Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186201
Published : 14/3/2017 16:40

عرب میں قبائلی جنگیں

عربوں کے درمیان اگر قاتل کا گروہ ،خطا وار کو قصاص کے لئے مقتول کے سپر د کر دیتا تو یہ جنگ رونما نہ ہوتی لیکن ان کی نظروں میں ایسا کرنا ان کی عزت و وقار کے خلاف تھا اسی بنا پر وہ اپنے لئے بہتر سمجھتے تھے کہ خطا کار کو خود سزادیں،کیونکہ بادیہ نشینوں کی نگاہ میں عزت اور آبرو کی حفاظت سب سے زیادہ اہم تھی اور وہ اپنے تمام اعمال میں اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے۔


ولایت پورٹل:
اگر عرب کے درمیان کوئی قتل رونما ہوتا تھا تو اس کی ذمہ داری قاتل کے قریبی ترین افراد پر عائد ہوتی تھی اور چونکہ قاتل کا قبیلہ اس کی حمایت پر آمادہ اور کمر بستہ نظر آتا تھا،لہٰذا انتقام کے لئے خون ریز جنگیں ہوتی تھیں اور یہ جنگیں جو عام طور پر چھوٹی باتوں پر ہوتی تھیں کئی سالوں تک جاری رہتی تھیں جیسا کہ«جنگ بسوس»جو کہ دو قبیلوں بنی بکر اور بنی تغلب کے درمیان (یہ دونوں قبیلے ربیعہ سے تھے)چھڑی اور چالیس سال تک جنگ جاری رہی اور اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ پہلے قبیلہ کا اونٹ جو کہ بسوس نامی خاتون کا تھا بنی تغلب کی چراگاہ میں چرنے کے لئے چلا گیا تو اسے ان لوگوں نے مار ڈالا۔(۱)
اسی طرح سے «داحس اور غبر اء نامی»دو خون ریز جنگ قیس بن زہیر (قبیلۂ بنی قیس کا سردار) اور حذیفۂ ابن بد( قبیلۂ بنی فزارہ کا سردار) کے درمیان ایک گھوڑ دوڑ کے سلسلہ میں رونما ہوئی اور مدتوں جاری رہی،داحس اور غبراء نامی دوگھوڑے تھے ایک قیس کا اور دوسرا حذیفہ کا تھا،قیس نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مقابلہ میں جیتا ہے اور حذیفہ نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مقابلہ میں بازی لے گیا،اسی مختصر سی بات پر دونوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑک اٹھی اور بہت زیادہ قتل اور خونریزی رونما ہوئی۔(۲) اور اس طرح کے واقعات «ایام العرب»کے نام سے مشہور ہوئے،اور اس کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں،البتہ کبھی چند اونٹ خون بہا کے طور پر دے کر مقتول کی دیت ادا کردی جاتی تھی اور ہر قبیلہ کے بزرگ اس قسم کے مسائل کے لئے راہ حل تلاش کرتے اور اس کو قوم کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن وہ اس کو قوم پر تھونپتے نہیں تھے اور زیادہ تر قبائل ان تجاویز کو اس وقت قبول کرتے تھے جب طولانی جنگوں سے تھک اور نا امید ہوجاتے تھے تو ان تجاویز کو قبول کرلیتے تھے۔
اگر قاتل کا گروہ ،خطا وار کو قصاص کے لئے مقتول کے سپر د کر دیتا تو یہ جنگ رونما نہ ہوتی لیکن ان کی نظروں میں ایسا کرنا ان کی عزت و وقار کے خلاف تھا اسی بنا پر وہ اپنے لئے بہتر سمجھتے تھے کہ خطا کار کو خود سزادیں،کیونکہ بادیہ نشینوں کی نگاہ میں عزت اور آبرو کی حفاظت سب سے زیادہ اہم تھی اور وہ اپنے تمام اعمال میں اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے۔
ان کے درمیان جو قوانین اور دستورات رائج تھے وہ کم و بیش حجاز کے شہروں یعنی طائف ،مکہ اور مدینہ میں بھی نافذ تھے،کیونکہ ان شہروں کے باشندے بھی اپنے سماج میں بادیہ نشینوں کی طرح مستقل اور آزاد رہتے تھے اور کسی کی پیروی نہیں کرتے تھے بادیہ نشینوں میں تعصب اور آبرو پرستی، بے حدا ور مبالغہ آمیز تھی،لیکن مکہ میں کعبہ کے احترام اور تجارتی مرکز ہونے کی بنا پر ایک حد تک متوسط تھی۔(۳)
قرآن کریم اس قسم کے تعصب اور انتقام کی مذمت کرتا ہے اور نصرت اور حمایت کا معیار ،حق و عدالت کو قرار دیتا ہے اور تاکید فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہییٔ کہ وہ عدالت کو شدت کے ساتھ قائم کریں اگرچہ عدالت والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ترجمہ:اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہی دو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کی حمایت کا تم سے زیادہ سزاوار ہے لہٰذا خبردار! خواہشات کا اتباع نہ کرنا تا کہ انصاف نہ کر سکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یادر رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔(۴)
.............................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔محمد احمد جادالمولی بک،علی محمد البجاوی ومحمد ابو الفضل ابراہیم،ایام العرب فی الجاہلیۃ،(بیروت:دارا حیاء التراث العربی) ص:۱۶۸،۱۴۲،رجوع کریں:ابن اثیر،الکامل فی التاریخ(بیروت:دار صادر ۱۳۹۹ھ۔ ق) ج۱،ص ۵۳۹،۵۲۳۔
۲۔عبدالملک بن ہشام ،سیرۃ النبی،تحقیق :مصطفی السقاء (اور دوسرے لوگ)،(قاہرہ:مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی،۱۳۵۵ھ۔ق)،ج:۱،ص۳۰۷،یاقوت حموی،معجم البلدان ،قاہرہ: مطبعۃ السعادۃ،ط۱،۱۳۲۳ ھ۔ق) ج ۱،ص ۲۶۸ لفظ (صاد)۔ابن اثیر اور جادالمولی بک دونوں قیس کا گھوڑا جانتے تھے۔ (الکامل فی التاریخ ، ج۱،ص ۵۸۲،۵۶۶،ایام العرب ،ص۲۷۷،۲۴۶)۔
۳۔بروکلمان ،ایضاً ،ص۸۔
۴۔سورۂ نساء،۴،آیت ۱۲۵۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16