Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186203
Published : 14/3/2017 17:30

ابن تیمہ کی نظر میں ایمان و کفر کا معیار

ابن تیمیہ کی نظر میں کفر اور شرک کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جس کا ہم نے ذکر کیا کیونکہ وہ جناب تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسجد کا پڑوسی ہو ،اور اپنے کام وغیرہ کی وجہ سے نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکے ، تو اس کو توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔

ولایت پورٹل:بعض وہ اعمال جو تمام مسلمانوں کے درمیان جائز بلکہ مستحب بھی ہیں،ابن تیمیہ کی نظر میں شرک اور بے دینی کا سبب ہیں، مثلاً اگر کوئی شخص آنحضرت(ص) کی قبر کی زیارت کے لئے سفر کرے اور اس کے سفر کا اصل مقصد مسجد النبی(ص) میں جانا نہ ہو، تو ایسا شخص سید مرسلین(ص) کی شریعت سے خارج ہے۔(۱)
اور اگر کوئی شخص طلب حاجت کی غرض سے پیغمبر(ص) یا کسی دوسرے کی قبر کی زیارت کرے اس کو خدا کاشریک قرار دے اور اس سے کوئی چیز طلب کرے تو اس کا یہ عمل حرام اور شرک ہے۔(۲)
اسی طرح اگر کوئی قبور سے نفع کا امیدوار ہو اور ان کو بلا و مصیبت دفع کرنے والا تصور کرے تو اس کا حکم بت پرستوں کی طرح ہے جس طرح بت پرست،بتوں سے حصول نفع ونقصان کے قائل ہیں۔(۳)
اسی طرح جو لوگ قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو اس کا مقصد بھی مشرکین کے قصد کی طرح ہوتا ہے ،کہ وہ لوگ بتوں سے وہی چیز طلب کرتے ہیں جو ایک مسلمان خدا سے طلب کرتا ہے۔(۴)
اسی طرح سے ابن تیمیہ کا کہنا ہے:
اگر کوئی انسان غیر خدا کو پکارے اور غیر خدا کی طرف جائے (یعنی ان کی قبور کی زیارت کے لئے سفر کرے) اور مردوں کو پکارے چاہے وہ پیغمبر ہوں یا غیر پیغمبر ، تو گویا اس نے خدا کے ساتھ شرک کیا۔(۵)
ابن تیمیہ کی نظر میں کفر اور شرک کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جس کا ہم نے ذکر کیا کیونکہ وہ جناب تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسجد کا پڑوسی ہو ،اور اپنے کام وغیرہ کی وجہ سے نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکے ، تو اس کو توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔(۶)
گذشتہ مطلب کی وضاحت
شوکانی جو کہ ابن تیمیہ کے طرفداروں او ر وہابیوں کے موافقین میں سے ہیں، کہتے ہیں:صاحب نجد کے ذریعہ ہم تک پہونچنے والی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ:جو کوئی شخص نماز جماعت میں شریک نہ ہو اس کا خون حلال ہے۔
جبکہ یہ بات قانون شریعت کے برخلاف ہے۔(۷)
اہل سنت کے سلف صالح اور ائمہ اربعہ اور عام اسلامی مذاہب کے پیشوا نماز کو گھر یا مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ پڑھتے تھے، مثلاً امام مالک ،شروع میں نماز کے لئے مسجد میں جایا کرتے تھے لیکن بعض وجوہات کی بناپر مسجد میں جانا ترک کردیا، اور گھر ہی میں نماز پڑھنے لگے، لیکن جب اس بارے میں لوگوں نے ان پر اعتراضات کرنے شروع کردئے تو کہتے تھے: میں اس کی وجہ اور دلیل نہیں بتاسکتا۔(۸)
احمد ابن حنبل پر بھی جب خلیفہ وقت کا غضب اور قہر پڑنے لگا تو انھوں نے بھی مسجد جانا ترک کردیا، یہاں تک کہ نماز یا دوسرے کام کے لئے بھی مسجد میں نہیں جاتے تھے۔(۹)
مصر کے سابق مفتی اور الازہر یونیورسٹی کے سابق صدر شیخ محمود شلتوت صاحب کہتے ہیں:مسلمانوں کو اختیار ہے کہ جہاں بھی نماز پڑھنا چاہیں پڑھیں،چاہے مسجد ہو یا گھر جنگل ہو یا کارخانہ یا کتابخانہ، مختصر یہ کہ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے، وہیں پر نماز ادا کرلیں، نیز انھیں اختیار ہے کہ چاہے نماز کو فرادیٰ پڑھیں ، البتہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا نماز کا بہترین طریقہ ہے۔اس کے بعد جناب شلتوت صاحب نماز جماعت کے فوائد بیان کرتے ہیں۔(۱۰)
..........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی،ص ۱۸، ۲۰۔
۲۔ ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی،ص ۵۲۔
۳۔ ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی،ص۵۶۔
۴۔ ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی،ص۵۹۔
۵۔ ابن تیمیہ،الرد علی الاخنائی،ص۶۱ ۔ ۶۷۔
۶۔فتاوی الکبریٰ ،ج۱ ،ص ۳۶۶ ،سعود بن عبدالعزیز نجد کے مشہور بادشاہ (متوفی ۱۲۲۹) نے ہر علاقہ میں امام جماعت مقرر کئے تھے،البتہ یہ امام جماعت دوم تھے یعنی اگر کوئی کسی عذر کی وجہ سے پہلی جماعت میں شریک نہ ہوسکے تو اس دوسرے امام کی اقتداء کرے یعنی ہر حال میں نماز جماعت میں شرکت کرے(ابن بشر ،ج۱،ص ۱۶۹) اسی طرح آل سعود میں سے ترکی نامی حاکم نے بھی ہر مسجد میں دو امام جماعت مقرر کئے تھے جن میں سے پہلا عام نماز جماعت کے لئے ہوتا تھا اور دوسرا ان لوگوں کے لئے جو کام وغیرہ کی وجہ سے اول وقت نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکیں، اس کامطلب یہ تھا کہ کوئی انسان بھی فرادیٰ نماز نہ پڑھے اور سب کے سب نماز باجماعت پڑھیں۔
۷۔ابن الندیم،ص ۲۸۰،ابن خلکان،ج ۳،ص ۲۵۸ ۔
۸۔صفدی،ج ۶،ص ۳۶۸ ۔
۹۔الاسلام عقیدۃ و شریعۃ،ص ۹۴ ۔
۱۰۔کتاب الایمان،ص ۲۹۳۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16