیف ،تاریخ الادب العربی، العصرالجاہلی،ص۵۵۔
۳۔آلوسی،ایضاً،ج۱،ص۱۴۹۔زمانہ اسلام میں عمر بن خطاب نے اسی فکر سے متاثر ہوکر عراق کے نبطیوں سے جنھوںنے اپنا تعارف اپنے رہنے کی جگہ سے کیاتھا،ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا:اپنے نسب کو سیکھو اور عراق کے نبطیوںکی طرح نہ بنواس لئے کہ جب ان سے ان کے خاندان اور نسب کے بارے میںپوچھا جاتا ہے تو جواب میں کہتے ہیں فلاں جگہ اور فلاں محل کارہنے والا ہوں۔(ابن خلدون، مقدمہ،تحقیق :خلیل شحادہ و سہیل زکار،نویں فصل،ص۱۶۲،ابن عبدربہ اندلسی،ایضاً ، ج۳، ص:۳۱۲)
۴۔بلوغ الارب ،ج۳،ص۱۸۲،اسی طرح رجوع کریں:المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ،ج۱، ص۴۶۷،۴۶۶۔
۵۔سورۂ حجرات ،۴۹،آیت۱۳۔حضرت امام صادق(ع) سے ایک روایت کے مطابق اور بعض تفسیروں کی بنیاد پر،مذکورہ آیت میں کلمۂ«قبائل»سے مراد عرب کے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جن میں سے ہر ایک کو ’’قبیلہ‘‘کہا جاتا ہے اور«شعوب»سے مراد غیر عربی گروہ ہے۔(طبرسی،مجمع البیان،تفسیر سورۂ حجرات ذیل آیۂ ۱۳)
۶۔کلینی،الروضۃ من الکافی (تہران:دارالکتب الا سلامیہ،ط ۲ ) ص ۲۴۶، مجلسی ، بحارالانوار (تہران: دارالکتب اسلامی)ج۲۱،ص ۱۳۷،اور ۱۳۸ ،اور الفاظ میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ،سیرہ ابن ہشام ج۴،ص ۵۴ ، پرنقل ہواہے۔
۷۔حسن بن علی بن شعبہ ،تحف العقول (قم: مؤسسۃ النشر الاسلامی ،ط۳،۱۳۶۳)ص: ۳۴۔
۸۔کلینی ،ایضاً ،ص:۱۸۱۔
 
 
 




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16